اور چودھری خاموش ہو گئے!

اور چودھری خاموش ہو گئے!

گجرات کے چودھری خاندان نے زندگی میں کئی بار سیاسی جوا کھیلا، کبھی ہارے اور کبھی جیت گئے، ہر جوئے میں یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ چودھری ظہور الٰہی نے بھٹو کی مخالفت میں سرگرمی دکھائی اور اس کا صلہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیاالحق سے پایا۔ ایک جوا، انہوں نے اور کھیلا کہ جس قلم سے ضیاالحق نے بھٹو کی پھانسی کے حکم پر دستخط کئے تھے، وہ تحفے میں مانگ لیا مگر اس تحفے نے ظہور الٰہی کی جان لے لی، انہیں ماڈل ٹائون کی ایک سڑک کے کنارے گولی کا نشانہ بنا دیا گیا، مبینہ طور پر یہ حملہ الذوالفقار نے کیا تھا۔
چودھری پرویز الٰہی نے جنرل غلام جیلانی کی کپتانی میں سیاسی اننگز کا آغاز کیا، نواز شریف بھی ان کے کابینہ کے ساتھی تھے۔ پچاسی میں انتخابات ہوئے، پرویز الٰہی کے دل میں بھی یہ آرزو مچلی کہ وہ نواز شریف کے مقابلے میں چیف منسٹر بن جائیں مگر ہُما نواز شریف کے سر پر بیٹھ گیا، چودھری خاندان کے لئے زندگی کا یہ دوسرا صدمہ تھا مگر وہ اس صدمے کو پی گئے اور نواز شریف کے ساتھ لگ گئے، جونہی ان کا دائو چلا، انہوںنے نواز شریف کا تختہ الٹنے کے لئے بغاوت کر دی، بظاہر پیر پگاڑہ کی انہیں شفقت حاصل تھی مگر جنرل ضیا نے اپنا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا، چودھری ایک بار پھر ہار گئے اور اس بُرے طریقے سے ہارے کہ برسوں تک سر اٹھانے کے قابل نہ رہے، صرف پنجاب اسمبلی کی سپیکر شپ پر گزارہ کرتے رہے، نواز شریف نے یہ احسان بھی ان کی اس حمایت کی وجہ سے کیا تھا کہ انہوںنے ایک بار دریائے چناب کے پُل پر نواز شریف کی جیپ اپنے کندھوں پر اٹھا لی تھی۔
چودھریوں نے جنرل مشرف کے مارشل لا دور میں اگلے پچھلے سارے بدلے چکانے کا فیصلہ کیا، پہلے انہوں نے مشرف کے چہیتے گھوڑے میاں اظہر کو ٹِھبی مار کر ایک طرف کیا اور پھر وہ پنجاب اور وفاق کی سیاست اور حکومت پر حاوی ہو گئے۔ نواز شریف اور اس کا پورا خاندان پابند سلاسل رہا، اور پھر جلاوطن کر دیا گیا، چودھریوں نے اپنے پرانے لیڈر کی طرف مُڑ کر بھی  نہ دیکھا، بے وفائی کاکسی نے درس لینا ہو تو مدرسۂ چودھریاں میں زانوئے تلمذ تہہ کرے۔
دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں چودھریوں کی ق لیگ کو بدتریں شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ نچلے بیٹھنے والے کہاں تھے، ذرا موقع ملا تو زرداری کے ساتھ ڈپٹی وزیراعظم بن کر بیٹھ گئے۔ اسی زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ کہا تھا اور اسی پرویز الٰہی کو محترمہ بے نظیر نے اپنی شہادت سے پہلے قاتل نامزد کیا تھا، مگر حالات کا الٹ پھیر بہت کچھ بدل دیتا ہے، چودھریوں کی قسمت بھی پھر کچھ عرصے کے لئے بدل گئی۔ بلندی کی طرف چلی گئی۔
نوازشریف ایک بار پھر مکمل فارم میں آئے، پچھلے برس الیکشن میں انہیں دو تہائی اکثریت مل گئی۔ اب چودھریوں نے اپنے لئے سب دروازے بند پائے مگر ایک مہرہ پھر بھی انکے ہاتھ لگ گیا ، اس پر انہیں بھاری سرمایہ کاری کرنا پڑی، قادری صاحب کینیڈا سے نازل ہوتے ہیں، زرداری دور میں بھی انہوں نے قسمت آزمائی کی مگر چودھری شجاعت حسین نے شاید انہیں پٹی پڑھائی کہ ابھی دال نہیں گلے گی، ایک سال  کے انتظار کے بعد پھر آنا، اور اب کے چودھری خاندان قادری کے ساتھ کھل کر کھڑا ہو گیا۔ ایسے لگتا تھا کہ سٹیک ہولڈر قادری نہیں بلکہ چودھری برداران ہیں، لاہور میں ظہور الٰہی روڈ کے محلات سے روزانہ دونوں بھائی ایک بڑے کانوائے کے ساتھ نکلتے، یہ حفاظتی کانوائے انہیں عوامی خزانے سے میسر آیا تھا، پتہ نہیں کیسے۔ سابق حکمرانوں کو عمر بھر کی عیاشی کس نے دی، کس قانون اور آئین کے تحت دی ، بہرحال ان کا کانوائے روزانہ منہاج القرآن پہنچتا رہا اور قادری کو بھڑکا کر، سمجھا بجھا کر واپس آتا رہا۔ قادری کو ایسی ہلہ شیری ملی کہ اس نے ایک لشکر کے ساتھ پایہ تخت، پاکستان پر یلغار کر دی، چودھری بھی اپنے ریوالونگ ہیڈ کوارٹر کے ساتھ اسلام آباد جا پہنچے اور یہاں ایک بار پھر قادری اور اس کے لشکریوں کی خاطر مدارات شروع کر دی گئی۔ چودھری اپنے دستر خوان کی وجہ سے محاورے کی طرح مشہور ہیں۔ اس کھابے پر پلنے والوںکو چین کہاں آنا تھا، انہوں نے ریڈ زون میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا، سامنے سے پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور ربڑ کی گولیاں داغیں، ایک شیل نے شجاعت حسین کو ڈھیر کر دیا، بھلے وہ سانس کے پرانے مریض ٹھہرے، کس رن میں اُتر گئے، جہاں سانس لینے کو صرف زہریلی گیس تھی اور چودھری صاحب اکھڑے سانس کے ساتھ ہسپتال جا پہنچے، وہاں سے اپنے گھر اور پھر جیسے چودھریوں پر سکتہ طاری ہو گیا۔
ایک فلم بنی تھی جس کا نام تھا ’’اور محاذ خاموش ہو گیا‘‘ چودھریوں کا محاذ بھی خاموش ہے۔ چھوٹے چودھری اپنے حلقے میں سیلاب زدگان کی مزاج پُرسی کے لئے گئے اور ایک بیان شہباز شریف کے خلاف داغ دیا، اب انہیں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ یاد ہے، نہ الیکشن دھاندلی کے الزامات ازبر رہ گئے ہیں۔ آنسو گیس کے ایک شیل نے ان کی ترکی تمام کر دی۔ بڑا شور سُنتے تھے پہلو میں دل کا ، جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا۔
یہ تھی چودھریوں کی کل اوقات۔ لیکن تاریخ میں ان کی آنیاں جانیاں یاد رکھی جائیں گی۔ وہ جب بھی قادری سے ملاقات کر کے منہاج القوآن کے دفتر سے باہر آتے تو ان کی آنکھوں کی چمک سے یوں لگتا تھا کہ اقتدار کا چھینکا ابھی ٹوٹا کہ ٹوٹا مگر ہائے کم بخت! یہ چھینکا تو نہیں ٹوٹ سکا مگر چودھریوں کی آس ٹوٹ گئی اور کمر ہمت بھی، کیا معلوم کتنا خرچہ کر بیٹھے تھے یار لوگ!
اسلام آباد اور گجرات کے صحافی دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ چودھریوں کی خیر خیریت سے ضرور مطلع رکھیں۔ کیونکہ اب اخبارات اور ٹی وی چینلز سے ان کا تذکرہ غائب ہو گیا ہے مگر پرانی دوستی کے ناطے میرا تو فرض بنتا ہے کہ ان کی نقل و حمل سے باخبر رہوں، دعا یہ ہے کہ وہ جہاں رہیں، جس حال میں رہیں، خوش رہیں۔ چودھریوں کی بدقسمتی کا آغاز تو اس دن ہو گیا تھا جب شعیب بن عزیز ان کا ساتھ چھوڑ کر واپس پرانے باس شہباز شریف کے پاس پہنچ گئے تھے مگر ان کی کمی فوٹو گرافر اقبال چودھری اور محمد خاں بھٹی نے پورا کرنے کی کوشش ضرور کی۔ مگر کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی۔