لفظ شریف طعنہ کیوں بن گیا!

جنرل راحیل شریف کو نیا آرمی چیف بنایا گیا تو یہ پھبتی کسی گئی کہ ان کی خوبی یہ ہے کہ نام میںلفظ شریف آتا ہے۔کسی  نے خیال نہ کیا کہ وہ نشان حیدر میجر شبیر شریف کے بھائی ہیں ۔ نشان حیدر کے رتبے پر پہنچنے کے لئے نام کا شریف ہونا ضروری نہیں، ایک جرات رندانہ کا مالک ہونا چاہئے۔جنرل راحیل کے والد کا نام میجر شریف ہے۔اور وزیر اعظم کے والد کا نام بھی میاں شریف ہے۔ شکر ہے اس نسبت سے طعن و تشنیع نہیں کی گئی۔نئے آرمی چیف کے لئے آئین میں قوم نے جو شرط عائد کی ہے، اس کی رو سے وزیر اعظم کو تین ناموں کے پینل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔اسی آئینی شرط کے تحت وزیر اعظم کے پاس تین سینئر تریں ناموں کی ایک فہرست گئی جس میں سے وزیر اعظم نے ایک نام چن لیا،فہرست میںیہ نام اس لئے نہیں رکھا گیا تھا کہ اس میں لفظ شریف آتا ہے اور وزیر اعظم آنکھیں بند کر کے اس پر انگلی رکھ دیں گے۔
لفظ شریف کو طعنہ بنانے والوں کا اصل مقصد نئے آرمی چیف کی تحقیر اور ان کے تقررر کو متنازعہ بنانا تھا۔یہ کام ایک تو وہ لوگ کرتے ہیں جو گھر میں اپنی ماں اور اپنے باپ کی تذلیل کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے۔دوسرے اس مہم میں وہ لوگ شامل تھے جو ہمیشہ فوج کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے میں پیش پیش رہتے ہیں ، ان لوگوں کا حوصلہ فضل الرحمن اور منور حسن کے ان بیانات سے بھی بڑھا جن میں کتے کوشہید مانا گیا اور پاک فوج کے شہیدوں کے رتبے سے انکارکیاگیا تھا۔
پاک فوج کس کس کی راہ میں رکاوٹ ہے، سب سے پہلے انڈیا کی، پھر امریکہ اور اس کے تمام حواریوں کی۔یہ درمیان میں آپ کو جو عناصر پاک فوج کے خلاف سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں ، وہ بھارت اورا مریکہ کے مذموم عزائم ہی کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں۔سب نے دیکھا کہ انہوںنے لاہور میں نیول کالج پر حملہ کیا، اسی لاہور میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بولا۔پنڈی میں جی ایچ کیو کا گھیرائو کیا، کامرہ پر دو مرتبہ حملہ کیا اور آخری حملے میں اس سیب طیارے کو تباہ کیا جو فضائوںمیں پاکستان کی نگہبانی کا فریضہ ادا کرتا ہے۔کراچی میںنیول بیس کو نشانہ بنایا اور یہاں اصل میں حملہ اورین طیاروں پر تھا جو سمندری حدود میں پاکستان کی رکھوالی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ان نقصانات سے پاکستان کی اس دفاعی قوت کو ضعف پہنچانا مقصود تھا جو بھارتی جارحیت کے مقابل ملک و قوم کے سامنے سینہ سپر ہوتی ہے۔یہ تو بھارت کی پراکسی جنگ ہے جو پاکستان کے خلاف کلائمیکس پر ہے۔
میںنے کوئی سازشی تھیوری پیش نہیں کی، آپ کے سامنے ایک حقیقت رکھی ہے،سیب طیارہ یا اورین طیارہ شمالی وزیرستان میں جاسوسی کے لئے استعمال نہیں ہوتا، سیب طیارہ تو پاکستان کے پورے فضائی بیڑے کی راہنمائی کرتا ہے اور، اورین طیارہ ممبئی سے جارحیت کی نیت سے آنے والے بھارتی بحری بیڑے کی بو سونگھتا ہے اور پاک بحریہ کو ممکنہ خطرے سے خبردارکرتا ہے، ان طیاروں کا کوئی تعلق دہشت گردی کی جنگ سے نہیں بنتا ، اس لئے ان کی تباہی کا مقصد صرف اور صرف بھارتی عزائم کی تکمیل ہے۔پاک فوج کے خلاف ایک محاذ نظریاتی سطح پر کھلا ہوا ہے، ایک زمانے میں جنرل شیر علی خاں نے اس محاذ پر دفاعی حصار قائم کیا تھا، اسی لئے آپ نے دیکھا ہو گا کہ مادر پدر آزاد عناصر جنرل شیر علی خان کو مغلظات سے نوازتے ہیں۔ ستر کی دہائی کے شروع میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر تابڑ توڑ حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹ گیا، اس وقت صرف اندرا گاندھی ہی نے نہیں کہا کہ نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا بلکہ ہمارے لبرل عناصر نے بھی بغلیں بجائیں کہ جنرل شیر علی خاں کا نظریہ پاکستان کا واہمہ دور ہو گیا۔
نظریہ پاکستان کے مورچے پر اب ہر طرف سے گولہ باری ہو رہی ہے۔بھارت کی طرف سے دوستی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا، الٹا بھارتی لیڈر نفرت انگیز بیا نات جاری کرتے ہیں، ابھی ابھی بھارتی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول لانے میں کوئی جلد بازی نہیں کریں گے مگر ہمارے وزیر اعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ واہگہ بارڈر، آر پار تجارت کے لئے چوبیس گھنٹے کھلا رہنا چاہئے، انہوںنے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ تین بجے کسٹم پوسٹ بند ہونے سے ٹرکوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔یہی وزیر اعظم بڑی چاہت سے بھارتی وزیر اعظم کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کرنا چاہتے تھے،پھر انہوں نے اس معصوم سی خواہش کا اظہار کیا کہ بر صغیر کو یورپی یونین کی طرح ویزہ فری ہونا چاہئے، یہی خواہشات عمران خاں کے ہونٹوں پر بھی مچلنے لگی ہیں ، ابھی تو انہوںنے دلی کا ایک پھیرا لگایا ہے، دو چار پھیرے لگ گئے تو خدشہ ہے کہ و ہ وہیں کے ہو کر نہ رہ جائیںاور تحریک انصاف کو اپنے چیئر مین کی گمشدگی کا اشتھار دینا پڑے۔عمران خان اپنی اس تجویز پر بھی اڑے ہوئے ہیں کہ پاک بھارت سرحد پر مشترکہ ایٹمی بجلی گھر لگایا جائے۔ہمارے امپورٹڈگورنر پنجاب محمد سرور بھی یورپی یونین والا ماحول برصغیر میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لئے وہ یورپی یونین کے پھیروں پر پھیرے لگا رہے ہیں۔
بات لفظ شریف سے چلی تھی اور پاک فوج کے خلاف نفرت کی مہم سے ہوتی ہوئی بھارتی محبت سے سرشار عناصر کی طرف چلی گئی۔مجھے لفظ شریف سے چڑنے والوں سے کہناہے کہ وہ پاکپتن شریف، بھیرہ شریف، گجرات شریف، کوٹ مٹھن شریف،اوچ شریف کی تراکیب پر معترض ہو نے سے پرہیز فرمائیں۔دل کے آبگینوں کو ٹھیس پہنچانا آپ کا مشغلہ ہوسکتا ہے لیکن اس حکایت کو اس قدر طول نہ دیں کہ رد عمل میں آپ کی شرافت کا دامن چاک ہو جائے۔
اب نادرا کے چیئر مین کا مسئلہ چل نکلا ہے تو سوشل میڈیا پر ایک اشتھار دیکھنے میں آیا ہے جس میں اس منصب کے لئے پہلی شرط، نام میں لفظ شریف کا ہونا ضروری قراردیا گیا ہے۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے انتخاب سے جو مہم شروع کی گئی، اس کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔کچھ لوگوںنے شاید یہ سمجھ لیا ہے کہ فوج خاموش رہنے پر مجبور ہے، اس لئے ان کی طرف سے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں مگر پاک فوج کو کوئی اس قدر بھی گونگا نہ سمجھے، اسکی حرمت اور عزت پر مر مٹنے والوں کی کمی نہیں، میںاپنا قلم اس کے لئے ڈھال بنا دوں گا۔
ویسے لفظ شریف میں قباحت بھی کیا ہے۔ شریف برداران نام کے ہی نہیں، کردار کے بھی شریف ہیں۔ان کے والد تو شرافت کا مجسم نمونہ تھے۔اور اس خاندان کی شرافت اور نجابت کے مداح ان کے کٹر حریف بھی ہیں۔
میری جنرل راحیل شریف سے ایک گزارش ہے کہ وہ جنرل شیر علی خان کے قائم کردہ نظریہ پاکستان سیل کو دوبارہ متحرک کریں، یہ میڈیا اور پراپیگنڈے کا دور ہے ، یہ مورچہ بھی مستحکم کرنا ضروری ہے۔جہاں اتنی ڈھیر ساری کوریں ہیں ،ان میں ایک نظریاتی کور کا اضافہ ضرور ہونا چاہئے۔اگلی لڑائی اسی کور کو لڑنی ہے۔