چیئرمین شِپ ق لیگ کو دے دیں!

کالم نگار  |  اثر چوہان
چیئرمین شِپ  ق لیگ کو دے دیں!

محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو 2008 ءکے عام انتخابات میں ہمدردی کا ووٹ مِلا۔ یہاں تک کہ مقتدر قُوّتوں نے نان گریجویٹ آصف علی زرداری کو بھی صدرِ پاکستان مُنتخب کروا دِیا۔ سینٹ آف پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہو گئی اور اُس اکثریت کی باقِیات کی بنیاد پر سینٹ کے تازہ ترین انتخابات کے بعد بھی پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے۔

”وزیر ِاعظم کی دستگِیری؟“
جنابِ آصف زرداری نے میاں نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ میں ”Friendly Opposition“ کی اور کامیاب رہے۔ اُن کے اور پیپلز پارٹی کے دوسرے لِیڈروں کے خلاف قومی دولت لُوٹنے اور کرپشن کے دوسرے مقدمات میں حکومت کی طرف سے عدم پَیروی کے باعث ابھی تک کوئی بھی مُلزم سزا یاب نہیں ہُوا۔ یہاں تک کہ پارٹی سرکاری خزانے سے 82 ارب روپے کا غبن کرنے والا سینیٹر جہانگیر بدر کا برادرِ نِسبتی اوگرا کا سابق چیئرمین توقِیر صادق ضمانت پر رہا ہو کر پُرامن زِندگی بسر کر رہا ہے اور وزیرِ اعظم نواز شریف کا ”حُسن اخلاق“ دیکھئے کہ 9 مارچ کو ملتان کی تقریب میں موصُوف نے سابق وزیرِ اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں سٹیج پر اپنے ساتھ بٹھا لِیا یعنی....
”دوست آں باشد کہ‘ گِیر دستِ دوست
در پریشاں حالی ودرماندگی“
جنابِ وزیرِ اعظم نے حضرت غوثِ اعظم المعروف ”پِیر دستگِیر“ کے فرزند کی ”دست گِیری“ کر کے ثواب حاصل کر لِیا ہے؟۔
”رضائے ربّانی؟“
جناب آصف زرداری کی فراست دیکھئے کہ انہوں نے جناب الطاف حسین، چودھری شجاعت حسین اور جناب اسفند یار خان ولی سے اپنی دوستی کا نیا دَور شروع کر کے اپنی پارٹی کے سینئر رہنما میاں رضا ربّانی کو سینٹ کی چیئرمین شِپ کے لئے اپوزیشن کا ”مُتفقّہ اُمیدوار“ نامزد کروا لِیا ہے۔ محض ریکارڈ درُست رکھنے کے لئے عرض کر رہا ہُوں کہ ”دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالت کے قیام کے لئے آئِین میں 21 وِیں ترمیم کے حق میں پارلیمنٹ میں ووٹ دے کر سینیٹر رضا ربّانی آبدِیدہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”میرا ووٹ میری پارٹی کی امانت تھی ۔ مَیں نے اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دِیا“۔ پیپلز پارٹی کے ایک اور سینیٹر ¾ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ” 50 سال تک فوجی عدالتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والا اعتزاز احسن فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں ووٹ دے کر آج (30 جنوری کو) مر گیا ہے“۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے وفاداری کی کہانی (پارٹی کی تاریخ میں) سونے کی روشنائی سے لِکھی جائے گی۔ (ممکن ہے یہ تاریخ لِکھنے کے لئے ”حُسنِ اخلاق“ کا مظاہرہ کرتے ہُوئے۔ خادمِ اعلیٰ میاں شہباز شریف کو 12 فروری کو پنجاب کے ضلع چنیوٹ کے موضع رجوعہ سے برآمد ہونے والے سونے کے ذخائر میں سے کچھ صافی سونا ”Refined Gold“ پیپلز پارٹی کے تاریخ نوِیسوں کو مُفت دینا پڑے!۔ بہر حال جنابِ زرداری کے پاس سینٹ کی چیئرمین شِپ کے لئے دو ہی پارٹی کے وفادار لِیڈر تھے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن اور میاں رضا ربّانی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے تو اپنے اصُول کے خلاف اپنی مرگِ ناگہانی کا خُود ہی اعلان کردِیا تھا چنانچہ جنابِ زرداری نے جناب الطاف حسین، چودھری شجاعت حسین اور جناب اسفند یار خان ولی کو رام کر کے چیئرمین شِپ کا ”ہُما“ میاں رضا ربانی کے سر پر بٹھا دِیا۔
”مولانا فضل اُلرحمن کی سیاست؟“
مولانا فضل اُلرحمن نے میاں رضا ربّانی کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کے لئے جنابِ زرداری سے وقت مانگ لِیا ہے حالانکہ حمایت کرنے پر مولانا صاحب کی جمعیت ِ عُلماءاسلام کو سینٹ کی ڈِپٹی چیئرمین شِپ بھی پیش کش بھی کردی گئی ہے۔ (تادمِ تحریر) مولانا فضل اُلرحمن جناب وزیرِ اعظم کے اتحادی ہیں۔ وہ خُود وفاقی وزیر کی مراعات کے ساتھ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ جے یو آئی کے مولانا محمد خان شیرانی چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل جناب محمد اکرم دُرّانی وفاقی وزیر اور مولانا عبداُلغفور حیدری وزیرِ مملکت۔ حیدری صاحب تازہ تازہ سینیٹر مُنتخب ہُوئے ہیں۔ (انہیں مکمل اختیارات کے ساتھ وفاقی وزیر بھی بنایا جا سکتا ہے) لیکن متحدہ اپوزیشن کی طرف سے اُن کی جمعیت کو سینٹ کی ڈِپٹی چیئرمین شِپ کی پیش کش کے بعد کیا مولانا فضل اُلرحمن چھوٹے صُوبوں کو چیئرمین شِپ دیئے جانے کے مطالبے کی روشنی میں اپنے کسی بھائی بند کے لئے اِسی منصب کی خواہش نہیں کریں گے؟۔ مِرزا غالب نے کہا تھا کہ....
وفا کیسی کہاں کا عِشق، جب سر پھوڑنا ٹھہرا!
تو پھر اے سنگدِل، تیرا ہی، سنگِ آستاں کیوں ہو؟
اور یہاں تو سر پھوڑنے کا معاملہ بھی نہیں ہے۔ سِیدھا سادہ سودا ہے ”کچھ دو اور کچھ لو“ کی ”اصُولی اور وصُولی سیاست“ کے تحت لیکن جنابِ زرداری کے کیمپ میں پھر سے جانے کے لئے مولانا فضل اُلرحمن کو 101 بار سوچنا ہوگا کہ رضاربّانی کے اقبالی بیان کی روشنی میں (کہ”مَیں نے 21 وِیں ترمیم کے حق میں اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دِیا ہے“) شریعت کیا کہتی ہے؟ کہ کیا ضمیر کے خلاف ووٹ دینے والے مُنتخب چیئرمین سینٹ کے نائب بن کر جے یو آئی کے مُنتخب ڈِپٹی چیئرمین صاحب کا ضمیر مطمئن رہے گا ؟یا مولانا فضل اُلرحمن اِسے ”رضائے ربّانی“ (ربّ دی مرضی) سمجھ کر اپنی سیاست کو مزید آگے تک لے جائیں گے؟
”چیئرمین شِپ ؟ ق لیگ کو دے دیں!“
بے شک دیوانِ حافظ سے فال نِکلوا لیں یا ضرورت سے زیادہ مذہبی مسائل پر بے تُکّے بیانات جاری کرنے والے وفاقی وزیرِ مذہبی امُور سے سردار محمد یوسف سے اِستخارہ کروا لیں؟ لیکن وزیر ِاعظم نواز شریف کے ستارے گردِش میں ہیں۔”At The Elventh Hour“ (آخری وقت میں) 17سال بعد خادمِ اعلیٰ پنجاب کا جنابِ الطاف حسین کو ٹیلی فون۔ نون لیگ کے دوسرے قائدِین کی چودھری شجاعت حسین کے درِ دولت پر حاضری اور اسفند یار ولی خان سے رابطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔ مجاہدِ تحریکِ پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کی (پہلی اور آخری) خواہش یہی تھی کہ ” مسلم لیگ کے سارے دھڑے مُتحد ہو کر قائدِ اعظمؒ کی خواہش کے مطابق پاکستان کو حقیقی معنوں میں ”جدید‘ اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت بنا دیں“۔میاں نواز شریف جناب مجید نظامی کو صدر ِپاکستان تو مُنتخب کرانے کو تیار تھے لیکن موصُوف نے مسلم لیگ کو مُتحد کرنے میں کوئی دِلچسپی نہیں لی۔ مسلم لیگ کے کئی دھڑے ”اپنا اپنا مسلم اور اپنی اپنی لیگ“ لئے پھرتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین سے میری زِندگی میں صِرف دوبار اور چودھری پرویز الٰہی سے تین بار مُلاقات ہُوئی ہے لیکن....
”ہم سُخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں“
کے مِصداق میرا وجدان کہتا ہے کہ ¾ شریف برادران اور اُن کی حکومتیں بہت ہی مُشکل میں ہیں۔ چودھری شجاعت (بے شک حلالہ وزیرِ اعظم ہی ہیں) لیکن وزیرِاعظم تو رہے ہیں اور چودھری پرویز الٰہی ”پڑھے لِکھے پنجاب“ کے وزیرِ اعلیٰ۔ جنابِ وزیر ِاعظم کو کسی نہ کسی سے اور کسی نہ کسی طرح کا ”مُک مُکا“ تو کرنا ہی پڑے گا! تو کیوں نہ مسلم لیگ ق سے برابر کی سطح پر ”مُک مُکا“ کرلِیا جائے؟ جنابِ زرداری نے مسلم لیگ ق کو ”قاتلِ لیگ“ کا خطاب دے کر چودھری پرویز الٰہی کو ”ڈِپٹی پرائم منسٹر“ بنا دِیا تھا۔ محترم وزیرِ اعظم صاحب! آپ بھی وقت کی نزاکت کو سمجھیں اورحوصلہ کریں! اور سینٹ کی چیئرمین شِپ کا تاج مسلم لیگ ق کے سر پر سجا دیں! آپ کے باقی مسائل حل کرنے میں چودھری صاحبان آپ کے معاون ہوں گے۔ ”آبَیل مجھے مار“ کے بجائے ”جابَیل اُسے مار“ کی سیاست ہمیشہ کامیاب رہتی ہے۔ کبھی تاریخ بھی پڑھ کر دیکھ لِیا کریں؟
(نوٹ: یہ کالم چیئرمین سینٹ کے لئے رضا ربانی کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے کے اعلان سے قبل تحریر کیاگیاہے۔)