(ریٹائرڈ) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری…!

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ریمارکس دیتے ہوئے حکومتوں کو باور کرایا کہ عدالتوں کو لولی پاپ مت دیں، لاپتہ افراد لائیں، حکم دیا تو آرمی چیف اور وزیراعظم کو بھی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں‘۔ اس لہجے اور آواز نے حکومتوں کو وخت ڈالے رکھا، یہ لہجہ اور آواز آج ریٹائر ہو رہی ہے۔ پاکستان میں ایک تاریخی مہم کے ہیرو افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کا دن آ گیا ہے۔ مگر ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پاکستان کی تاریخ کی ناقابل فراموش شخصیت ہیں۔ جس طرح چیف جسٹس کی بحالی نے ڈنکے بجائے، چیف جسٹس کی رخصتی بھی ڈنکے کی چوٹ پر ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس کو تاریخی پروٹوکول دیا جائے۔ 2007 میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کی عدلیہ کو برطرف کیا تھا تو اس کے نتیجے میں ایک ایسی احتجاجی تحریک نے جنم لیا جس نے نہ صرف صدر کو اقتدار سے محروم کر دیا بلکہ ججوں کی عزت اور وقار میں اضافہ کر دیا۔ قوم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے محبت کے سحر سے کبھی نہ نکل پائے گی۔ چیف جسٹس ہر بات پر یہی کہتے تھے ’’یہ بڑی زبردست قوم ہے۔ اس قوم کو اپنے ملک کے ساتھ عشق ہے۔ اس قوم نے اپنے ملک کو اپنے دلوں میں دلہن کی طرح سجا رکھا ہے۔ یہ قوم اپنے ملک کی خاطر جان دے دے گی۔ بحالی عدلیہ کی جدوجہد نے اس قوم کو کندن بنا دیا ہے۔ عدلیہ کا تحفظ یہ قوم کرے گی۔ آزاد عدلیہ کی حفاظت اپنی آخری سانسوں تک کرونگا۔ مجھے سیاستدانوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ میری زندگی کا مقصد لا اینڈ آرڈر کا تحفظ ہے۔ یہ قوم جاگ رہی ہے۔ یہ قوم دنیا کی منفرد قوم ہے۔ اس قوم کو انڈر اسٹی میٹ نہ کیا جائے۔ میں عدالت میں ایک سخت جج ہوں۔ اصولوں کے ساتھ کبھی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کرونگا۔ عدلیہ کسی کی غلام اور جوابدہ نہیں۔ قوم کو انصاف چاہئے جو اسے پہلے بھی ملا تھا اور آج بھی مل رہا ہے۔ میرے اور قوم کے درمیان اعتماد اور پیار کا وہ تعلق ہے جسے کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ قوم تمام مسائل اور پریشانیوں کے باوجود اپنی عدلیہ کیلئے آہنی دیوار ہے۔ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری نبھائے اور ہمیں آزادی اور سکون کے ساتھ کام کرنے دے۔ قوم عدلیہ پربھروسہ کرتی ہے۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ ہمارے اور قوم کے درمیان تعلق کا ہمیں ادراک ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں چلا جائوں گا تو لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاملہ دفن کر دیا جائے گا۔ بلاشبہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری ایک ناقابل فراموش شخصیت کا نام ہے۔ چیف صاحب اچھے اور برے لفظوں میں یاد رکھے جائیں گے۔ مخالفین اور ناقدین کی تعداد بھی کم نہیں جبکہ ان کے قدردان کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس کی مخالفت اور تنقید کا سب سے بڑا سبب ان کے بیٹے کا کردار ہے جس نے باپ کی ریپوٹیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے ماسوائے اپنے بیٹے ارسلان افتخار کے سارے اہم اور غیر اہم مقدمات نبٹا دئیے۔ ناراض عوام کو شکوہ ہے کہ ’’از خود نوٹس‘‘ کے موجد چیف جسٹس نے چھوٹے سے بڑے ہر قسم کے جرائم کا ازخود نوٹس لیا مگر اپنے بیٹے کے جرم کو دبا گئے۔ بلاشبہ اولاد آزمائش ہے مگر اولاد کو ازخود آزمائش بنانا اس سے بھی بڑی آزمائش ہے۔ سورۃ تغابن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اے ایمان والو! تمہاری کچھ بیبیاں اور تمہاری کچھ اولادیں تمہاری دشمن ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضرت نوح ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کے نافرمان بیٹوں کی مثالیں پیش کر کے آیت مبارکہ کی وضاحت فرما دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں مال اور اولاد کو فتنہ اور آزمائش قرار دیا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے بیٹے پر جرم ثابت ہوا تو آپ نے اپنے ہاتھوں سے بیٹے کو سو کوڑے مارے حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ اولاد اگر بدنامی اور نقصان کا باعث بن جائے تو وہ اولاد نہیں آستین کا سانپ ہے۔ گھر کے چراغ سے آگ لگنے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ ارسلان کیس جب سامنے آیا تو بیرسٹر اعتزاز احسن نے میڈیا میں آ کر کہا کہ چیف جسٹس کا اس تمام معاملہ میں کوئی عمل دخل دکھائی نہیں دیتا۔ جبکہ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ چیف جسٹس اپنے بیٹے کی حرکتوں سے باخبر تھے، دنیا کا کوئی باپ ایسا نہیں جو اپنی اولاد کی سرگرمیوں، کردار اور معاملات سے لاعلم ہو سکے، پورے پاکستان کو انصاف مہیا کرنے والے اپنے بیٹے کی شاہ خرچیوں سے کیونکر بے خبر رہ سکتے ہیں۔ ارسلان کیس نے متعدد سوالات کو جنم دیا۔ پاکستان کی موجودہ عدلیہ نے وہ اقدامات اٹھائے اور فیصلے سنائے جو اس ملک کی تاریخ بن چکے ہیں۔ امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے بارہا حکومت کے فیصلوں کو چیلنج کیا اور سیاستدانوں پر مقدمے کئے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اپنے عہدے سے برطرف کیا۔ سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کیا۔ ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ پاکستان میںپہلی بار ایسا ہوا کہ ایک سابق فوجی سربراہ کو ججوں کے خلاف کارروائی کرنے کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا اور بغاوت کا مقدمہ اگلی حکومت پر ڈال دیا، اب یہ نئی حکومت کی صوابدید پر ہے کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتی ہے یا پچھلی حکومت کے نقش قدم پر چلتی ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جس کی تاریخ فوجی بغاوتوں اور فوجی راج سے عبارت ہے، افتخار چودھری ملک کے سب سے طاقتور ادارے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے اور پاکستان کی تاریخ میں گیارہ مئی کو پہلی مرتبہ اقتدار ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل کیا جائے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ 2007 میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کی عدلیہ کو برطرف کیا تھا تو اس کے نتیجے میں ایک ایسی احتجاجی تحریک نے جنم لیا جس نے نہ صرف صدر کو اقتدار سے محروم کر دیا بلکہ ججوں کی عزت اور وقار میں اضافہ کر دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ریٹائر ہو کر بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد کی وجہ سے یاد رکھے جائیں گے۔ مظلوموں کی دعائیں چھوٹے بڑے گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتی ہیں۔