صدر زرداری لندن گئے نہیں تھے بلائے گئے تھے

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ہم کہتے تھے کہ بھٹو اور زرداری بلاول کی سیاسی تاج پوشی اصل معاملہ نہیں اندرون ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے آنکھیں چرا کر بھٹو اور زرداری بلاول کے والد مکرم اور ملک بھر کے ”باشعور عوام“ کا انتخاب آصف علی زرداری کسی ”مجھے بچاﺅ اور جو چاہو کروا لو“ کے مشن پر لندن براستہ پیرس تشریف لے گئے ہیں افغانستان پر قابض نیٹو ممالک کی افواج میں فرانس کے صلیبی دستے بھی شامل ہیں اس کے صدر کو بھی اپنے فوجیوں کی سلامتی کی فکر ہے اور اسے بھی افغانستان میں امریکہ اور اس کے صلیبی ساتھیوں کی ناکامی منظور نہیں لہٰذا صدر آصف علی زرداری ”میں جو ہوں“ کا پیغام پہنچانے اور اپنی ”میں میں شاہی“ کی قوت قابضہ کو مضبوط بنانے کے لئے گئے ہیں ہمارا موقف سن کر پوچھا جاتا تھا کہ ان کی شاہی والے تو یہ نہیں مان رہے ہم کہتے تھے کہ اگر معاملہ بھٹو اور زرداری بلاول کی تاج پوشی کا ہی ہوتا تو وہ تو سیلابوں کے دفع دور ہو جانے کے بعد بھی ہو سکتی تھی۔ معاملہ ”میں جو ہوں“ کا یقین دلانا اور اس کے بدلے میں بے نظیر این آر او کو زرداری این آر او بنوانے کا ہے لندن مقیم ایک پاکستانی صحافی وہاں کے سفارتی اور سیاسی اور اخباری حلقوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ”صدر آصف علی زرداری برطانیہ کے دورے پر آئے نہیں تھے بلائے گئے تھے“ وہ صحافی کافی بزرگ ہیں تیس چالیس سال سے لندن میں صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور ہمارے اس موقف سے ڈیڑھ دو فیصد فیصد متفق ہیں کہ واقعی بھٹو اور زرداری بلاول کی تاج پوشی اس دورہ کی پردہ پوشی ہی تھی معاملہ ”میں جو ہوں“ بھی تھا مگر اس میں ”فوری آﺅ“ کا حکم بھی شامل تھا وہ کہتے ہیں کہ برطانوی وزیراعظم کے بنگلور والے بیان سے پاکستان میں جو صورت احوال پیدا ہو گئی تھی این آر او شاہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے سامنے ”کیمرون کا پاکستان مخالف بیان حقائق کے منافی ہے ہم اس پر احتجاج اور اس کی شدید مذمت کرتے ہیں“ کا بیان دیا تھا تو آصف علی زرداری ڈانواں ڈول سے ہو گئے تھے اور برطانوی وزیراعظم کو خیال آنے لگا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ یعنی این آر او شاہ اپنے ملک کے اہل غیرت و شعور کے دباﺅ میں آ جائیں اور حکم عدولی ہی کر دیں اس خدشہ کے پیش نظر ڈیوڈ کیمرون نے سفارتی حلقوں کے ذریعے پیغام بھجوایا تھا کہ ”بھلا چاہتے ہو تو بھلے مانسوں کی طرح چلے آﺅ“ اور صدر پاکستان کو جانا پڑ گیا تھا۔ ڈیوڈ کیمرون کو ان سے ملاقات کی ایسی فوری ضرورت کیا پڑ گئی تھی؟ وہ کہتے ہیں کہ ”وکی لیکس“ پر افغانستان میں جنگ و جدل کی خفیہ رپورٹیں آ جانے کے حوالے سے ڈیوڈ کیمرون صدر آصف علی زرداری سے دوٹوک بات کرنا چاہتے تھے۔ ان سے ہی کیوں؟ سید اور گیلانی ان کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں اور 18ویں ترمیم کے نفاذ سے وہ بااختیار بھی بتائے جاتے ہیں ان سے کیوں نہیں؟ ایک وزیراعظم دوسرے وزیراعظم سے دوٹوک بات کرنے کی بجائے چودھری فضل الٰہی ہو چکے آصف علی زرداری سے کیوں دوٹوک بات کرنا چاہتا تھا؟ اس لئے کہ وہ این آر او جس کی وجہ سے آصف علی زرداری بے وردی پرویز مشرف کہے جا سکتے ہیں اس کے کرانے میں برطانیہ نے اہم کردار ادا کیا تھا برطانیہ ہی کی کوششوں سے زرداری صاحب کی بی بی جی اور پرویز مشرف کے درمیان ابوظہبی میں وہ ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں کے درمیان مک مکا ہو گیا تھا آصف علی زرداری کی ذاتی اور سیاسی صحت کا راز اسی مک مکا میں ہے اور اقتدار اور اختیار کے جس کمن کیر میں وہ محور و مرکز ہیں وہ بھی اسی این آر او کی برکتوں کی وجہ سے ہے اس لئے ”ڈیوڈ کیمرون آئی ایس آئی کے افغان طالبان کے ساتھ مبینہ تعلقات کے بارے کسی ”باخبر اور بااثر“ اعلیٰ شخصیت سے اصل حقائق معلوم کرنا چاہتے تھے“ اور ایک منصوبے کے تحت وہ بیان دیا گیا تھا اور دہرایا جاتا رہا تھا اور آصف علی زرداری کو فوری بلایا گیا تھا وہ کیا کرتے؟ جان کس کو پیاری نہیں ہوتی؟ این آر او شاہ کے وزیر خارجہ مخدوم ملتان شاہ محمود قریشی ہیں ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے بارے میں منت سماجت کرنے کے لئے انہوں نے ہی بعداز خواری بسیار اسلام آباد میں متعین برطانوی ہائی کمشنر کو اپنے دفتر بلایا تھا لیکن اس دورے میں وہ اپنے صدر کی ٹیم میں شامل نہیں تھے بلکہ وزیر دفاع احمد مختار کو آصف علی زرداری ساتھ لے گئے تھے کس لئے؟ ان کے یعنی احمد مختار بٹ برادر کی ٹیم کا ٹیسٹ میچ دکھانے اور تالیاں بجوانے کے لئے نہیں باخبر بااثر اعلیٰ شخصیت سے دوٹوک بات کرنے کے ڈیوڈ کیمرون کے منصوبہ کی تکمیل میں اس شعبہ کے سربراہ ہی آصف علی زرداری کی تائید وحمایت کر سکتے تھے جس کے دائرہ کار میں آئی ایس آئی اور اس کے معاملات آتے ہیں جس روز این آر او شاہ نے پیرس میں نزول فرمایا تھا اسی دن ان کے قمرالزمان نے لندن میں کائرانہ دھمکی دی تھی کہ ”اگر کیمرون اپنے بھارت میں دئیے بیان پر قائم رہے تو برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ صدر زرداری کیمرون کے بیان کا معاملہ پرزور طریقہ سے اٹھائیں گے“ اور کیمرون زرداری اکھ مٹکے کے بعد اسی قمرالزماں نے انکشاف فرمایا تھا کہ ”زرداری نے پاکستان کا کیس بھرپور لڑا ملاقات انتہائی مثبت رہی“ اٹھایا تھا زرداری نے کیمرون کے بیان کا معاملہ؟ نہیں تو کون سا کیس انہوں نے بھرپور لڑا تھا؟ کس حوالے سے ملاقات انتہائی مثبت رہی تھی؟ زرداری نے تو برمنگھم کے اپنے فدائین کو بتایا تھا کہ ”میں نے کیمرون کی آنکھوں میں دیکھا پھر ہم میں بھرپور دوستی ہو گئی“ کن میں دوستی ہو گئی؟ پاکستان اور برطانیہ میں یا آئی ایس آئی کے بارے میں اصل حقائق سے آگاہ کر دینے والی باخبر بااثر اعلیٰ شخصیت اور ڈیوڈ سٹار کے درمیان؟ ایوان صدر کی صفائی کی ڈیوٹی دینے والی فوج باموج کے کمانڈر بابر بیش کوش کے صفائی انٹرویو سے بھی اس کی تائید نہیں ہو جاتی کہ مجبوری تھی نہ جاتے تو کیا کرتے؟ ڈیوڈ کیمرون بلائے اور بے نظیر این آر او شاہ نہ جائے؟