جوانو! جشن آزادی

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

اپنے سینے پہ پرچم سجاو
دل میں چاہت کی شمع جلاو
بھائی سیلاب میں جو گھرے ہیں
ان کا دکھ درد مل کر بٹاو
سچے جذبے سے اور سادگی سے
اب کے آزادی کا دن مناو
جن گھروں کے دئیے بجھ گئے ہیں
پیار کی چاندنی لے جاو
منتظر ہے اندھیرے میں جو بھی
روشنی میں اسے لے کے آو
ایک روٹی اگر ہے تو آدھی
بھوکے بھائی کو اپنے کھلاو
کرو کیمپوں میں جا کے چراغاں
روتے چہروں کو بھی تو ہنساو
ہوں نہ مایوس وہ زندگی سے
ہر طرح ان کی ڈھارس بندھاو
سو رہے ہیں جو لیڈر گھروں میں
دے کے دستک انہیں بھی جگاو
کرکے گھیراو چاروں طرف سے
فرض انہیں یاد ان کا دلاو
کر رہے ہیں جو مہنگائی تاجر
کہو ان سے گرا دیں وہ بھاو
خوبصورت ہو پرامن ریلی
خود اثاثے نہ اپنے جلاو
اے وطن کے کروڑوں جوانو
متحد قوم بن کر دکھاو