’’عام انتخابات اگلے سال ہونگے؟‘‘

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی


عمران خان نے واضح انداز میں کہا کہ 2014 کی گرمیوں میں الیکشن ہوں گے۔ کارکن تیاری کریں۔ یعنی گرمیوں میں سرگرمیوں کی انتہا کر دیں۔ یہ بھی عمران خان نے کہہ دیا کہ انتخابات ہوں یا نہ ہوں۔ انتخابی سرگرمیاں اگلی گرمیوں میں بہت ضروری ہیں۔ شیخ رشید تو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ نوازشریف کی اصل حکومت جنوری 2014ء میں شروع ہو گی۔ اگر جون 2014ء میں انتخابات ہوں گے تو نوازشریف کی حکومت پانچ مہینے پانچ دن پانچ گھنٹے پانچ منٹ پانچ سیکنڈ سے کچھ زیادہ ہو گی۔ نوازشریف نے یونہی تو نہیں ’’صدر‘‘ زرداری کو پانچ سال دلوائے۔ اُن کی باری بھی پانچ سال کی ہو گی۔ انہوں نے پانچ مہینوں میں پانچ سال پورے کر لئے ہیں؟ سابق صوبائی وزیر اور سیاسی رہنما علیم خان کے گھر پر عمران خان کے اعزاز میں ظہرانہ تھا۔ سابق وفاقی وزیر شیخ رشید عمران خان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ دیر سے آئے تو پہلے عمران کے ساتھ سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین بیٹھے تھے۔ شیخ صاحب دونوں کے درمیان میں بیٹھ گئے۔ اس کے علاوہ وہاں کوئی سابق وزیر نہ تھا۔ ایک سابق صوبائی وزیر اسلم اقبال تھے جو نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ جب وزیر تھے تو تب بھی بہت نظر نہیں آتے تھے۔
عمران خان نے میانوالی میں اپنی نمل یونیورسٹی کا ذکر کیا۔ یہ واقعی شوکت خانم کینسر ہسپتال کی طرح عمران کی ایک معرکہ آرائی ہے۔ میں نے پوچھ لیا کہ وہاں میانوالی کے مقامی طلبہ و طالبات کتنے ہیں؟ عمران نے بتایا کہ میانوالی کے بھی ہیں اور پورے پاکستان کے طلبہ و طالبات ہیں۔ میری بہو ڈاکٹر حمدیہ نیازی نے بتایا کہ میری کزن انیقہ نیازی بھی وہاں پڑھتی ہے۔ ماحول دیہاتی ہے مگر اچھا ہے۔
ایک پسماندہ دیہاتی علاقے میں ایسی یونیورسٹی ہے جس کا الحاق انگلستان بریڈ فورڈ کے ساتھ ہے۔ وہاں کچھ دنوں میں ڈگریاں دینے کی تقریب ہو رہی ہے۔ بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے ماہرین تعلیم شرکت کر رہے ہیں۔ وہاں موجود سب لوگوں کو بھی دعوت دی گئی۔ اس پر مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ہم شریک ہوں گے مگر ہمارے لئے بھی سپیشل طیارے کا اہتمام کیا جائے۔ اس پر جہانگیر ترین نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔ ابھی ابھی عمران خان بھارت سے آئے ہیں۔ اور انہوں نے یہ سفر بھی جہانگیر ترین کے طیارے میں کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی بھی ساتھ تھے۔ عمران نے بھارت سے واپسی پر دونوں ملکوں کی سرحد پر مشترکہ نیوکلیئر پلانٹ لگانے کی تجویز دی ہے۔ جس سے مجھے سخت اختلاف ہے۔ یہ بھی بے چینی کی بات ہے کہ نوازشریف نے بھارت کے لئے فری ویزہ کا اعلان کیا ہے۔ سوچتا ہوں کہ بھارتی ایجنڈے پر عمران خان نوازشریف سے پوری طرح متفق ہیں۔
اسامہ طیب کے ساتھ ایک نجی ٹی وی چینل پر بھارت کے سفر کی بات عظمیٰ کاردار بڑے فخر سے کر رہی تھی۔ وہ عمران خان کے وفد میں نہ تھی مگر اُن سے پہلے وہاں پہنچ گئی تھی۔ نجانے وہ کس کے طیارے پر گئی تھی۔ اُس نے بھارت میں الیکٹرانک مشینوں کے حوالے سے الیکشن کی بات کی۔ یہ بات عمران خان نے مختلف انداز میں کی پاکستان میں انگوٹھوں کے نشانات میں گھپلے سامنے آ رہے ہیں۔ اسی لئے نادرا کے چیئرمین طارق ملک کو آدھی رات کے وقت برطرفی کا آرڈر اُن کے گھر میں پھینک دیا گیا۔ صبح اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک صاحب کو بحال کر دیا۔ اس طرح انتخابات مزید مشکوک ہو گئے ہیں۔ عمران نے کہا کہ چودھری نثار کا خط میرے موقف کی تائید کرتا ہے۔ نوازشریف کی حکومت میں پہلے کی ہوئی غلطیوں کو دہرانے والے ماشااللہ سارے کے سارے کابینہ میں شامل ہیں۔ چودھری نثار وزیر داخلہ ہوتے ہوئے تھوڑے سے وزیراعظم بھی ہیں۔ جیسے نوازشریف وزیراعظم ہوتے ہوئے بہت سے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بھی ہیں۔ اب سپریم کورٹ کے ڈر سے خواجہ آصف کو اس طرح وزیر دفاع بھی بنا دیا ہے۔ جس طرح وہ بجلی کے وزیر ہیں۔ خواجہ آصف سے کہا گیا ہے۔ بچہ چڑھ جا سولی۔ رام بھلی کرے گا۔ آجکل ’’رام‘‘ نوازشریف کو بہت یاد آتا ہے اس سے بھارت کے خوش ہونے کا امکان ہے؟ بغل میں چھری منہ میں رام رام۔
ہمارے کولیگ سینئر صحافی نوائے وقت کے چیف رپورٹر خواجہ فرخ سعید وہاں تھے۔ ان کی رپورٹ میں وہ باتیں بھی شامل ہیں جو مجھے بھول گئی ہیں۔ یہ محفل بہت سلیقے سے سجائی گئی تھی برادرم علیم خان نے صرف بیس پچیس لوگ بلائے تھے۔ تحریک انصاف کے بھی چند لوگ تھے۔ خاتون ایک ہی تھی عندلیب عباس۔ ایک بھی بہت ہے۔ اعجاز چودھری فرخ جاوید اور شیخ عامر بھی تھے۔ قابل ذکر صحافی تھے۔ گرما گرمی بھی ہوئی۔ مصنوعی افتخار میں مبتلا ایک الیکٹرانک صحافی نے نجی ٹی وی چینل والی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کو کہنا پڑا کہ میں انٹرویو دینے نہیں آیا۔ وہاں دوستوں سے گپ شپ کرنے کے لئے سب پہنچے تھے۔ علیم خان نے اہتمام بھی بہت خوبصورتی سے کیا تھا۔ مگر یہاں بھی جوابدہی شروع ہو گئی تھی۔
’’صدر‘‘ زرداری نے نوازشریف کو لیڈر مان لیا ہے۔ باقی سیاستدانوں نے انہیں وزیراعظم مان لیا ہے۔ دھاندلی کے لئے سب نے شکایت کی ہے۔ خود نوازشریف نے کہا ہے کہ سندھ میں دھاندلی ہوئی ہے۔ ورنہ قائم علی شاہ تو کبھی نہیں جیت سکتے تھے۔ اُن کا وزیراعلیٰ بننا بھی ایک دھاندلی ہے۔ لگتا ہے اب حکمرانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیسری باری ضرور لیں۔ وہ تو چوتھی باری کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ بار بار باری لینا سیاسی ضرورت ہو یا نہ ہو ’’جمہوری‘‘ ضرورت ضرور ہے۔
عمران خان نے کہا کہ دھاندلی کا فیصلہ ہونے تک طارق ملک کو چیئرمین نادرا رہنا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم جیت جائیں۔ تو پھر کوئی بھی چیئرمین بن جائے۔ ہم نے بھی کئی کالم نگاروں کی طرح طارق ملک کے ڈٹ جانے کو سراہا۔ مگر اس کا کیا کریں کہ طارق ملک نے اعتزاز احسن کو اپنا وکیل کر لیا ے۔ اعتزاز نے آج تک وکالت میں خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔ عدالت سے برطرف ہونے والے نااہل وزیراعظم گیلانی کے وکیل بھی اعتزاز احسن تھے۔ جو ’’صدر‘‘ زرداری کی ہدایت پر مقرر ہوئے تھے۔ ’’صدر‘‘ زرداری نے اپنے دوسرے وزیراعظم کو اعتزاز احسن کے حوالے نہ کر کے بچا لیا تھا۔ اعتزاز احسن نے اس کے لئے سنیٹری کی۔ انہیں سیاسی سنیٹری انسپکٹر بننے پر مبارکباد دی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو بھی چند سیٹوں پر دھاندلی کے الزام میں چلے گئے تھے مگر تب تو مارشل لا آ گیا تھا اور تحریک کے سربراہ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ نے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاالحق کی حکومت میں اپنے بیٹے کو وزیر بنوا لیا تھا۔ اس تحریک کی سرپرستی امریکہ نے کی تھی جس نے جمہوریت اور قرض کو عالم اسلام بالخصوص پاکستان کے لئے بری طرح استعمال کیا۔ اب تحریک چلتی ہے تو اس کی سرپرستی اور امداد کون کرے گا؟ عمران نے مہنگائی کے خلاف 22 دسمبر کو لاہور میں پھر اپنے سونامی کو آواز دی ہے۔ یہ تو ہے کہ سونامی کے لفظ کے خلاف بہت بات کی گئی کہ یہ نیگٹو ہے مگر عمران ڈٹا رہا بلکہ اڑا رہا۔ خاص لوگوں کے لئے نمل یونیورسٹی کے قیام کا معترف ہوں مگر اب بھی اسی مطالبے پر قائم ہوں کہ عمران کو میانوالی میں ایک ہسپتال بنانا چاہئے۔ جو عام لوگوں کے لئے ہو۔ نمل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر موجود ہیں تو ایسے حالات ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے لئے بھی بنائے جائیں۔ وہاں لوگ معمولی بیماریوں کیلئے علاج کے لئے بھی کوئی سہولت نہیں پاتے۔ بے چاری حاملہ عورتیں ہسپتال پہنچنے سے پہلے راستوں میں مر جاتی ہیں وہ ہسپتال پہنچ بھی جائیں تو پھر بھی ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی۔ چھوٹے علاقوں میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ہسپتال میں کچھ نہیں ہوتا کہ بنیادی طبی امداد بھی دی جا سکے۔
میں علیم خان کا مہمان تھا۔ میں نے اُسے بتا دیا تھا کہ عمران میرے ساتھ خفا رہتا ہے۔ کوئی بدمزگی نہ ہو۔ میں ایک بار توفیق بٹ کے ہاں ایسی ایک محفل میں تھا تو عمران نے مجھے ’’مبارکباد‘‘ دی کہ تم میرے خلاف لکھتے ہو۔ مگر آج عمران مجھے بڑی اپنائیت سے ملا۔ میں نے کہا تھا کہ عمران سیاستدان ہو گیا ہے۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ وہ روایتی سیاستدان نہ بنے۔ مگر اُسے پاکستان ’’کا‘‘ وزیراعظم بھی تو بننا ہے؟