صبر کس لئے ؟۔۔۔

صبر کس لئے ؟۔۔۔

عدالت کہتی ہے کہ وہ صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ صبر تو وہ کر رہے ہیں۔کس نے کہا ہے صبر کرنے کو۔ آخر کیا مجبوری ہے شریف فیملی کی جو عدالتوں کے پھیرے لگانے پڑ رہے ہیں ؟ کچھ تو گڑ بڑ ہے جو یوں عدالتوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں اور باہر نکل کر سیاست بچانے کے لئے بیان داغ دیتے ہیں۔ میاں صاحب کی صفوں میں ایسے ساتھی موجود ہیں جو شریف خاندان پر جان نثار کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں لیکن اسٹبلشمنٹ سے بھی گہرے خفیہ مراسم رکھے ہو ئے ہیں۔ ادھر میاں صاحب کو تقریریں اور بیانات رٹاتے ہیں اور دوسری طرف فوج کی سینئر قیادتوں سے وفاداری نبھا رہے ہیں۔ پاکستان میں فوج کو مستقل طاقت تصور کیا جاتا ہے لہٰذا فوج کی گڈ بک میں رہنا سب کی سیاسی و مراعاتی مجبوری ہے جبکہ میاں صاحب بھی پہلی صف میں ہاتھ باندھے کھڑے ہیں البتہ فوج نے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔میاں نواز شریف اس وقت تنہا ہیں۔ ایک مرتبہ پھر تنہا ہو گئے ہیں۔ خوشامدیوں کے چہرے تو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق کا مطالعہ زیرو ہے۔ سینئرقانون دان نعیم بخاری نے کہاکہ نوازشریف کیلئے ان کی اہلیہ بہت محترم خاتون ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اہلیہ کاخیال رکھیں۔یہ ملک سے باہررہنے کابہت اچھا بہانہ اور طریقہ ہے۔آپ کی پارٹی کاکیابنے گا؟ آپ کوکیافکرہے اپنی پارٹی کی؟ آپ نے کتنی بارچارسالوں میں اسمبلی اٹینڈ کی اور قانون سازی میں حصہ لیا؟ نعیم بخاری نے کہاکہ آپ تین باروزیراعظم بنے لیکن اس بار”نپے“ گئے ہیں۔ایک بارغلام اسحاق اور دوسری بارجنرل کاکڑنے نپا۔

پھر آپ آئے اچھا بھلاپرویز مشرف آپ کے ساتھ تعاون کررہاتھا لیکن آپ نے کہاان کوفارغ کرو۔میاں صاحب کی فیملی کا کہنا ہے کہ میاں صاحب ڈیپریشن یا ذہنی دباﺅ کی صورت میں غسل سے خود کو ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ جیل زوال ناکامی بدنامی جیسی باتیں انہیں ذہنی دباﺅ کا شکار کردیتی ہیں۔میاں صاحب قانونی لڑائی ہار چکے ہیں اس لئے اداروں کے ہاتھوں سیاسی شہید بننے کا آخری پتہ استعمال کر رہے ہیں۔ مولانا طارق جمیل بھی سیاسی ہو چکے ہیں۔ مولانا صاحب کی شہرت کی گڈی بھی چڑھائی گئی ہے۔ مولانا طاہر القادری سے بھی کام لیا جاتا ہے اور مولانا طارق جمیل کی روحانیت کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ کبھی عمران خان کی کھانے کی میز پر ایک ساتھ کھانا تناول فرما رہے ہوتے ہیں اور کبھی میاں نواز شریف کو وظیفہ بتانے پہنچے ہوتے ہیں۔ میاں صاحب جہاں پہنچ چکے ہیں واپسی آسان نہیں۔ اب تو پارٹی متحد رکھنے کے لئے ہاتھ پاﺅں مارے جارہے ہیں۔ حقیقی جمہوریت میں مائنس ون کی ٹرمنا لوجی کبھی سنی نہ دیکھی۔پاکستان میں ون مین حکومت وردی میں آئے یا سوٹ شیروانی میں بہر حال جمہوریت ہر گز نہیں کہلائی جا سکتی۔ آمرانہ ون مین حکمرانی پاکستان کا طرز حکومت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام دس دس سال فوجی حکومتوں کو بھی برداشت کرلیتے ہیں۔ اچکن سوٹ والی جمہوریت ناکام ہونے لگے تو وردی والی جمہوریت آجاتی ہے۔ جمہوریت کا ڈھونگ اب فلاپ ہو چکا ہے۔ جو بھی آئے لیکن ملک و قوم کا بھلا کرے تو عوام کو اعتراض نہیں۔ خواہش تو یہی ہوتی ہے کہ یہ جمہوری آمر پانچ سال مکمل کر سکیں۔ آصف زرداری کو نواز شریف نے فرینڈلی اپوزیشن سے پانچ سال مکمل کرا دئے البتہ زرداری میاں صاحب کی حکومت کو فوری گھر بھیجنے پرمصر ہیں۔ زرداری کو اگلی باری کا چکمہ دیا جا رہا ہے ادھر عمران خان کو سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں لیکن اچانک کسی شوکت عزیز کو لا کر بٹھانے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ نواز شریف اپنی صفوں میں غدار تلاش کریں جو اداروں کے بھی دوست ہیں اور میاں صاحب کے ساتھ بھی پرانی وفاداری کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ عدلیہ کا بیان ہے کہ ان کے صبر کو داد دی جائے اور مریم نواز کا کہنا ہے کہ صبر نواز شریف کر رہے ہیں۔ جبکہ عوام کے صبر و برداشت کا کوئی ذکر ہی نہیں ؟ کبھی مہینوں کے دھرنے کبھی لانگ مارچ لیکن وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اقتدار کی رسہ کشی اور اداروں میں تصادم کے علاوہ اس ملک کے حصے کچھ نہیں آیا۔ کرپشن کی گنگا میں سب اداروں نے ہاتھ دھوئے ہیں۔کوئی بھی صاف نہیں۔پھر غصہ تو نکالا جائے گا۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ سب ایک دوسرے کا گند جانتے ہیں۔ پھر کوئی ایک کسی دوسرے کا فیصلہ کیوں کر قبول کرے گا۔
٭٭٭٭٭