حکومت بھی ملک ریاض کے سپرد کر دیجئے

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
حکومت بھی ملک ریاض کے سپرد کر دیجئے

حضرت عمر ؓ کہ یہ ترکیب ہر گز نہیںسوجھی کہ وہ اپنی وسیع مملکت کے لئے ایک فیڈرل آئین بنا لیتے اور اس میں ایک ایسی اٹھارویں ترمیم ڈال دیتے جس کے تحت انہیں دریائے فرات کے کنارے بھوک یا پیاس سے مر جانے والے کتے کے لئے ذمے دار نہ ٹھہرایا جا سکتا۔
صحرائے تھر میں ہزاروں کی تعداد میں بھوک کے مارے بچے علاقے کے ایک ہسپتال کا رخ کر رہے ہیں، ان میں سے درجنوں موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔سندھ حکومت نے کمشنر کو فارغ کر دیا، چیف منسٹر نے صرف اپنی غلطی تسلیم کی مگر سندھ میلہ منانے والے بلاول کے منہ سے ہمدردی کے بول سننے کو ابھی تک کان ترس رہے ہیں، وہ ٹویٹر پر بیٹھا ،موقع بے موقع اپنے رد عمل کاا ظہار کرتاہے، مگر اس کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ تھر میںموت کے برہنہ رقص پرگونگا ہے۔
پنجاب میں یوتھ فیسٹیول اور جشن بہاراںمیںمگن حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ تھر میں بچوں کی موت کے سانحے کی تحقیقات کروائے گا، اس نوجوان نے پرچم بنانے اور قومی ترانہ گانے کے ریکارڈ بنانے کی کوشش کی اور یوتھ میلے میں ایسے ریکارڈ بھی بنے کہ لوگ وہ پرانا شعر بھی بھول گئے کہ تم نے کمال کر دیا اہل کمالیہ۔اس میلے میں ایک سے ایک بڑھ کر کمال ہوا۔ وہ تھر سانحے کی تحقیقات میں کامیاب ہو گیا تو ایک نیا ریکارڈ بن جائے گا۔دوسرے صوبے کے معاملات میں دخل اندازی کا۔اور وہ بھی ایک شہزادے کے ہاتھوں۔
پاکستان کا آئین وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات سے فارغ البال کر دیتا ہے۔میاںنواز شریف لوڈ شیڈنگ کے لئے بلا وجہ طعنے سن رہے ہیں، وہ ایک ا ٓئینی ترمیم سے بجلی کے پورے نظام کو صوبوں کے حوالے کر سکتے ہیں، دہشت گردی کے لئے کوئی انہیںمورد الزام نہیں ٹھہرا سکتا کیونکہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے، فاٹا کا علاقہ صدر کی تحویل میں ہے جس کے لئے ممنون حسین جوابدہ ہیں ، میاں صاحب کے لئے ستے خیراں، وہ خواہ مخواہ جہاز لے کر مٹھی کی طرف روانہ ہو گئے، مقامی انتظامیہ نے وزیرا عظم کو بد نام کرنے کے لئے سیکورٹی سخت کر دی، اس چھوٹے سے شہر کو ہر طرف سے سیل کر دیا، پورے علاقے میں مٹھی کے واحد ہسپتال کے دروازے بھی بند کر دیئے، اندر والے مریض باہر سے کوئی دوائی نہیں خرید سکتے اور باہر والے مریض اندر معائنے کے لئے نہیںجا سکتے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ مٹھی میں ہمارے دوست عطا الحق قاسمی کا ذیلی دفتر ہوتا، سو وزیر اعظم ایک لینڈ کروزر پکڑتے، اور خاموشی سے عطا کو ملنے مٹھی پہنچ جاتے، یہ پروٹوکول اور ہٹو بچو کی صدائیں تو بلند نہ ہوتیں۔
سب سے دلچسپ بات پنجاب کی ہونے والی بہو شرمیلا فاروقی نے کی ہے۔ان کے سسر اور ہم سب کے دوست احمد ریاض شیخ نے اتوار کی دوپہر کو پرل کانٹی نینٹل میں ایک ضیافت برپا کی ، شرمیلا کے جان سوز تبصرے کی وجہ سے میرا دل اس ظہرانے میں شرکت پر آمادہ نہ ہو سکا، شرمیلانے کہا تھا کہ تھر کے بچے بھوک سے نہیں ، بیماری کی وجہ سے مرے۔ا ب پتہ چلا ہے کہ بھوک کسی بیماری کا نام نہیں بلکہ یہ کوئی فیشن ہے جو امیر طبقہ اپنے موٹاپے اور شوگر کو کنٹرول کرنے کے لئے شوقیہ اپناتا ہے۔تھر کے بچوں کی جو تصویریں ٹی وی چینلز نے دکھائی ہیں ، وہ واقعی بیمار ی سے نڈھال بچوں کی لگتی ہیں، کسی کی ناک میں نالی ڈالی گئی ہے، کسی کے گلے میں نالی دھنسی ہوئی ہے اور کسی کے سر کو برف کی ٹکور کی جا رہی ہے۔شرمیلا جی کے اس تبصرے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری سے لوگ مرنے لگیں تو اس میں حکومت کیا کر سکتی ہے۔ جیسا کہ پنجاب میں ڈینگی سے لوگ مرے اور بے تحاشہ مرے، پھر دل کی غلط دواﺅں کی وجہ سے مرے اور ڈھیروں کے حساب سے مرے اور موت نے تو زہریلی شراب کا بھی بہانہ بنا لیا تھا ، یہ سب کچھ کسی صحرا میںنہیں ، جاتی امرا کے نواحی شہر لاہور میں ہو ا جسے شہباز شریف کا تیسری مرتبہ پایہ تخت بننے کا اعزاز حاصل ہوا ۔شرمیلا جی نے جو تبصرہ کیا ہے، وہ ہمیںبرا تو لگا ہے لیکن اس نے ایسا گگلی نما تبصرہ کیا ہے کہ اپنے حریفوں، شریف برادران سے اگلے پچھلے بدلے چکا لیے ہیں۔ شرمیلا جی ایک کام اور کر سکتی تھیں، جوہر ٹاﺅن کے تھانیدار کو مٹھی میں چند دن کے لئے لے جاتیں جس نے اس راز سے پردہ اٹھا دینا تھا کہ بچوں کی اموات کی وجہ تو ڈائن ، خونخوار اور بدکار مائیں ہیں۔اور پھر ان چند ہزار ماﺅں کو حوالات میں داخل کر کے سارا کیس داخل دفتر کیا جا سکتا تھا۔صرف ایک ماں جیل جانے سے بچ سکتی تھی جو اپنے چند ماہ کے معصوم کو چھوڑ کو دوسری دنیا کے لئے عازم سفر ہو چکی۔
میری مانیں ، جہاں ہم نے حضرت عمرؓ کے دور کے آئین کا حلیہ بگاڑ کر اسے اٹھارویں ترمیم میں ڈھال کر اپنی وفاقی حکومت کو ہر قسم کی ذمے داری سے سبکدوش کر دیا ہے، وہاں ایک ترمیم اور کر لی جائے اور اس میں دو متوازی حکومتوں کے قیام کی گنجائش نکال لی جائے ، ایک حکومت تو عوام کے ہر دل عزیز نمائندوں کے ہاتھ میں رہے اور دوسری حکومت ملک ریاض کے حوالے کر دی جائے، آج تک بڑے سے بڑا نعرہ یہی لگا تھا، روٹی ، کپڑا اور مکان۔ان میں سے دو نعروں پر تو ملک ریاض عمل کر رہے ہیں ،ہماری حکومتیں تھر میں گندم پہنچا رہی ہیں اور ملک ریاض وہاں دستر خوان سجا چکا ہے، اس نے سیلاب اور زلزلے کے شکار لوگوں کو گھر بھی بنا کر دیئے، کوئی شخص صومالیہ کے بحری قزاقوں کا یر غمال بن جائے تو بھی وہی کروڑو ں کاتاوان ادا کرتا ہے، زرداری نے من پسند صحافیوں اور دوستوں کا حج کروایا، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ اس کی رقم قومی خزانے میں جمع کر ائی جائے تو ملک ریاض اور ان کے دوست حاجی نواز کھوکھر نے اپنی جیب سے یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کروا کر زرداری کی جان چھڑوائی۔میں حاجی نواز کھوکھر کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں ، انہوں نے اپنے بیٹے کے ولیمے پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب لگایا، ولیمہ منسوخ کیا اور اس کی رقم نظریہ پاکستان کے مدارالمہام ڈاکٹر مجید نظامی کے حوالے کر دی۔ملک ریاض کا دعوی ہے کہ مکان فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے مگر اس فرض کی ادائیگی بھی وہی کر رہا ہے، میں یہاںملک ریاض کے کاروبار کا اشتھار نہیں بننا چاہتا ، مگر ملک صاحب سے عرض کروں گا کہ وہ محمد الرسو ل اللہ ﷺ کے چھپر نما گھر کی سنت کی پیروی کریں ، خدا کی قسم ! وہ پاکستان کے بیس کروڑ افراد کو اپنے نبی ﷺ جیسے گھر مفت بنا کے دے سکتے ہیں، اور رہتی دنیا تک لوگوںکے دلوں پر راج بھی کرتے رہیں گے۔ان کے پاس اتنا پیسہ بھی بچ رہے گا جس سے روٹی، کپڑا، تعلیم اور صحت کی ضروریات کی کفالت بھی کر سکیں گے۔باقی اصل حکومت نے موجیں اڑانی ہیں ،جی بھر کے اڑاتی رہے، آج چین، کل جرمنی، پرسوں لندن اور اترسوں ترکی ۔ کبھی کبھار واشنگٹن۔ہر ملک، ملک ما ست!