”زمیں زیر و زبر ہونے کو ہے، میرا کہا لکھ لو“

کالم نگار  |  سعید آسی

کوئی بربادی سی بربادی ہے۔ انسانی بے بسی کی ایسی داستانیں بن رہی ہیں کہ تذکرہ کرتے کرتے زبانیں تھک جائیں، لکھتے لکھتے قلم رک جائیں، کاغذ ختم ہوجائیں مگر درد کم نہ ہو، یہ سیلاب نہیں، قیامت کا منظر ہے، عبرت کا نشان ہے، خود کو خدا سمجھ کر بیٹھنے والوں کیلئے کڑا امتحان ہے اور یہ پانی نہیں۔ حیاتِ بے ثبات کی سبق آموز کہانی ہے جس میں سمجھنے کیلئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ مغربی، یورپی دنیا نے سونامی اور قطرینہ کی شکل میں سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کو قیامت سے تعبیر کیا تھا۔ اب یہی مغربی دنیا گواہی دے رہی ہے کہ پاکستان میں آنے والے سیلابِ بلا نے قطرینہ ہی نہیں، سونامی کی تباہ کاریوں کو بھی بھلا دیا ہے۔ مگر مقام حیرت ہے، جتنی تباہی ہے اتنی ہی انسانی بے حسی کی فضا بھی بن گئی ہے۔ ہمدردی و غم خواری کا وہ جذبہ بن ہی نہیں پایا جو 2005ءکے آزاد کشمیر اور قبائلی علاقوں کے زلزلہ کے فوری بعد پوری قوم میں عُود کر آیا تھا۔ شائد یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ لوگ قدرت کے اختیار کے آگے بے بس ہو کر تڑپ رہے ہوں، اپنی زندگی کے باقی سانسوں کی حفاظت کیلئے ہاتھ پاﺅں مارتے سہارا ڈھونڈ رہے ہوں، فریاد کررہے ہوں، مدد کیلئے پکار رہے ہوں مگر خوشحال زندگی گزارنے والے انسانوں کے دلوں میں ان کیلئے درد کی کوئی ٹیس ہی نہ اٹھے، ہمدردی کا کوئی جذبہ ہی پیدا نہ ہو، ان کی انگلی تھامنے کیلئے کسی ہاتھ کو ان کی جانب بڑھنے کی توفیق ہی نہ ہو۔
کس علاقے کا نام لیا جائے اور کسے نظرانداز کیا جائے۔ اداسی تو چاروں جانب بال کھولے سوئی ہوئی نظر آتی ہے۔ بے چارگی کو چارہ گری کے مفہوم سے ہی آشنائی نہیں رہی اور کج ادائی ہی کج ادائی ہے، کوئی بھلائی، کہیں رسائی نہیں رہی
درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے
زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے
پہلے سیلابی ریلے نے تباہی کا اہتمام کیا تھا، دوسرے نے تو قیامت ہی ڈھا دی ہے۔ کل تک پانی کو ترستے تھے، آج پانی سے پناہ مانگتے ہیں۔ یہ پانی کبھی نہ آکر موت بانٹتا ہے اور کبھی آکر موت پھیلاتا ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے تو موت کا بہانہ بھی ہے۔ اسکی خوبیاں اور قیامت خیزیاں آپس میں گڈمڈ ہوگئی ہیں۔ کبھی دعا کیلئے اٹھے ہاتھوں میں اس کی التجا ہوتی ہے اور کبھی اس سے نجات کی دعا ہوتی ہے۔ قدرت اپنی حقانیت کھول کھول کر بیان کرتی ہے، انسانی بے بسی کے ثبوت پیدا کرتی ہے، کائنات کی رنگینیوں میں ہمہ وقت کھوئے نہ رہنے کا درس دیتی ہے، صلہ رحمی کے جذبے کو بیدار رکھنے کیلئے جھنجھوڑتی رہتی ہے مگر ہم ناشکرے انسان سب کچھ پاکر بھی ناخوش اور سب کچھ کھو کر بھی ناخوش۔ پانی میں قدرت نے آزمائشیں رکھی ہیں تو کھونے میں بھی کئی سبق موجود ہوتے ہیں۔ انسان کو تو ہر حالت میں راضی برضا رہنا چاہئے مگر حرص و ہوس نے انسان کو انسان رہنے ہی نہیں دیا۔ انسانیت کی رمق ہی دلوں میں ختم کردی ہے ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک انسان سیلاب کے آگے بے بس ہو کر ڈوب رہا ہو اور دوسرا اسکی بے بسی سے فائدہ اٹھا کر اسکے گھر میں لوٹ مار کررہا ہو۔ اگر اس سیلابِ بلا نے انسانی بے بسی کی داستانیں رقم کی ہیں تو انسانی بے حسی کے بھی انہی جیتی جاگتی آنکھوں کو نظارے کرائے ہیں۔ بے بسی ایسی رہے کہ لکھ پتی، کروڑ پتی، ارب پتی انسان، اپنے دھن دولت پر مان کرنے والے انسان دیکھتے ہی دیکھتے کوڑی کوڑی کے محتاج ہوگئے ہیں۔ جو اپنی دولت کے بل بوتے پر دنیا خریدنے کا عزم رکھتے تھے وہ اب ایک دانہ¿ گندم کو خریدنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ ان کے زندگی کی آسائشوں کے سارے اہتمام ان کی مستقبل کی لوٹ مار کی تمناﺅں سمیت غارت ہوگئے ہیں۔ سرمایہ داروں کا زعم ٹوٹا ہے تو جاگیرداری کا بھرم بھی قائم نہیں رہا۔ ڈھور ڈنگر ہاتھ سے گئے تو ”جیہدے گھر دانے، اوہدے کملے وی سیانے“ کا تصور بھی عنقا ہوا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، جب لاد چلے گا بنجارہ
زندگی کی بے ثباتی دیکھ کر بھی بے حسی کی چادر تانے پاﺅں پسارنے کی تمنا رکھتے ہیں تو پھر اس تمنا سے غیرمتوازن ہونے والی زندگی کو کب تک گزار پاﺅ گے، کتنا سنوار پاﺅ گے، اس میں تو آلائشیں ہی آلائشیں ہیں، تفکرات ہی تفکرات ہیں، ابھی سیلاب کو تھم لینے دو، انسانی دکھوں کا وہ طوفان اٹھے گا کہ سنبھالا نہ جائیگا۔ یہ دکھ ایک انسان کے نہیں، کروڑوں انسانوں کے ہیں اور المیہ کسی ایک گھر اور ایک خاندان کا نہیں، گھر گھر کا ہے۔ کیا تصور بھی کیا جاسکتا ہے اس انسانی بے بسی کا جو گھر بار، کاروبار چھن جانے سے لاحق ہوئی ہو، جس معاشرے میں غربت، بھوک، مہنگائی، بیروزگاری کے عفرت پہلے ہی منہ کھولے کھڑے تھے۔ بے بس اور بے وسیلہ انسانوں کو زندہ درگور کرنے کا اہتمام کئے بیٹھے تھے۔ سیلابِ بلا نے اس معاشرے کے باوسیلہ انسانوں کو بھی زندہ درگور ہونے کی سزا دیدی ہے تو اس معاشرے میں اب زندگی کے آثار بھی کہاں نظر آئیں گے۔ اگر ہمارے معاشرے میں پلٹ پلٹ کر آنیوالے سیلاب کی تباہ کاریاں قطرینہ اور سونامی سے بھی بڑی ہیں تو دنیا میں ہمارے لئے انسانی ہمدردی کا جذبہ بھی بڑا ہونا چاہئے مگر یہ کیا ہے کہ تحقیر و تضحیک کی تو بہتات ہے، توقیر و توفیق کا کہیں شائبہ تک نظر نہیں آرہا۔ انسانی معاشرے کے ایک حصے کو ٹوٹتا بکھرتا اور ڈوبتے، غارت ہوتے مرتا دیکھ کر بھی دل سے ہُوک نہ اٹھے، صلہ رحمی کا جذبہ سویا کا سویا ہی رہے اور بے بس انسانوں کی فریاد کو آسمان کے کِنگروں تک رسائی ہی نہ مل پائے تو اس سے بڑی قیامت کی نشانی اور کیا ہوگی۔ قدرت نے قیامت کی ہر نشانی کو اجاگر کرکے دکھا دیا ہے تو اب قیامت ٹوٹنے میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے۔ اس لئے اب
زمیں زیر و زبر ہونے کو ہے میرا کہا لکھ لو
کہ میں اس کے فشارِ زلزلہ پیما میں رہتا ہوں