حکومت اور ”حماکت“

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

صدر زرداری کو اس مصیبت کی گھڑی میں ہموطنوں کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہئے تھا۔ میں یہ بات مخالف کے طور پر نہیں لکھ رہا، میں پاکستانی ہوں اور وہ پاکستان کے صدر ہیں۔ انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ سب لوگ اور تقریباً سب جیالے خفا ہیں تو پھر خوش کون ہے۔ جو خوش ہونے کی اداکاری اور سیاست کر رہے ہیں اندر سے وہ بھی ناخوش ہیں۔ سب کہیں مگر نواز شریف کو تو یہ نہیں کہنا چاہئے۔ وہ کتنی بار ملک کو بحران میں چھوڑ کر لندن چلے گئے۔ میڈیا نے شور مچایا، لوگوں نے برا منایا مگر نواز شریف اور متوالوں نے خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ صدر زرداری کے ہوس پرست اور موقع پرست کاروباری دوست خواہ مخواہ آپے سے باہر ہوتے ہیں۔ وہ حکومت کو بھی کاروبارِ حکومت کہتے ہیں۔سیاست کرنے اور سیاست کھیلنے میں فرق ہے۔ اپنے آپ کو عقل کل نہیں سمجھنا چاہئے۔
میں صدر زرداری کے لئے کوٹ لکھپت جیل سے رہائی اور ایوانِ صدر کی قید سے رہائی کی خاطر لکھتا رہا ہوں۔ میں دکھی دل سے کہہ رہا ہوں کہ صدر زرداری کو کیمرون کی بدزبانی کے بعد برطانیہ کا دورہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ لوگوں اور جیالوں کو نفرت بھری بے بسی میں چھوڑ کر وہ چلے گئے، بڑا برا لگا تو اس کے بعد مخالفانہ تنقید کو برداشت کرنا چاہئے تھا۔ مجھے یقین ہے کہ صدر زرداری نے کسی جذباتی ردعمل کا اظہار نہ کیا ہو گا تو پھر اس کے نادان لالچی اور مستقل خوشامدی دوستوں نے ردعمل کو ردی عمل کیوں بنا دیا ہے۔ کیا انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی خوشامد اور خوش آمدید میں فرق نہیں کرتے۔
جو باتیں کراچی واپسی پر صدر زرداری نے کیں، وہ لندن برمنگھم میں کیوں نہیں کی جا سکتی تھیں۔ دنیا کو دہشت گردی کے لئے پاکستانیوں اور پاکستانی فوجیوں کی قربانی سے آگاہ کرنا تھا تو کیوں آگاہ نہیں کیا۔ کیا انہوں نے کیمرون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں؟ اس کے منہ میں خاک ڈالنا چاہئے تھی۔ یہ بات سفارتی آداب کے خلاف نہ تھی کہ اسے بھارت میں پاکستان کے خلاف دشنام طرازی کرنے پر لعن طعن کی جاتی۔ صدر زرداری اس کے خلاف ملی بینڈ جیسی بات نہ کرتا تو کم از کم لارڈ نذیر کی طرح بات تو کرتا۔ سعیدہ وارثی کی وضاحت پر اُف نہ کی۔
صدر زرداری ہر ملک میں آصفہ کو اس کی ماں کی تصویر کی طرح ساتھ ساتھ لئے پھرتے ہیں۔ آخر بختاور ساتھ کیوں نہیں ہوتی۔ سیلاب زدگان کے لئے صرف اس کی طرف سے بیان آیا ہے۔ برمنگھم میں جلسہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ معلوم تھا کہ برطانیہ کے ”پاکستانی ماحول“ میں تلخی ہے۔ بلاول زیادہ بڑا سیاستدان نکلا۔ یہ جلسہ اس کی تاج پوشی کے لئے تھا۔ اس نے ابھی اپنے سیاسی تاج کو تاراج ہونے سے بچا لیا وہاں ایک ناراض جیالے نے جوتے اچھال بھی دئیے تھے اس پر نمبر بنانے والوں اور جیالوں نے جو اچھل کود کی تو اس کی کیا ضرورت تھی۔ عالمی اور برطانوی میڈیا نے جوتا بازی کا تنقیدی ذکر کیا ہے۔ سردار شمیم نے انٹرویو میں جوتا اچھالنے سے بھی زیادہ جذبات کو اچھالا۔ مگر ایوان صدر کا ”مسٹر تردید“ ترجمان فرحت اللہ بابر کہتا ہے کہ ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا۔ یہ جوتابازی نہیں ہونا چاہئے تھی۔ صدر بش کے لئے عراقی صحافی نے کی۔ صدر زرداری کے لئے بھارتی صحافی کرتا مگر وہ تو بھارت کے واری صدقے جاتے ہیں۔ سردار شمیم جیالا ہے اور نذر گوندل کہتا ہے کہ یہ ایجنٹ ہے۔ یہ غیر سیاسی رویہ ہے۔ شرمندگی سے کوئی بات اعتبار نہیں بنتی۔ خدا کی قسم وہ تھوڑی دیر کے لئے برطانیہ نہ گئے ہوتے تو پاکستانی ان کو واقعی صدر مان لیتے۔ بھٹو سے عشق بھارت سے نفرت کی وجہ سے تھا۔ ہمارے کسی حکمران نے ایسا دلیرانہ اور دلبرانہ فیصلہ نہیں کیا کہ عوام اور تاریخ کے دل میں زندہ ہوتا۔ جنرل ایوب نے مادر ملت کے حق میں دستبرداری کا فیصلہ کیا ہوتا۔ بھٹو اتنی جلدی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرتا۔ جنرل ضیاءبھٹو کو پھانسی نہ چڑھاتا۔ نواز شریف انجینئر جنرل ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ نہ کرتا۔ جلاوطن نہ ہوتا ہموطنوں کے ساتھ رہتا۔ اسے لے جانے والے پھر اسے اقتدار میں لانے والے ہیں۔ وہ وطن آنے پر چودھری برادران سے صلح کر لیتا۔ چودھری نثار کی بجائے جاوید ہاشمی کو اپوزیشن لیڈر بناتا۔ بینظیر بھٹو مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ لڑائی نہ کرتی، صدر لغاری اپنی بہن اور لیڈر بینظیر بھٹو کی حکومت نہ توڑتا۔ جنرل مشرف دوسری بار عدلیہ کُش مارشل لا نہ لگاتا۔ صدر زرداری ایوان صدر میں حلف کے فوراً بعد چیف جسٹس کو بحال کر دیتا اور کم از کم برطانیہ کے دورے پر نہ جاتا۔ آخر یہ فیصلے کرکے وہ زندہ کیوں نہ ہوئے اور مر گئے باقی بھی مر جائیں گے۔ یہ کام ان سے کون کرواتا ہے۔ وہی جو ان کو لاتا ہے اور پھر لے جاتا ہے۔ برطانیہ کا دورہ ”کسی“ کے مشورے پر کیا گیا اور بعد میں بھی سب کچھ اس کا کیا دھرا ہے۔ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہ جاتے ہیں۔ امریکہ ملزموں کو لے آتا ہے اور مجرم بنا کے لے جاتا ہے۔ مجرم پھر ملزم بن جاتے ہیں۔ مجاہدین کو دہشت گرد بنایا گیا۔ یہی دہشت گرد پھر مجاہدین بنا دئیے جائیں گے۔ امریکہ کی مستقل بے دام منڈی اور ہر موقع پر اس کی سلامی اپنی غیرت اور مفاد کی بے قیمت نیلامی ہماری بدقسمتی ہے اور ہم بدقسمتی کو خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکہ نے برطانیہ سے کروایا ہے اور جیالے نواز شریف کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ بھٹو کو پھانسی اور بینظیر بھٹو کو گولی امریکہ نے مروائی۔ جیالے جنرل ضیاءکے اور بیت اللہ محسود کے خلاف ہیں۔ ہر حکمران نے جو کیا اس سے کرایا گیا۔ وہ مجبور تھا جیسے حکمران بننے پر مجبور تھا۔ ہر حکمران وہی کرتا ہے جو پہلے حکمران نے کیا تھا اور سب کا آغاز اور انجام بھی ایک جیسا تھا۔ حکومت اور حماکت میں فرق نہیں۔ حماکت، حماقت سے بڑی ہے اور بری ہے۔
برطانیہ میں جوتابازی اور ہمارے سیاستدانوں کی بیان بازی میں کوئی فرق نہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان کا بیان غور طلب ہے کہ جیالے دو دو جوتے پہنتے ہیں۔خوشنود علی خان نے لکھا ہے کہ اب کوئی سیاستدان جوتوں سے نہیں بچے گا۔ جوتیوں میں ”سیاسی دال“ تو پہلے ہی بٹ رہی ہے۔ پگڑیاں اچھالنے کی بات پرانی ہو گئی ہے۔ سردار شمیم نے آزادکشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کو فون کیا۔ راجہ صاحب کو پیپلزپارٹی کے منظور وٹو نے ہٹوایا۔ اب وہ شریف برادران کی طرف جوتے اچھالنے کی منصوبہ بندی یعنی سازش کرے گا۔ بات میں کچھ کالا ہے اور یہ دال میں کچھ کالا ہونے سے زیادہ ”کالا“ ہے۔ راجہ شمیم مشکوک اور متنازعہ بن گئے ہیں۔ اپنی بات کو وہ جذباتی رکھتے مگر سیاسی نہ ہونے دیتے۔ یہ روایت حکایت بنے گی تو جو تم بیزار ہو گی۔ سیاستدانوں کو جوتوں کا سامنا ہو گا پھر بوٹوں کا سامنا ہو گا۔ استاد دامن نے کہا تھا فوجاں ای فوجاں تے موجاں ای موجاں۔ میں کہتا ہوں سیاست ہی سیاست تے تفرت ہی نفرت۔ جس حکومت کے مشیر شرمیلا فاروقی اور فیصل رضا عابدی ہوں اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ شرمیلا فاروقی کو شرمیلا ہونے اور شرمندہ ہونے کا فرق معلوم نہیں۔ صدر زرداری کا دفاع کرتے ہوئے وہ نجانے کیا کر رہی ہوتی ہے۔ جیالے اسے بھی اپنا لیڈر سمجھتے ہیں۔
فیصل رضا عابدی کہتا ہے کہ زرداری نہ جاتا تو کیا سیلاب رُک جاتا۔ وہ اپنی قمیض اتار کے دے دیتا تو کیا مصیبت زدگان کے تن بدن ڈھک جاتے۔ شکر ہے اس نے شلوار اتارنے کی بات نہیں کی۔ اس کے بعد فیصل نے اپنی قمیض اتارنے کی اداکاری کی۔ اب سیاستدانوں کو سرکاری ریسلنگ کی پریکٹس کرنا ہو گی۔ نورا کشتی بھی ہو گی مگر کبھی کشتوں کے پشتے بھی لگیں گے۔ اب کرکٹ میں گیند کی بجائے جوتی کا استعمال شروع ہو گا اب تو کرکٹ کو بھی کوڑا کرکٹ بنا دیا گیا ہے۔
ترجمان بلاول ہاوس نے کہا کہ برمنگھم میں ”جوتا بازی“ کا ٹاسک حزب التحریر کو چودھری نثار نے دیا تھا۔ چودھری نثار کی بیان بازی جوتا بازی سے کم نہیں مگر تحقیق کے بغیر کوئی بات نہیں کرنا چاہئے۔ کچھ جیالیاں کہہ رہی ہیں کہ ایساواقعہ ہی نہیں ہوا۔ سردار شمیم نے پاکستان کے اگلے پچھلے سب حکمرانوں کے لئے کہا ہے کہ وہ جوتوں کے مستحق ہیں۔ اب تو الزام بازی کی طرح جوتا بازی بھی ایک سیاسی سرگرمی بن جائے گی۔ سردار شمیم نے کہا کہ سترہ کروڑ عوام سارے افسران اور ہر حکمران کو ایک ایک جوتا ماریں۔ ایک جیالے نے فرانسیسی محل کو صدر زرداری کا خاندانی محل کہہ دیا ہے۔ شکر ہے ابھی اس نے محل کو حجرہ نہیں کہا۔ سب سے چھوٹی بات مخدوم گیلانی نے کی۔ کسی کو صدر زرداری کے دورے کے لئے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، میں چیف ایگزیکٹو ہوں اور ملک میں موجود ہوں۔ صدر زرداری کو جوتیاں پڑنے کی کیا تکلیف ہے؟ اس کا بدلہ ہم خود لیں گے۔