رضا ربانی کی قسمت کا چمکتا ستارہ

کالم نگار  |  سعید آسی
رضا ربانی کی قسمت کا چمکتا ستارہ

میری فہم میں تو ایسی کوئی ترکیب موجود نہیں کہ حکمران مسلم لیگ ن کوئی تگڑم لگا کر چیئرمین سینٹ کے لئے اپنا امیدوار منتخب کرا سکتی تھی کیونکہ نمبرز گیم میں اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری تھا۔ گزشتہ روز وقت ٹی وی کے پروگرام ”نیوز لاﺅنج“ میں چیئرمین سینٹ کے الیکشن پر بحث اٹک گئی۔ پروگرام کی میزبان ام رباب کا خیال تھا کہ مسلم لیگ ن چونکہ حکومت میں ہے اس لئے سینٹ میں اپنی اکثریت نہ ہونے کے باوجود وہ اپنا چیئرمین منتخب کرا سکتی ہے مگر مجھے ایسی کوئی جادو کی چھڑی حکمران مسلم لیگ ن کے ہاتھ میں نظر نہ آئی۔ صرف ایک ہی ممکنہ فارمولا قابل عمل ہو سکتا تھا جس کا میں نے اس پروگرام میں بھی اظہار کیا کہ سہولتوں کی جاری سیاست میں اگر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی باہم اتحاد کر لیں تو دونوں جماعتیں ایک واضح عددی اکثریت بنا کر ایک ایک منصب اپنے لئے حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی سے ہٹ کر چیئرمین سینٹ کے لئے اپنی راہ نکالنے کی کوشش کرتی تو اس میں کامیابی کسی معجزے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی تھی ورنہ اس وقت پیپلز پارٹی اپنی 27 نشستوں کے ساتھ ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور اے این پی کے ساتھ اتحاد کرکے سینٹ کے موجودہ ہاﺅس میں مطلوبہ اکثریت کے 47 نمبر حاصل کر چکی ہے اور بے شک عمران خان اپنے 6 ارکان کو سینٹ میں نہ بھجوائیں اور چاہے فاٹا کے چار ارکان کی خالی نشستوں کے بغیر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا انتخاب منعقد ہو جائے، پیپلز پارٹی پوری سہولت کے ساتھ اپنی کسی اتحادی پارٹی کو ڈپٹی چیئرمین کا منصب دے کر اپنے نامزد چیئرمین رضا ربانی کو منتخب کرانے کی مضبوط پوزیشن میں آ گئی تھی جبکہ حکمران مسلم لیگ ن چاہے مولانا فضل الرحمان کو منا کر حکومتی اتحاد میں شامل بھی رکھتی تو اپنی بلوچستان والی اتحادی جماعتوں کے سات آٹھ ووٹوں کو ملا کر بھی نمبر گیم میں 40 کا ہندسہ کراس نہ کر پاتی۔ یقیناً اس حقیقت کے احساس نے ہی وزیراعظم کو رضا ربانی کے لئے اتفاق رائے کا اعلان کرنے پر مجبور کیا ہو گا، پھر جناب! آپ نے ہارس ٹریڈنگ اور بلیک میلنگ کی سیاست سے اس سسٹم اور قوم کو خلاصی دلانی ہے تو اس کے لئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کا موقع بھی آپ کے لئے غنیمت ہے۔ اگر سسٹم کو بچانے کے نام پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی گزشتہ سات آٹھ سال سے ایک دوسرے کے لئے باہمی سہولتوں کی سیاست کر رہی ہے جس کے تحت مسلم لیگ ن نے گزشتہ دور حکومت میں حکمران پیپلز پارٹی کو قدم قدم پر سہارا دے کر اس کے ڈولتے، ڈوبتے اقتدار کو بچائے رکھا اور آئینی میعاد کے پانچ سال مکمل کرائے اور پھر مسلم لیگ (ن) کے موجودہ اقتدار میں اسے دھرنا تحریکوں سے پل پل لگنے والے جھٹکوں سے بچانے کے لئے پیپلز پارٹی نے بھی سسٹم کو بچانے کے ڈھکوسلے کے تحت حکمران جماعت کا ساتھ نبھایا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم سے 21ویں آئینی ترمیم تک دونوں جماعتوں نے باہم ایکا کرکے سہولتوں کی منافقانہ سیاست کو پروان چڑھایا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے لئے باہم اتفاق کیا ہے اور بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کئے رکھنے کے معاملہ میں بھی ”اتفاقِ باہمی“ کے تحت سپریم کورٹ کو زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے تو جناب اب ایسی کون سی پھانس اٹک گئی تھی کہ آپ چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

آپ نے تصور تو کیا ہو گا کہ رضا ربانی پر آپ دونوں جماعتوں کے باہم متحد ہونے سے آپ دونوں کو سیاسی بلیک میلنگ کے ماہر سیاسی گروپوں سے کیسے خلاصی حاصل ہوئی ہے۔ اس وقت سینٹ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مجموعی نشستیں 53 ہیں جو فاٹا اور تحریک انصاف کے ارکان سمیت پورے ہاﺅس میں واضح عددی اکثریت ہے۔ اگر یہ دونوں جماعتیں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے پہلے ہی باہم متحد ہو جاتیں تو فاٹاکے ارکان بھی بے وقعت ہو کر اپنے دام لگوانے کی علت بروئے کار لانے کا نہ سوچتے جس سے ہارس ٹریڈنگ کی لعنت پر بھی ضرب کاری لگتی۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان بھی پوائنٹ سکورنگ کی سیاست میں ”یوں بھی ہیں اور یوں بھی“ والی پھرتیاں دکھانے سے معذور رہتے اور حکومتی اتحاد میں جو مل گیا ہے اسی پر قناعت کئے بیٹھے رہتے جیسا کہ اب انہوں نے کیا ہے جبکہ ایم کیو ایم متحدہ بھی اس صورتحال میں سیاسی بلیک میلنگ کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کو اپنی اہمیت کا احساس دلائے رکھنے کے زعم میں نہ رہتی اور اس طرح ایک دو نشستیں رکھنے والی دوسری جماعتیں تو بس اپنے ضمیر کے مطابق ہی ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے پر مجبور ہو جاتیں۔ تو جناب! آپ نے اب تک باہمی سہولتوں کی سیاست کی ہے اورانگڑائیاں لیتی اصولوں کی سیاست پر غلاف ہی پڑا رہنے دیا ہے تو یہ اچھا کیا ہے۔ 22ویں آئینی ترمیم پر پیپلزپارٹی کے تحفظات آپ نے پہلے ہی اس مجوزہ ترمیم کے ارادے سے رجوع کرکے دور کر دئیے ہیں۔ اب صرف اس صدارتی آرڈیننس کا ایشو ہے جو آپ نے سینٹ کے انتخابات سے ایک روز قبل رات کی تاریکی میں جاری کیا اور اس کے تحت فاٹا کے ارکان قومی اسمبلی کا چار ووٹ کاسٹ کرنے کا حق سلب کیا تو اب آپ یہ آرڈنینس واپس لے کر بیک وقت تین فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے لئے آپ کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد یقینی ہو جائیگا۔ دوسرا یہ کہ اس انتخاب سے پہلے پرانے طریقہ کار کے مطابق فاٹا کی چار خالی نشستوں کا انتخاب بھی ممکن ہو جائے گا اور تیسرا یہ کہ اس آرڈیننس کی بنیاد پر آپ کے گلے پڑنے والا آئینی پھندہ بھی آپ کی گردن سے ہٹ جائے گا کیونکہ یہ آرڈیننس واپس لئے جانے کی صورت میں اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت آئینی درخواست از خودغیر موثر ہو جائے گی اور آپ کو اس ممکنہ عدالتی فیصلہ سے خلاصی مل جائے گی جو بدنیتی کی بنیاد پر اس آرڈنینس کے کالعدم قرار دیئے جانے کی صورت میں آپ کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کی کارروائی کا راستہ کھول سکتا ہے۔ سہولتوں کی اس منافقانہ مفاہمانہ سیاست کی بنیاد پر آپ کو اتنے ڈھیر سارے فائدے سمیٹنے کا موقع مل رہا ہے تو حضور والا، ہم نیک و بد جناب کو سمجھائے دیتے ہیں۔
ابھی میں اپنے ان دلائل کو ضبط تحریر میں ہی لا پایا تھا کہ حکومت کی جانب سے یہ آرڈیننس واپس لینے کی بھی خبر آ گئی، سو حکمرانوں کو مبارک ہو کہ ان کے باقی ماندہ تین سال بھی سہولتوں کی اس سیاست کے سہارے نکل جائیں گے اور پھر رضا ربانی ایسی شخصیت ہیں جنہیں چیئرمین سینٹ کے لئے قبول کر کے آپ کو اصولوں کی قربانی کا پچھتاوا بھی لاحق نہیں ہو گا۔ مجھے تو سہولتوں والی باہمی مفاداتی یا ”یوں بھی ہے اور یوں بھی“ والی آنے والی سیاست میں رضا ربانی کے چیئرمین سینٹ منتخب ہونے میں پہلے بھی کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی تھی اور میں انہیں پیشگی مبارکباد دینے کا سوچ رہا تھا۔ اب وزیراعظم نواز شریف کو بھی اپنے طلب کردہ سیاسی قائدین کے اجلاس میں رضا ربانی کے سر پر چیئرمین سینٹ کا ہُما بیٹھتا نظر آ گیا ہے تو ان کے لئے ستے خیراں۔