امورِ خارجہ سے وفاق کو نمٹنے دیں!

کالم نگار  |  اثر چوہان

 خبروں کے مطابق ” پاکستان کے دورے پر آنے والے امریکی وزیرِ دفاع " Chuck Hagel" نے پاکستانی قیادت کو صاف صاف کہہ دِیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں نیٹو سپلائی کی بندش جاری رہی تو پاکستان کو مِلنے والی اربوں روپے کی امریکی امداد بند کی جا سکتی ہے “ اُدھر وزیرِاعظم نواز شریف نے امریکی وزیرِ دفاع کو بتایا کہ ” ڈرون حملے دہشت گردی کے لئے نقصان دہ ہیں اور امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں رکاوٹ بھی“ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے امریکہ کی طرف سے امداد روکنے سے متعلق خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے“ خبروں کے مطابق وزیرِاعظم اور امریکی وزیرِ دفاع کا خطے میں امن و استحکام کے لئے سٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت پر اتفاق اور دونوں ملکوں میں دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ بھی لِیا گیا
اِس لحاظ سے منتخب وزیرِاعظم میاں نواز شریف دو طرفہ دباﺅ میں آگئے ہیں امریکہ پاکستان پر اپنی مرضی کی پالیسی تھوپنا چاہتا ہے اور طالبان سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں اور اُن کے سرپرست سیاسی اور مذہبی راہنما قومی غیرت کے نام پر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے لئے انگیخت کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں وزیرِاعظم نواز شریف " Uneasy Is The Head That Bears The Crown" یعنی پریشانی صِرف بادشاہ (حُکمران) کو ہی ہوتی ہے “ کی کیفیت میں ہےں حیرت تو اِس بات پر ہے کہ ان سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی نیٹو سپلائی بند کرنے کے ساتھ ساتھ زور و شور سے ڈرون گرانے اورامریکہ سے جنگ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں جنہیں امریکہ نے ہی پروان چڑھایا اُن کے بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کے دروازے کھولے اور جِن میں سے اکثر کے پاس امریکہ یا امریکہ کے کسی اتحادی ملک کی شہریت بھی ہے ۔
امورِ خارجہ وفاق کے دائرہءکار میں آتے ہیں جِن پر منتخب پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے اور فیصلہ کثرت رائے سے ہوتا ہے اگر حزبِ اختلاف کی کسی جماعت کو اختلاف ہو تو عوام کی حمایت حاصل کر کے اُسے سڑکوں پر آنے کا بھی حق حاصل ہے اور تحریک چلانے کا بھی لیکن عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف اور سیّد منّور حسن کی جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں نیٹو کنٹینرز روکنے ڈرائیوروں سے بدسلوکی کرنے اور امریکی پرچم جلانے کی جو وارداتیں کی ہیں بیرونِ مُلک اُس کا کوئی اچھا تاثر نہیں لِیا گیا اور پاکستان کی بدنامی ہوئی اگر واقعی قومی غیرت کا مسئلہ تھا تو تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کی مخلوط حکومت کو نیٹو سپلائی بند کرنے سے پہلے خیبر پختونخوا میں تعمیر و ترقی کے اُن منصوبوںکے لئے دی جانے والی مالی امداد پوری دیانتداری سے امریکی حکمرانوں کو واپس کردینا چاہیے تھی ” وِچّوں وِچّوں کھائی جاﺅ تے اُتّوں رولا پائی جاﺅ “ کی پالیسی سیاسی اخلاقیات اور مذہبی اقدار سے منطبق نہیں ہوتی۔
ہر کوئی جانتا ہے کہ طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کے گروپ اُن دینی مدرسوں کی پیداوار ہیں جہاں جان بوجھ کر ” مطالعہ ءپاکستان کا مضمون“ نہیں پڑھایا جاتا اگر پڑھایا جاتا تو دو قومی نظریہ کے علمبرداروں سر سیّد احمد خان علامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کی قومی خدمات کے بارے میں بھی پڑھانا پڑتا اور یہ بھی بتانا پڑتا کہ ”پاکستان ایک فرد ( مرد/عورت) ایک ووٹ کی بنیاد پر قائم ہُوا تھا اور ” اجتہاد کا حق“ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کوہے پارلیمنٹ سے باہر کسی مُفتی یا عالم ِ دین کو نہیں“ 8ہزار فوجیوں اور 42ہزار معصوم شہریوں کے قاتلوں کے سردار کی ہلاکت کو ” شہادت“ قرار دینے والے وہی لوگ ہیں جن کی جما عتوں کو عوام نے عام انتخابات میں کبھی بھی گھاس نہیں ڈالی علّامہ اقبالؒ نے جب کہا تھاکہ:    
” خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر “
تو اُن کا مخاطب مستقبل کے پاکستان کا ہر فرد تھا لیکن جِس قوم کی اشرافیہ کے لوگ اربوں روپے کے قرضے لے کر ہڑپ کر لیں سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضہ کر لیں منی لانڈرنگ اورلُوٹی ہوئی دولت بیرونی بنکوں میں جمع کرانے کے امراض میں مُبتلا ہوں اور جہاں مسجدوں امام بارگاہوں اولیائے کرام کی درگاہوں اور عیسائیوں کے گرجا گھروں پر خود کش حملہ کرنے والوں کو ” شہید“ کہا جائے اُس وقت قومی غیرت اور خُودی کِس شکل میں ہو گی ؟ انگریزی محاورے کے مطابق ” پاکستان اور امریکہ میں "Love Hate Relationship" ہے یعی بیک وقت محبت اور نفرت کے تعلقات مرزا غالب نے بہت پہلے ہی پاکستانی حکمرانوں کو گائیڈ لائن دے دی تھی جب کہا :
”قطع کیجیے نہ تعلق ہم سے
 کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی“
 امریکہ اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں وہ عداوت کے باوجود قطع تعلق کرنے کے حق میں نہیں دریا میں ڈوبتے ہوئے شخص نے پانی میں تیرتے ریچھ کو کمبل سمجھ کر اُس سے جپھی ڈال لی تھی لیکن وہ دریا سے باہر نکلنے سے قاصِر تھا کہ ”کمبل اُسے نہیں چھوڑ رہا تھا“ امریکہ کی حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخابی (سیاسی) نشان "Donkey" (گدھا) ہے اور اپوزیشن پارٹی ری پبلکن پارٹی کا نشان "Elephant" (ہاتھی) ہے گدھے کی لات اور ہاتھی کا پاﺅں دونوں ہی کمزوروں کے لئے خطرناک ہوتے ہیں گدھے اور ہاتھی کی بادشاہت میں جنگل کے کمزور جانوروں کو حکمران کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق رہنا ہوتا ہے رعیت میں سے کوئی بھی " Friends Not Masters" یا ” جِس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ کا نعرہ بلند کرے گا تو گدھے کی لات سے مارا جائے گا یا ہاتھی اُسے اپنے پاﺅں سے کچل دے گا یہ جنگل کا بین الاقوامی اور تسلیم شدہ اصول ہے ۔
1965ءکی پاک بھارت جنگ میں پوری قوم متحد تھی 1971ءمیںایسا نہیں تھا تو پاکستان دو لخت ہو گیا قریباً اڑھائی لاکھ سے زیادہ پاکستانی ( بہاری) بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میںعُسرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور بِن بُلائے مہمان 30لاکھ افغان مہاجرین ہماری معیشت پر بوجھ اور جان کا روگ ہیں یہ کِس طرح کی ” قومی غیرت “ ہے کہ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے مسائل سے لاپروا ہو کر اور دہشت گردوں کو ہلاشیری دینے کے لئے امریکہ سے جنگ کرنے کے لئے حکومت پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے؟ عجیب بات ہے کہ ہر صوبے کی حکمران پارٹی صوبائی خود مختاری کا نعرہ تو بلند کرتی ہے لیکن وفاق کی خودمختاری میں مداخلت ِ بے جا کرنا اپنا حق سمجھتی ہے جنگیں جیتنے کے لئے لڑی جاتی ہیں ہارنے کے لئے نہیں امریکہ یا کسی اور مُلک سے پاکستان کے تعلقات کیسے ہوں ؟ اِس کا فیصلہ تو منتخب وفاقی حکومت نے ہی کرنا ہوتا ہے اِس لئے امورِ خارجہ سے وفاق کو ہی نمٹنے دیں ! !