ملبے میں دب گئے! کبھی پانی میں بہہ گئے!

کالم نگار  |  خالد احمد

عالمی ذرائع ابلاغ نے پاکستانی دریاﺅں کی غضب ناکی کی تصویرکشی اتنے باوقار اور موثر پیرائے میں کی کہ مغربی دنیا اس آفت کی شدت اور اس آفت کے تقابل میں کارفرما امدادی کارکنوں کے حوصلے اور جذبے کی حدت پر دنگ رہ گئی! حتیٰ کہ امدادی کارکنوں کے پاس موجود وسائل کی کمی کا احساس تک انتہائی فنکارانہ انداز میں دلایا گیا! اگر دیکھنے والی آنکھ، دکھ درد میں مبتلا لوگوں کے دکھ بانٹنے کے جذبے سے نمناک ہو تو سکرین پر دوڑتا پانی ناظرین کی آنکھیں بھی نم کر جاتا ہے!
پاکستان میں امریکی سفیر نے پاکستان کیلئے امریکی امداد، امریکی عوام میں پیدا ہونے والی تشویش اور پاکستانی عوام کے مصائب کم کرنے کا دگنا ہدف حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا تو ہمیں احساس ہوا کہ امداد کے اعلان کا یہ باوقار انداز بھی تہذیب کا حصہ ہوتا ہے! کاش ہم امداد طلب کرنے کا بھی باوقار اور موثر طریقہ اپنا سکیں!
پاکستانی دریاﺅں کا ”تحصیلی رقبہ“ یا \\\"Catchment Area\\\" ملک کی حدود سے باہر تک پھیلا ہوا ہے! اگر افغانستان میں بارش ہوگی تو یہ پہاڑوں پر برسنے والا سارا پانی دریائے کابل اور دریائے ہنگول اور ان گنت برساتی گزرگاہوں سے ہوتا بالآخر پاکستانی دریاﺅں کا حصہ بنے گا! تبت، ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں پر بارش کا پانی بھی بالآخر پاکستانی دریاﺅں کے ذریعے بحیرہ عرب تک پہنچے گا! لدّاخ سمیت مقبوضہ کشمیر کے تمام پہاڑی ندی نالے اور برساتی گزرگاہیں، یہ سارا پانی پاکستانی دریاﺅں میں لا ڈالیں گی! اگر اسے ”سونامی“ سے زیادہ تباہ کن قرار دیا جا رہا ہے تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں! ہمیں تو حیرانی اس بات پر ہے کہ اتنے طویل عرصے تک دریائی پشتوں کی دیکھ بھال، مرمت اور نگرانی کے کام میں ”تاریخی تساہل“ اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب محکموں کے احتساب کے عمل کے آغاز کی جگہ صرف ”تعمیر نو“ کا ذکر کیوں عام کیا جا رہا ہے! کہیں یہ کوئی ”غیر اعلانیہ“ این آر او تو نہیں؟ کہ اتنے برس ”تعمیر اور مرمت کا بجٹ“ کھانے والوں کیلئے ”عام معافی“ کا براہ راست اعلان ”ممکن“ نہیں تھا! حالانکہ جناب بابر اعوان کے ہوتے کوئی بات ”ناممکن“ کے درجے پر فائز کرنا ان کے ”علم کے سورج“ کو ”چراغ“ دکھانے کے برابر ہے!
اس تباہی کے باب میں ہمیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تمام برقی تقسیمی کمپنیوں کے تحت ”فاٹا“ سے حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی تک موجود برقی ترسیلی نظام کو 4 ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے! سب سے زیادہ نقصان پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے علاقے میں ہوا اور اس کا تخمینہ اڑھائی ارب روپے کے برابر ہے! مدین میں واقع 132 کے وی کا گرڈ سٹیشن تو میخ و بن کے ساتھ مکمل طور پر بہہ گیا! مگر ان بدترین حالات میں بھی 72 فیصد تقسیمی نظام بحال کیا جا چکا ہے! جبکہ باقی برقی کمپنیوں میں 90 فیصد برقی تقسیمی نظام کام کر رہا ہے اور صرف ان علاقوں میں بجلی منقطع ہے جہاں پانی لہریں لے رہا ہے! جبکہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی تمام تنصیبات مکمل طور پر محفوظ اور چالو ہیں! واپڈا اور جینکوز کے تمام برقی پیداواری منصوبے بھی محفوظ اور چالو ہیں! ملتان الیکٹرک پاور کمپنی اور حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اہل کار صورتحال کا مقابلہ پوری تندہی سے کر رہے ہیں!
برقی توانائی سے فیض یاب ہوتے وقت احساس بھی نہیں ہو پاتا کہ ان گنت لوگ ہماری خدمت میں حاضر ہیں کیونکہ یہ لوگ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں! لہٰذا ہم نے چلتے چلتے ان ”سایوں“ کا بھی ذکر کرنا ضروری گردانا، جنہیں ہم دیکھنے کے عادی ہی نہیں!
کاش! ہم پاکستان واپڈا کے خلاف اس ”سازش“ میں شریک نہ ہوئے ہوتے جسے اب ہم ہی بھگت رہے ہیں! واپڈا پاکستان کا واحد ترقیاتی ادارہ تھا، جس نے پاکستانی زراعت اور صنعت کا چہرہ بدل کر رکھ دیا تھا، مگر نادہندگان کے زورِ بازو نے واپڈا کا چہرہ کجل کے رکھ دیا! سبحان اللہ! ہم اپنے قومی اداروں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ ذرا سوچیں! ذرا سمجھیں! ورنہ اکتفا کے لئے ایک شعر حاضر خدمت ہے
ساغر غریب لوگ تو تنکوں کے ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے!