حکومت اور آزادی و انقلابیوں کے درمیان مذاکرات نازک مرحلہ میں داخل

حکومت اور آزادی و انقلابیوں کے درمیان مذاکرات نازک مرحلہ میں داخل

بالآخر سیلاب کی تباہ کاریوں سے پیدا ہونے والی صورت حال نے پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے کے خلاف لگائی گئی ’’پارلیمنٹ کی عدالت‘‘ 17ستمبر 2014 ء تک ملتوی کر دی گئی ہے غلام علی نے عمران خان کامولانا فضل الرحمنٰ پر چڑھایا ہوا ادھار اتار دیا انہوں نے فرط جذبات میں تمام حدود عبور کر دیں سپیکر کو ان کے عمران خان کے بارے میں ریمارکس ہذف کرنا پڑے ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے سربراہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے نوید دی ہے کہ پی ٹی آئی کے ساڑھے پانچ مطالبے تسلیم کر لئے ہیں ‘ وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا‘ جوڈیشل کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) اور 35 حلقوں کی بنیاد پر 2013ء کے سارے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے پر تعطل پیدا ہوا ہے ‘پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے حوالے ٹی او آرز کا نیا مسودہ کیا جائیگا‘ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ سے آگے کیلئے رہنمائی لیں گے۔
 حکومت نے 4 ستمبر کو پارلیمانی قیادت کی مشاورت سے پی ٹی آئی کے تحریری مسودے کا تحریری جواب دے دیا ہے ۔ پی ٹی آئی انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میںماہرین کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے ہم نے اسے تسلیم کر لیا 2 نکات پر تعطل پایا جاتا ہے ایک ٹرمز آف ریفرنس اور سکوپ آف کمیشن اور سمری ٹرائل اختلافات ہیں 30 حلقوں کی بنیاد پر سارے الیکشن کو کالعدم قرار دینے کی تجویز تسلیم نہیں کی جا سکتی پی ٹی آئی پوری پارلیمنٹ کو ختم کرنا چاہتی ہے وزیراعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ بھی پارلیمانی قیادت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر دونوں گروپوں کے کوئی خفیہ مقاصد ہیں اور وہ حل نہیں چاہتے تو صرف ایک طرف سے نیک نیتی سے معاملات حل نہیں ہو سکتے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بدھ کو بھی پارلیمان میں عمران خان اور طاہر القادری پر برستے رہے اور کہا انکا دھرنا ریاست‘ آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت پر دھاوا ہے، جس کا کوئی آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز نہیں، آئین اور ریاست کے ساتھ کھلواڑ پر دونوں رہنمائوں پر آرٹیکل 6لاگو ہو سکتا ہے، عمران خان کو آئین اور پارلیمانی پریکٹس کی کوئی سوجھ بوجھ نہیں، انہیں جب کور کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پارلیمنٹ پر دھاوے سے آئین کو خطرہ ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں نیا آئین بنا لیں گے، سیاستدان فاسٹ بائولر نہیں اسٹیٹس مین ہوتے ہیں، پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شازیہ مری پارلیمان میں ایک اچھا اضافہ ہے انہوں نے بھر پور انداز میں جہاں جمہوریت کا کیس لڑا وہاں انہوں نے پارٹی قیادت کی شان قصیدہ خوانی بھی کی انہوں نے عمران خان کے کنٹینر پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو عوام کے مسائل کا اتنا ہی غم ہے تو وہ لگثرری کنٹینر میں رہنے کی بجائے دھرنے میں منجی (چارپائی )لگا ئیں اس سے دھرنا میں شریک لوگوں کو اپنے لیڈر کی سنجیدگی کا احساس ہوگا انہوں نے منجی (چارپائی ) ڈالنے کے فوائد بھیٰ گنوائے اور کہا کہ اگر عمران خان چار پائی پر دھرنے میں بیٹھیں گے تو انکے دھرنے میں لوگ زیادہ آئینگے۔