دہشت گردی کی بھل صفائی

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
دہشت گردی کی بھل صفائی

میں فرانسیسی پولیس کے لئے فکر مند ہوں کہ خدا اسے پاکستانی مخصوص میڈیا سے بچائے اور ہماری عدلیہ کے ہتھے بھی نہ چڑھنے دے ورنہ فرانسیسی پولیس کا وہی حشرہو گا جو سانحہ اخروٹ آباد اور سانحہ کراچی میں ہمارے رینجرز کے جوانوں کا ہوا۔

اور میں نے یہ جاننے کے لئے ساری رات انٹر نیٹ کو چھاننے میں بسر کر دی ہے کہ کیا فرانس میں کسی ملٹری کورٹ کی طرف سے مبینہ ملزموں کو گولیوں سے بھوننے کا فیصلہ صادر ہوا، میںنے یہ چھان پھٹک بھی کی کہ کیا فرانس کے کسی کونے کھدرے سے اپنی پولیس کے ایکشن کی مخالفت میں کوئی آواز اٹھی۔
مجھے حیرت ہوئی کہ فرانس میںکوئی آل پارٹیز کانفرنس طلب نہیںکی گئی، نہ پارلیمانی گروپوںکا کوئی اجلاس منعقدہوا، بس فرانسیسی صدر نے کابینہ کا ایک اجلاس ضرور طلب کیا۔مگر لاکھوں کی تعداد میں فرانسیسی شہری خود بخود سڑکوں پر نکل آئے، اس عزم کاا ظہار کرنے کے لئے کہ وہ کسی سانحے سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
ہمارے ہاں جو کام ہماری پولیس کے کرنے کا ہے یا جن کاموں کے لئے متعلقہ محکمے موجود ہیں، ان کو تو کوئی زحمت نہیں دیتا ، نہ کوئی ان کی گوشمالی کرتا ہے، بس ہم نے فوج کو امرت دھارا سمجھ لیا ہے، کبھی فوج خود آ جائے تو ہم تاریخ میں اس کا ذکر سیاہ حروف سے کرتے ہیں لیکن ہر مشکل میں ہم بلاتے پھر بھی فوج کو ہیں۔
میاںنواز شریف کے ایک سابق دورمیں فوج کو بھل صفائی، میٹر ریڈنگ اور گھوسٹ اسکولوں کا سراغ لگانے پر مامور کیا گیا۔کہا یہ گیا کہ فوج کے پاس ورک فورس بہت ہے اور وہ حکومت کا ہاتھ بٹانے میں خوشی محسوس کرتی ہے،میں ان دنوں بھی نوائے وقت میں تھا اور ہم اس خدشے کا اظہار کیا کرتے تھے کہ فوج اگر شہر کے رستے دیکھ لے تو پھرواپس نہیں جایا کرتی ۔مگر حکومت کا خیال تھا کہ فوج کو اگر الجھا کر رکھاجائے تو اسے حکومت میں دخل ا ندازی کی فرصت ہی نہیں ملے گی۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ حکومت کا نظریہ صحیح تھا، فوج بیلچے پکڑے نہروں اور کھالوں کی صفائی میں مصروف رہی،رجسٹر پکڑے میٹر ریڈنگ کرتی دکھائی دی اور گھوسٹ اسکول جو کسی کو نظر نہ آ سکتے تھے، وہ فوج کو بھی کیسے نظر آتے، ان کاموں میں مشغول ہونے پر کچھ لوگ فوج سے ہمدردی کاا ظہار کرتے کہ کیا یہ وہی ڈھول سپاہی ہیںجن کے ترانے نورجہاںنے گائے اور کچھ دل ہی دل میں کہتے کہ اسے اسی طرح پھنسا کر رکھنا چاہیئے۔
جنرل مشرف مارشل لا کے نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ لاہور کے گورنر ہاﺅس میں اخبار نویسوں کے سامنے آئے تو جناب مجید نظامی نے ان سے پوچھا کہ آپ کو دھکا کس نے دیا۔ مشرف نے کہا کہ میںبھی یہی سوچتا رہتا ہوں کہ مجھے دھکا کس نے دیا کیونکہ کارگل کے بعد ابھرنے والے اختلافات پر قابو پایا جا چکا تھا، مجھے دو عہدوں پر سرفراز کر دیاگیا تھا یعنی آرمی چیف کے ساتھ ساتھ چیئر مین جائینٹ چیفس آف اسٹاف بھی۔ میں چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف کے ساتھ قریبی رابطے میں تھا اور ہم رات گئے تک یہ سوچ بچار کرتے رہتے تھے کہ ملک کے سنگین مسائل کو کس طرح مل جل کر حل کیا جا سکتا ہے۔
میاں شہباز شریف کے بارے میں اب بھی لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ وہ فوج کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔وہ جنرل کیانی سے چھپ کر ملتے رہے ا ور میاںنواز شریف کو ایک بار کہنا بھی پڑا کہ مجھے شہباز کی یہ حرکت اچھی نہیں لگتی، ملنا ہو تو دن کی روشنی میں ملا جائے۔
ن لیگ کی نئی حکومت آئی تو ہر کسی کو اندیشہ تھا کہ کسی بھی وقت حکومت ا ور فوج میں مڈ بھیڑ ہو سکتی ہے۔ ایک میڈیا ہاﺅس کے تنازعے میں یہ اندیشہ حقیقت کا روپ دھارتا نظر آیا، دھرنے ہوئے تو کھل کر فوج اور حکومت میں تصادم کی خبریں پھیلیں، عمران خان کا یہ کہنا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، پھر قادری اور عمران کی ملاقاتیں بھی آرمی چیف سے ہوئیں، اس پر طرح طرح کے وسوسوں کااظہار کیا گیا، اور فوج مبینہ سہولت کاری سے پیچھے ہٹ گئی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی فوج ہی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
صاف نظرا ٓ رہا تھا کہ حکومت اور فوج کے مابین تعلقات کشیدگی کی انتہا پر ہیں، اسی پس منظر میں پشاور کا دلدوز سانحہ رونما ہوا، ڈیڑھ سو بچوں کو سفاکانہ ا نداز میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔سانحے کے وقت آرمی چیف کوئٹہ میں تھے ، وزیر اعظم ا سلام آباد اور عمران خان اپنے کنٹینر میں ، سبھی نے پشاور کا رخ کیا۔یہ سانحہ دل و دماغ پر لرزہ طاری کر دینے والا تھا، دہشت گردی میں ساٹھ ہزار جانیں چلی گئیں مگر قوم کبھی اتنی دکھی نہیں ہوئی۔سانحہ پشاور نے پتھر دلوں پر بھی سکتہ طاری کر دیا۔ بچوں کے معصوم خون نے وزیر اعظم، عمران خان اور جنرل راحیل کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے کر دیا۔ یک جہتی کے لئے یہ بھاری قیمت تھی مگر خدا کاشکر ہے کہ یہ قیمت ضائع نہیں گئی اور قومی قیادت نے اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کیا۔
اب ملٹری کورٹس بن رہی ہیں، پھانسی کے پرانے فیصلوں پر عمل ہو رہا ہے، وفاق اور صوبوں کی سطح پر قومی لائحہ عمل بھی تیار کیا جا رہا ہے، دہشت گردی کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لئے ہیلپ لائن کے اشتہار بھی چل رہے ہیں۔مگر دل کے کسی کونے میں یہ اندیشہ ابھر رہا ہے کہ قومی قیادت تو متحد ہو گئی مگر قوم کو جگانے کے لئے کوئی ایک قدم بھی نہیں اٹھا یا گیا، فوج نے یہ ساری بھاگ دوڑ اس لئے کی تھی کہ اسے قوم کی پشت پناہی اور حمائت مل جائے، وہ مشرقی پاکستان کی تاریخ نہیں دہرا نا چاہتی تھی جہاں فوجی ایکشن ہو رہا تھا اورپوری آبادی فوج کے خلاف تھی۔پتہ نہیںمیں کیوں شکی واقع ہوا ہوں، انسان کو روشن پہلووں کو مد نظر رکھنا چاہئے مگر میرے دل میں چھوٹے چھوٹے واقعات سے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔مجھے قوم میں وہ اتحاد نظر نہیں آ رہا جس کی فوج کو ضرورت ہے اور اگر یہ اتحاد پیدا نہیں کیا جاتا تو ڈر یہ ہے کہ فوج کسی دلدل میںدھنس کر رہ جائے گی، سوال یہ ہے کہ کیا فوج کو اس دلدل میں جان بوجھ کر تو نہیں پھنسایاجا رہا۔بھارت تو ہماری فوج کو ہر محاذ پر الجھا رہا ہے اور اس کی شیطنیت صاف نظر آ رہی ہے، ہمارے ہاں جو عناصر دھول اڑا رہے ہیں، ان کا مقصد کیا ہے، کوئی آئینی ترمیم کے خلاف بولتا ہے، کوئی فوجی عدالتوںکے قیام پر سیخ پا ہے، کوئی میڈیا پر پابندیوں پر احتجاج کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پشاور کے بچوں کے خون ناحق نے قوم کو جس اتحاد کے راستے پر گامزن کیا تھا ، ہم صرف چند روز ہی میں اس سے بھٹک گئے اور دہشت گردوںنے ہمارے قومی انتشار کا فائدہ ا ٹھاتے ہوئے راولپنڈی میں پھر خون کا بازار گرم کر دیا۔ میں جانتا ہوں کہ اس سے فوج پر تنقید ہو گی کہ بڑے دعوے تھے کہ ضرب عضب نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی۔مگر کوئی راولپنڈی کی پولیس سے نہیں پوچھے گا، کوئی غیر اعلانیہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ سے باز پرس نہیںکرے گا اور صوبے کے حاکم کی طرف تو کسی کو انگلی اٹھانے کی تاب ہی نہیں۔اس لئے ساری تنقید کا نشانہ فوج ہی بنے گی اور میں فوج کے ایک مداح اور قصیدہ خواں کے طور پر اپنے آپ کو لاجواب پاتا ہوں ، میرے پاس صرف ایک عذر ہے کہ فوج کو اکیلے دہشت گردی کی بھل صفائی میں پھنسا دیا گیا ہے، باقی ساری حکومت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے، پنجاب کے چیف سیکرٹری لگنے کے لئے درجنوں امیدوار تھے مگر جن صاحب کی لاٹری نکل آئی ، وہ بھی پنڈی کے زخم خوردہ خاندانوں کے آنسو پونچھنے موقع پر نہیں پہنچ سکے۔قومی بیانیہ تیار کرنے والی پنجاب کی کمیٹی کا فرض کیا ہے ، کیا صرف اجلا س پر اجلاس منعقد کرنا یا لوگوں کو دہشت گردی کے خلاف کھڑے کرنا، میری تجویز ہے کہ یہ کمیٹیاں توڑ دی جائیں، ان منا فقتوںسے جان چھوٹے تو پاکستانی قوم اسی طرح دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی جس طرح فرانسیسی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ اپنے طور پر کیاہے اور پاکستانی پولیس بھی مجرموں کا اسی طرح تعاقب کرے گی جیسے فرانسیسی پولیس کر رہی ہے۔