پاکستان کرکٹ کی بربادی

مجاہد حسین سید..........
1954ءمیں پاکستان کرکٹ ٹیم قیادت اے ایچ کاردار کر رہے تھے۔ فضل محمود کی سحر انگیز باولنگ کی وجہ سے انگلستان کو ان کی گراونڈ میں شکست دیکر سیریز برابر کر دی۔ اس ٹیم کی اکثریت اسلامیہ کالج لاہور کے سابق طالب علموں پر مشتمل تھی۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں ناصرف پاکستان بنتے دیکھا بلکہ خود بھی تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ ان کھلاڑیوں کو پتہ تھا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور انہیں ملک کےلئے کچھ کرنا ہے۔ یہ سب کھلاڑی شوقیہ کرکٹ کھیلتے تھے اور ان کو 25 روپے روزانہ الاونس ملتا تھا۔ ان میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ تھا کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاو اور پاکستان سے محبت اور اے ایچ کاردار کی قیادت میں مکمل ڈسپلن اور اتحاد جس کی وجہ سے انہوں نے انگلینڈ کی اس ٹیم کو ہرایا جس میں اس وقت کے دنیا کے بہترین بلے باز سریس ہٹن‘ ڈینس کامپٹن، ٹام گریونی‘ پیٹرمے اور دنیا کے تیز ترین فاسٹ باولر فرین ٹائی سن اور برائن سٹیٹم شامل تھے۔ واضح رہے کہ اس ٹیم میں صرف اے ایچ کاردار کو انگلش وکٹوں پر کھیلنے کا تجربہ تھا۔
اب 2010ءمیں موجود پیشہ ور کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ اسکے علاوہ میچ فیس بھی لاکھوں میں ہے۔ پھر بھی کارکردگی مایوس کن ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹیم میرٹ پر منتخب نہیں کی جاتی بلکہ ٹیم کے چناو میں ذاتی پسند ناپسند کا عنصر ہوتا ہے۔ ایک کھلاڑی تین‘ تین چار چار میچ متواتر ناکام ہوتا ہے اسے موقع دیا جاتا ہے جبکہ اس سے بہتر کھلاڑی ملک میں موجود ہیں ہر سلیکٹرز کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ اس کی تازہ مثال کامران اکمل کو متواتر ناکام ہونے پر ڈراپ کیا گیا اور ذوالقرنین حیدر کو شامل کیا گیا تو اس نے اپنی بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا۔
ڈینس کامپٹن نے کہا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ دو ملکوں کا کھیل نہیں بلکہ یہ دو ملکوں کی جنگ ہے۔ اس میں وہی کھلاڑی کامیاب ہوتا ہے جو ذہنی طور پر مضبوط ہو اور ملک کیلئے جان کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو۔ اگر ہماری ٹیسٹ ٹیم کی یہی کارکردگی رہی تو ہمارا حشر زمبابوے کی طرح ہو گا جوکہ صرف ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کرکٹ تک محدود ہیں۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا‘ پاکستان میں اچھے ٹیسٹ کھلاڑیوں کی کمی نہیں۔ بورڈ کو چاہئے کہ یوسف کی طرح یونس خان‘ عاصم کمال‘ توفیق عمر‘ فیصل اقبال اور محمد سمیع کو فوراً انگلینڈ بھیجیں اور ناکام کھلاڑیوں کو ملک واپس بلا لیں ورنہ چاروں ٹیسٹ ہارنے کا ایک نیا ریکارڈ بھی قائم ہو جائےگا۔
ایک اور بات میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ کرکٹ انگلینڈ میں کھیلی جاتی ہے مگر ان کا ہیڈ کوچ اینڈی فلاور زمبابوے کا ہے۔ باولنگ کوچز ڈیوڈ سٹیٹم آسٹریلوی اور مشتاق احمد پاکستانی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے میرٹ کو ترجیح دی ہے اور دنیا کے بہترین کوچز کا انتخاب کیا ہے۔ ان کی وجہ سے انگلستان ٹیم پستی سے بلندی پر پہنچ گئی ہے۔ سری لنکا کو 1981ءمیں ٹیسٹ سٹیٹس ملا تھا۔ ڈیوڈ واٹمور کی کوچنگ کی وجہ سے وہ پندرہ سال کے مختصر عرصے میں 1996ءمیں عالمی چیمپئن بن گئے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ سب سے پہلے صدر زرداری جو کرکٹ کے پیٹرن انچیف ہیں۔ ان کو چاہئے کہ پی سی بی میں مکمل تبدیلی لائیں اور نیا خون داخل کریں تاکہ کرکٹ پھر اپنا سابقہ عروج حاصل کر سکے۔ بورڈ، ٹیم انتظامیہ اور کپتان کی سوچ میں ہم آہنگی نہیں ہے جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ اعجاز بٹ نے بیان دیا کہ یوسف نے خود دوسرا ٹیسٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ کوچ وقار یونس نے کہا کہ ہم نے خود اسے نہیں کھلایا۔ کپتان صاحب یہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے مشورہ کئے بغیر یوسف کو انگلینڈ بلا لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سلمان بٹ کو مشورہ دینا ضروری ہے کہ وہ سیاستدانوں کی طرح بیان دینے بند کرے اور اپنی تمام تر سوچ کھیل کی طرف کرے۔
سرڈان بریڈ مین جوکہ آسٹریلین ٹیم کے کپتان تھے، دنیائے کرکٹ کا عظیم ترین کھلاڑی مانا جاتا ہے۔ ان سے ایک بار برطانوی صحافی نے پوچھا کہ آپ پریس کانفرنس نہیں کرتے اور زیادہ بولتے نہیں ہیں۔ ڈان بریڈ مین کا مختصر جواب ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ ”میرا بیٹ بولتا ہے“ قارئین کو بتانا ضروری ہے کہ بریڈ مین کی بیٹنگ اوسط 99.94 تھی۔ اگر وہ اپنی آخری اننگز میں چار رنز بنا جاتے تو ان کی اوسط 100ہوتی۔ ان کے ریکارڈ کے آج کوئی قریب بھی نہیں جا سکا۔ ان کے بعد جارج ہیڈلی اور گریم پولاک کی ایوریج 60 ہے جو اس سے کہیں کم ہے۔ کاش اب سلمان بٹ اور دوسرے پاکستانی بلے باز کے بیٹ بولنا شروع کر دیں تاکہ گذشتہ دو ٹیسٹ میچوں کی طرح گیند بازوں کی محنت ضائع نہ ہو جائے۔ ٹیم کو کامیابیوں کی شاہراہ پر ڈالنے کیلئے کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کی گروہی سیاست اور دھڑے بندی کو سختی سے کچلنا ہو گا یا اس بورڈ کو ہی ختم کرنا ہو گا۔