نواز شریف کی ’’آن دی ریکارڈ‘‘ اور آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
نواز شریف کی ’’آن دی ریکارڈ‘‘ اور آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو

وزیراعظم کے خصوصی طیار ے نے دوشنبے سے اسلام آباد کے لئے اڑان بھری ہی تھی کہ وزیر اعظم کے پرسنل سٹاف نے بتایا کہ کچھ دیر میں ہی وزیر اعظم صحافیوں سے ’’گپ شپ ‘‘ لگانے کے لئے آرہے ہیں ان کے لئے ایک صحافی نے فوراًاپنی نشست خالی کردی وزیر اعظم نے اسلام آباد سے تاجکستان جاتے ہوئے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے واپسی پر’’ گپ شپ‘‘ لگانے کا وعدہ کر رکھاتھا سو جوں ہی وزیر اعظم محمد نواز شریف صحافیوں کے پاس آکر بیٹھے تو ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی گئی وزیر اعظم ’’ دوست صحافیوں‘‘ جنہیں وہ سالہاسال سے ذاتی طور جانتے تھے کے ’’تند وتیز‘‘ سوالات کا سامنا کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی حساس نوعیت کے سوالات کو ہوا میں اڑا تے رہے میں پچھلے دو روز سے عمران خان کے ہاتھوں’’ زخم خوردہ‘‘ نواز شریف کی ’’باڈی لینگوئج کا بغور جائزہ لے رہا تھا مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ’’ زخم خوردہ ‘‘ نواز شریف بار بار قہقہے لگا کر کسی کو اس بات کا احساس نہیں ہونے دے رہے کہ وہ ایک’’ کرکٹر ‘‘کے لگائے زخموں سے کس حد تک زخم خوردہ ہیں وہ ’’خونخوار شیر‘‘ کی طرح ہر سیاسی ’’حملہ آور‘‘ کا تیا پائنچہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں میں نے یہ بات خاص طور نوٹ کی ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنے بارے میں لکھے گئے ان کالموں اور خبروں کو بھلا نہیں پاتے جن میں ان کے ’’دوست‘‘ اخبار نویسوں نے ان کی سیاست کے حوالے سے تنقید کی ہے ہمار ے ساتھ ایک سینئر صحافی بھی شامل تھے جن کے کالم میں ’’پارٹی از اوور‘‘ کی پیشگوئی کی گئی تھی وہ سینئر صحافی اپنے کالم کی وضاحت کرتے رہے کہ انہوں نے اپنے کالم میں خدشات کی نشاندہی کی ہے لیکن میاں نواز شریف نے اس سینئر صحافی کے کالم کو بڑی دیر تک موضوع گفتگو بنائے رکھا اور ان کے تیکھے سوالات کاکوئی واضح جواب دینے سے گریز کرتے رہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بارے میں میرا تاثر غلط ثابت ہوا ہے کہ وہ اپنے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والی ’’خبروں ، تجزیوں اور کالموں ‘‘ کو نہیں پڑھتے ۔تاجکستان روانگی سے ایک روز قبل وزیر اعظم آفس کے آڈیٹوریم میں قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دئیے جانے والے استقبالیہ میں جوں ہی میرا اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کا آمنا سامنا ہوا تو ان کو میری روزنامہ نوائے وقت میں ایک روز قبل شائع ہونے سنگل کالم خبر یاد تھی جیسے یہ خبر ان کے دل میں چبھ سی گئی ہو میں نے اس خبر میں جے آئی ٹی کے سامنے مسلم لیگ (ن) کی مظلومیت کی حکمت عملی بیان کی تھی جو انہیں پسند نہیں آئی انہیں ’مظلوم ‘‘ بننا پسند نہیں تھا اسی طرح وزیراعظم سکھر میں موٹر وے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے میرے تنقید پر مبنی تجزیوں کا ’’ دوستانہ ‘‘ انداز میں گلہ کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے اس وقت ان کی خبریں اور انٹرویو شائع کئے جب پورے ملک پر جنرل پرویز مشرف کی آمریت کی ’’سیاہ رات ‘‘ تھی اور جنرل پرویز مشرف نواز شریف کے بارے میںایک ایک سطر کا نوٹس لیتے تھے اور نواز شریف کی زبردست کوریج کرنے پر روزنامہ نوائے وقت کے سرکاری اشتہارات کئی مہینے بند کئے رکھے ۔کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دئیے گئے استقبالہ میں وزیر اعظم بڑی حد تک میرے جواب سے مطمئن ہو گئے جس کے بعد انہوں نے دل میں چبھ جانے والی اس خبر کا دوبارہ ذکر نہیں کیا خصوصی طیارے میں 45منٹ کی گفتگو میں، مجھے وزیر اعظم محمد نواز شریف انتہائی پر اعتماد دکھائی دئیے ان کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے بلکہ ان کے زوردار قہقوں کی گونج پورے طیارے میں سنائی دی ایک سینئر صحافی نے وزیر اعظم کو مشور ہ دیا کہ قبل اس کے کہ سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دے دے مسلم لیگ (ن) عوام کی عدالت سے رجوع کیوں نہیں کر لیتی یا ریفرنڈم کا آپشن استعمال کرنے میں کیا امر مانع ہے ؟ تو وزیر اعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہم نے کوئی اقدام اٹھایا تو پھر آپ ہی اس اقدام کو اپنے کالموں میں تنقید کا نشانہ بنائیں گے وزیر اعظم نے ’’مفت مشورے‘‘ دینے پر صحافیوں سے پوچھ ہی لیا کہ’’ آپ کے خیال میں موجودہ صورت حال کا حل کیا ہے؟ اسی سینئر صحافی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے بات کرنے کا مشورہ دیا تو وزیر اعظم نے آسمان کی طرف انگلی کھڑی کرکے کہاکہ ’’ اب تو رب العزت سے ہی بات کروں گا‘‘تاہم انہوں نے اس سوال کا کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ ، فوج اور دیگر اداروں کے بارے میں کئے جانے والے سوالات کا انتہائی محتاط انداز میں جواب دیا بلکہ حساس نوعیت کی گفتگو کو ’’آف دی ریکارڈ‘‘ قرار دے دیا ۔ میں نے وزیر اعظم سے عوام سے ’’فریش مینڈیٹ ‘‘لینے کے بارے میں استفسارکیا تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے فریش مینڈیٹ لینا ہی تھا تو2016ء میں لے لیتے ہماری پارٹی کے کچھ رہنمائوں کی رائے تھی کہ عوام سے رجوع کرلیا جائے لیکن بیشتر رہنمائوں نے کہا کہ ’’عوام نے ہمیں ان کے مسائل حل کرنے کا مینڈیٹ دیا لہذاہمیں اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے ہمیں آج بھی پختہ یقین ہے کہ اگر ہم عوام کی عدالت میں گئے تو بے پناہ پذیرائی حاصل ہو گی ۔ میں نے ان سے چبھتا ہوا سوال داغ دیا کہ’’ آپ کے سیاسی مخالف دندناتے پھررہے ہیں اور وہ بار بار آپ کو للکار رہے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر90ء کے عشرہ کا نواز شریف بیدار ہو گیا ہے جو اپنے مخالفین کو آڑے لینے کا سلیقہ رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ ’’ انتخابات تو آنے دیں دھرنا دینے والوں سے بھی نمٹ لیں گے‘‘۔ میں نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے ایک ’’حساس ‘‘ سوال پوچھ ہی لیا ’’ میاں صاحب ! کیا آپ مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین بنا رہے ہیں‘‘ تو انہوں زور دار قہقہہ لگا کرسوال کو ہوا میں اڑا دیا اور کہا کہ ’’تسی کیوں میری کرسی دے پیچھے پے گئے او‘‘ ہم نے جے آئی ٹی کی تشکیل نو پر پے درپے سوال کئے توان کا ایک ہی جواب تھا ’’ ہم جے آئی ٹی کے پراسس سے گذر رہے ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے قبل کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جس سے یہ تاثر ملے کہ ہم جے آئی ٹی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ جے آئی ٹی نے ہمارے خاندان کے جس جس فرد کو بلایا وہ جے آئی کے سامنے پیش ہو گیا حتیٰ کہ میں نے وزیر اعظم کے منصب کا استثنا ء بھی استعمال نہیں کیا، ایک عام شہری کے طور اپنے آپ کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کر دیا ۔ میں نے جے آئی ٹی سے سوال کیا کہ ’’آپ بتائیں میں نے کیا جرم کیا ہے ؟ کیا میں نے سرکاری خزانے کو لوٹا ہے؟ کیا میں نے کسی ٹھیکے میں ’’کک بیک ‘‘ لی ہے؟ لوٹا تو ہمیں گیا بار بار ؟ مجھ سے 1972ء کے کاروبار کے بارے میں پوچھا جاتا رہا جب کہ میں ایک طالبعلم تھا ۔‘‘ایسا دکھائی دیتا تھا کہ وزیر اعظم میڈیا کے پرانے دوستوں جن سے ان کی موجودہ دور حکومت میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی، اپنے تمام دکھڑے بیان کر دینا چاہتے تھے لیکن ان کی گفتگو میں فلائٹ کا وقت حائل ہو رہا تھا میں نے محسوس کیا کہ’’ زخم خوردہ نواز شریف اپنے ’’مخالفین‘‘ سے لڑنے میں پر عزم ہیں انہوں نے 1992ء کی طرح ایک بار ان قوتوں اور عناصر سے لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو ان کے معاشی ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں حائل ہیں ۔ انہوں نے تاجکستان سے واپسی کے بعد مسلم لیگی قیادت سے مشاورت کی جس میں سیاسی مخالفین کا بھر پور انداز میں جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا اسی روز انہوں نے حویلی بہادر شاہ میں دھرنے ، احتساب،اور جے آئی ٹی کے پیچھے چھپ جانے والوں کو للکارا اور کہا کہ’’ بزدلو! ہمت ہے تو میدان میں آکر مقابلہ کرو‘‘ اگلے روز تو حکومت نے کھل کر جے آئی ٹی پر اپنی پوزیشن لے لی۔ قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہ کرنے پر جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خدا خیر کرے، آنے والے دنوں میں جہاں سیاسی محاذ پر شدید ترین محاذ آرائی ہو گی وہاں اداروں کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے بظاہر وزیر اعظم محمد نواز شریف ایک صلح جو لیڈر ہیں لیکن اپنے سیاسی مخالفین سے بھر پور لڑائی لڑنے کا عزم وحوصلہ رکھتے ہیں وہ اپنے قول و فعل سے کسی کو یہ تاثر قائم نہیں کرنے دیتے کہ ’’ شیر بوڑھا ‘‘ ہو گیا ہے زخم خوردہ ہونے کے بعد باوجود اپنے ’’شکار‘‘ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں وہ کسی کو اس بات کا تاثر بھی نہیں دینا چاہتے ہیں کہ وہ ’’تھک‘‘ گئے ہیں۔ میں نے پاکستان میں نواز شریف جیسا طویل سفر کرنے والا لیڈر نہیں دیکھا وہ ایک ہی روز میں سینکڑوں میل سفر کر کے کئی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیادرکھتے ہیں یا افتتاح کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں ترقیاتی منصوبوں کی وقت سے پہلے تکمیل کا جنون ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے سامنے اپوزیشن کے بڑے بڑے لیڈر طفل مکتب نظر آتے ہیں۔ سر دست ان کی مقبولیت کا گراف بلندیوں کو چھو رہا ہے اپوزیشن کی جانب ان کے خلاف لگائی جانے والی سب سے بڑی چارج شیٹ کو غلط ثابت کرنے کی لڑائی لڑ ہی رہے ہیں لیکن پارلیمنٹ کو کم وقت دینے کی وجہ سے اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ان کی اپنی پارٹی کے ارکان کو شکایت ہے کہ ان کی وزیر اعظم سے مہینوں ملاقات نہیں ہوتی ۔ جب کاک پٹ سے کچھ دیر میں ہی طیارہ بے نظیر ائیرپورٹ پر اترنے کا اعلان ہوا تو وزیر اعظم بھی ’’سجنا ں فر ملاں گے ‘‘ کہہ کر فرداً فرداً سب سے مصافحہ کرکے جانے لگے تو میں نے ان سے ’’ملاقات ‘‘ کی خواہش کا اظہار کر دیا تو انہوں نے برجستہ جواب دیا ’’ ملاقات تو ہو ہی جائے گی لیکن یہ آپ کو کیا ہو گیا ہے بڑے تیکھے تیکھے سوالات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں ‘‘ ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف سے میری 30سال کی دوستی ہے ان کے حق میں لکھتے لکھتے میرا قلم بھی تھک گیا ہے لیکن قلم نے ذرا سی بھی ’’ادھر ادھر‘‘ جنبش کی تو ان کی ’’ناراضی ‘‘ کا پیغام آجاتا ہے میری 49 سالہ صحافتی تجربہ کا نچوڑ ہے کوئی سیاست دان کتنا ہی آپ کو عزیز ہو اسے ہمہ وقت راضی رکھنا’’ناممکنات ‘‘میں شامل ہے۔ نواز شریف مجھے بے حد عزیز ہیں لیکن مثبت تنقید کے حق سے تو دستبردار نہیں ہو سکتا۔ٓ