آزاد میڈیا کے بغیر قومی مفاد کا تحفظ ممکن نہیں: سلمان غنی

کالم نگار  |  محمد مصدق

حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان ہر موضوع پر فکری نشستوں اور سیمینارز کا انعقاد کرتا رہا ہے۔ ماہ آزادی اگست کے حوالے سے ”آزاد پاکستان اور آزاد میڈیا! بقائے جمہوریت کے تقاضے“ کے موضوع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں اشرف شریف، ڈاکٹر احسن اختر ناز، سلمان غنی اور خوشنود علی خاں صدر سی پی این ای نے تقریریں کیں۔ مہمان خصوصی لیاقت بلوچ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اور ضیاءالرحمن امجد سربراہ حالات حاضرہ پی ٹی وی لاہور سنٹر تھے اور صدارت کے فرائض سیدہ عابدہ حسین نے ادا کےے۔
اشرف شریف نے سوشل تبدیلیوں کے حوالے سے میڈیا کے کردار کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ میڈیا نے اپنا اپنا ایجنڈا سیٹ نہیں کیا ہے۔ سستی خبروں کی تشہیر زیادہ کی جاتی ہے اور تماشائی کا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ سلمان غنی نے کہا کہ میڈیا کس حد تک آزاد ہونا چاہےے اس کا تعین ضرور ہونا چاہےے تاکہ مادر پدر آزادی کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ ہم پہلے مسلمان ہیں پھر پاکستانی اور بعد میں اخبار نویس ہیں۔ آزاد پاکستان کے لےے آزاد میڈیا ناگزیر ہے اور آزاد میڈیا کے بغیر قومی مفاد کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کی آزادی کا کوئی بھی تصور میڈیا کی آزادی کے بغیر ادھورا ہے۔ ڈاکٹر احسن اختر ناز نے کہا میڈیا ہمارے ملک میں کبھی آزاد نہیں ہوا، حیرت کی بات ہے کہ فوجی آمریت اور جمہوریت کے بجائے نگرانی حکومت کے زمانے میں میڈیا کو زیادہ آزادی ملی ہے۔ سی پی این ای کے صدر خوشنود علی خاں نے تفصیل سے بتایا کہ جس قسم کی آزادی کا تصور قوم رکھتی ہے ویسی آزادی عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ اطلاعات تک رسائی کے بغیر میڈیا آزادانہ اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ صحافیوں نے کوڑے کھائے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن آزادی صحافت کا سودا نہیں کیا۔ میڈیا اس وقت آزادی کے نام پر اس مقام تک چلا گیا ہے کہ جہاں ہم اپنا ملک بیچ رہے ہیں اور سکرپٹس بھی۔ انڈیا کو جو انفارمیشن کروڑوں دے کر بھی حاصل نہیں ہوتی وہ اخبار سے مل جاتی ہے۔ مہمان خصوصی ضیاءالرحمن امجد نے پاکستان بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد کہا کہ میڈیا کی آزادی میں اقربا پروری حائل ہے۔ باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ محمد بن قاسم سے قیام پاکستان پروگرام کرتے ہوئے احساس ہوا کہ کتنی قربانیوں کے بعد پاکستان آزاد وطن بنا ہے۔ میڈیا دو دھاری تلوار ہے۔ نشان منزل بھی دکھا سکتا ہے اور لہو و لعب بھی۔ معاشرے کی تعمیر کے لےے مثبت تبدیلی لانا میڈیا کا کام بھی ہے اور ذمہ داری بھی جس آزاد پاکستان کا خواب دیکھا تھا اس پر کوئی سیاستدان گفتگو نہیں کرتا۔ لیاقت بلوچ نے زمانہ طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ میڈیا نے جدوجہد سے اپنے آپ کو چوتھا ستون تسلیم کرایا ہے۔ آزاد میڈیا کی بقا کے لےے اپنی اصلاح کرنے اور چہرہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ آئینہ توڑنے کی۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ اگر خود کو سندھی، پنجابی تک محدود کر لیا تو یہ پاکستان کی منزل نہیں ہو گی۔ قوم کو فرضی تجزیوں کے ذریعہ منتشر کیا، میڈیا کو اپنی اصلاح کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ آزاد پاکستان کی بقا آزاد میڈیا ہی ہے لیکن ذمہ داری کے ساتھ۔