علامہ محمد اقبالؒ کے یوم ولادت کی شاندار تقریب

کالم نگار  |  نعیم احمد
علامہ محمد اقبالؒ کے یوم ولادت کی شاندار تقریب

علامہ محمد اقبالؒ کا مسلمانانِ ہند پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے ولولہ انگیز افکار کے ذریعے ان میںحریت فکر پیدا کی۔ اس حریت فکر کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عملی شکل میں ڈھال کر مسلمانوں کو شاہراہِ آزادی پر گامزن کیا۔ فکر اقبالؒ کے اثرات محض تحریک پاکستان تک محدود نہ تھے۔ وہ زمان و مکان کی حدود سے ماورا تھے۔ چنانچہ عہد حاضر میں بھی ان کی اہمیت اور افادیت مسلم ہے۔ فکر اقبالؒ میں پائی جانے والی آفاقیت اور تازگی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ قرآن مجید سے اخذ کردہ ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے قابل عمل نظام زندگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کے مطابق ’’اقبالؒ قرآن کا شاعر ہے۔‘‘ حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے بذات خود فرمایا تھا کہ ’’میرے کلام کا منبع و مآخذ قرآن و سنت ہے۔ کوئی آدمی بھی اس وقت تک میرے کلام کی رُوح تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کا ان دو مآخذوں پر عبور نہ ہو۔‘‘ دراصل اللہ کریم نے ان سے اس حیاتِ مستعار میں جو کام لیا‘ وہ اپنے ثمرات کے لحاظ سے صدیوں پر محیط ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک سرچشمۂ فیض تھے جس نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں میں فکری اور سیاسی تحریک کی آبیاری کی بلکہ دنیائے اسلام کے دیگر خطوں میں بھی آزادی کی لہریں پیدا کیں۔ وہ صدقِ دل سے دینِ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے آرزو مند تھے۔ ان کا یہ شعر اسی خواہش کا عکس جمیل ہے ؎
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے‘ وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
دنیائے صحافت کی انتہائی قد آور شخصیت شورش کاشمیری نے لکھا تھا ’’یہ کہنا کہ اقبال صرف پاکستان کے تھے یا پاکستان ہی کے لئے تھے‘ ان کے فکر کو محدود کرتا ہے۔ بے شک ان کی نظریاتی آواز نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہی میں دفن ہیں۔ یہ معمولی شرف نہیں کہ پاکستان ان کا مولد بھی ہے اور مدفن بھی ہے۔ یہاں ان کے افکار کی روح مقابلتاً نہایت قوی اثر رکھتی ہے لیکن داعی شخصیتیں‘ جن کا پیغام عصری ہوتا ہے‘ مقامی کی بجائے بین الاقوامی ہوتی ہیں۔ ان کا مشن عالمی ہوتا ہے۔ اقبال کو ہم پاکستان کے لئے مخصوص کرلیں تو مطلب ہوگا کہ ہم اس (پیغام) کو محصور کررہے ہیں حالانکہ بنیادی طور پر وہ ایک عالمی شاعر اور اسلامی مفکر ہیں جن کے مخاطب مسلمان اور ان کی وساطت سے پورا مشرق ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا‘ اسلام سے حاصل کیا‘ لہٰذا میرا دل اگر اسلام کے لئے درد مند ہے اور میں اس کا احیاء چاہتا ہوں تو یہ ایک قدرتی خواہش ہے۔‘‘ علامہ محمد اقبالؒ کو خدائے بزرگ و برتر کے حبیب کریم حضرت محمدؐ سے عشق کی بدولت لازوال عروج نصیب ہوا۔ وہ اپنی حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے۔ 1909ء میں عطیہ بیگم کے نام sایک خط میں تحریر فرمایا: ’’وہ خیالات جو میری رُوح کی گہرائیوں میں طوفان بپا کئے ہوئے ہیں‘ عوام پر ظاہر ہوجائیں تو مجھے یقین ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہوگی۔‘‘ اس خود شناس ہستی نے امت مسلمہ کو خودی کا درس دیا اور اسے غریبی میں نام پیدا کرنے کی تاکید کی۔
آج ملت اسلامیہ اغیار کی دستِ نگر ہے۔ دشمنانِ اسلام اسے سمندر کی جھاگ سے زیادہ وقعت نہیں دیتے۔ اس کے جملہ عوارض کا علاج حکیم الامت کے اس مصرعے ’’جورہی خودی تو شاہی‘ نہ رہی تو رُوسیاہی‘‘ میں پنہاں ہے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ فکر اقبالؒ کا نقیب ہے۔ اس ادارے کی طرف سے اہل وطن کو مسلسل ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ فکر اقبالؒ سے از سر نو رجوع کر کے اس مملکت کو صحیح معنوں میں اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے خوابوں کی تعبیر بنانے کی جدوجہد کریں۔ عوام الناس بالخصوص نسل نو کو فکر اقبالؒ سے روشناس کرانے کے لیے ان دنوں ٹرسٹ کے زیراہتمام عشرۂ تقریبات یوم اقبال بڑے تزک و احتشام سے منایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں علامہ محمد اقبالؒ کے 140ویں یومِ ولادت کے موقع پر اس نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک شاندار تقریب منعقد کی۔ تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب محمد رفیق تارڑ نے تقریب کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں انہیں حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ ولادت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسلامیانِ ہند کے محسن اور عہدِ حاضر میں دینِ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ ان کے حیات بخش افکار کو زادِ راہ بنا کر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندوئوں کے امکانی تسلط سے نجات دلائی۔ تقریب میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال‘ علامہ محمد اقبالؒ کے پوتے ولید اقبال ایڈووکیٹ‘ سجادہ نشیں آستانۂ عالیہ علی پور سیداں پیر سید منور حسین جماعتی گروپ‘ ایڈیٹرروزنامہ نئی بات پروفیسر عطاء الرحمن‘ معروف دانشور اور کالم نویس ڈاکٹر اجمل نیازی‘ ڈائریکٹر ریسرچ اقبال اکیڈمی ڈاکٹر طاہر حمید تنولی اور بیگم خالدہ جمیل نے بھی اظہار خیال کیا ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید نے بڑی عمدگی سے نبھائے۔بعد ازاں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے عہدیداران اور کارکنان پر مشتمل وفد نے مزار اقبالؒ پر حاضری دی‘ پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور حکیم الامت کے بلندیٔ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی