مادرِملتؒ....محسنہ ملت

کالم نگار  |  نعیم احمد
مادرِملتؒ....محسنہ ملت

اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناحؒ کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ جیسی ہمشیرہ نصیب ہوئیں جن کے ایثار، توجہ اورتیمارداری کی بدولت قائداعظمؒ اتنا عرصہ زندہ رہے کہ پاکستان قائم کر سکیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مادر ملتؒ نے خود کو اپنے عظیم بھائی کی دیکھ بھال کےلئے وقف کرکے انہیں گھریلو تفکرات سے یکسر آزاد کر دیا تھا تا کہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ تحریک پاکستان کی قیادت کر سکیں۔ مادر ملتؒ کا یہ احسان پاکستانی قوم کبھی نہیں بھلا سکتی۔ پاکستان بنانے میں ان کا کردار دیگر مشاہیر تحریک پاکستان سے کسی طرح کم نہیں۔ ان کی زندگی پاکستانی خواتین کےلئے بہترین رول ماڈل ہے جن کی پیروی کر کے وہ قومی زندگی میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔ ماد رملتؒ کے پر خلوص ساتھ اور ایثار کے سب سے بڑے گواہ تو بابائے قوم خود تھے۔ اپنی بہن کی عظمت کا اعتراف انہوں نے ان الفاظ میں کیا تھا: ”تفکرات، پریشانیوں اور سخت محنت کے اس زمانے میں مَیں جب بھی گھر آتا تھا تو میری بہن روشنی اور اُمید کی تیز شعاع بن کر میرا ستقبال کرتی۔ اگر وہ میری نگران نہ ہوتی تو میرے تفکرات کہیں زیادہ ہوتے‘ میری صحت کہیں زیادہ خراب ہوتی۔ اس نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، کبھی شکایت نہیں کی۔ اس کے حسن سلوک سے میری ساری تکلیفیں دور ہو جاتیں۔“ اگر یوں کہا جائے کہ قدرت نے مسلمانان ہند کو انگریزوں اور ہندوﺅں کی غلامی سے نجات دلانے کی خاطر جو اسباب فراہم کئے تھے، ان میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی ایک شاندار سبب تھیں تو ہر گز مبالغہ نہ ہوگا۔ 

قائداعظم محمد علی جناحؒکے سامنے ایک عظیم مقصد تھا۔ وہ مسلمانوں کےلئے ایک آزاد مملکت قائم کرنے کےلئے انگریزوں، ہندوﺅں، سکھوں اور وطن پرست کانگریسی مسلمانوں کے ایک گروہ سے چومکھی لڑائی لڑرہے تھے۔ حصول مقصد کی خاطر انہوں نے خود کو بھلا دیا تھا‘ اپنی صحت کو داﺅ پر لگادیا تھا۔ جب 23مارچ1940ءکو قراردادِ لاہور منظور ہوئی اور مسلمانان ہند کےلئے ایک منزل اور سمت کا تعین ہو گیا تو ان کی سیاسی مصروفیات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ ضعیف العمری اور ناتوانی کے باوجود وہ برصغیر کے دور دراز علاقوں کا سفر کر رہے تھے۔ اس مشقت کے ان کے قوائے جسمانی پر بڑے منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ انگریز سامراج اور کانگریسی برہمن ان کی راہ میں کانٹے بچھانے‘ انہیں ناکام بنانے کےلئے ہر حربہ استعمال کر رہے تھے۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمان قوم کے ہر طبقے بالخصوص خواتین کو جدوجہد آزادی میں سرگرم کردارادا کرنے پر آمادہ و متحرک کیا جائے۔ تحریک قیام پاکستان کے اس مرحلے پر مادر ملتؒنے مسلمان خواتین کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم تلے منظم کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ ان کی سیاسی تربیت چونکہ قائداعظمؒ کے ہاتھوں انجام پائی تھی، لہٰذا انہوں نے مختصر عرصے میں اس کام کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچا دیا۔ ان کی مساعی ¿ جمیلہ کی بدولت برصغیر کے طول و عرض میں مسلمان خواتین میدان عمل میں نکل آئیں حتیٰ کہ صوبہ سرحد(موجودہ خیبرپختونخواہ) میں پردہ دار خواتین نے بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے ہراول دستے کا کردارادا کیا۔ انہیں دیکھ کر‘ ان کے جذبے اور ولولے کا اندازہ لگا کر انگریز حکمران سمجھ گئے کہ اب قیام پاکستان کو روکنا امر محال ہے۔ پھر دنیانے دیکھا کہ ان خواتین کی جرا¿ت ایمانی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور انگریز سرکار کا جبر و تشدد ان کی اولوالعزمی اور استقامت سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا۔
مادرملتؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں کبھی کوئی عہدہ قبول نہ کیا۔ ان کے ایثار کے صدقے ہی پاکستان معرض وجود میں آیا۔ وہ جمہوریت پر پختہ یقین رکھتی تھیں۔ پاکستان ایک آئینی اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، اس لیے ماد رملتؒ کے نزدیک اس ملک میں جمہوریت کی بلاروک ٹوک نشوونماضروری تھی۔ جب جنرل محمد ایوب خان نے ملک پر فوجی آمریت مسلط کر دی اور شہری آزادیوں پر قدغنیں لگا دیں تو انہیں بہت صدمہ ہوا۔ جمہوری اقدار کی پامالی روزمرہ کا معمول بن گیا۔اسی اثناءمیں فوجی آمر نے ملک میں صدارتی انتخابات کا اعلان کیا۔ کوئی مرد سیاست دان جنرل ایوب خان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا۔اس صورتحال میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے پرزور اصرار پر مادرملتؒ نے صدارتی امیدوار بننا قبو ل کیا۔ پیرانہ سالی کے باوجود مشرقی اور مغربی پاکستان کے طویل دورے کئے۔انتخابی مہم کے دوران ایوب خان نے تکبر میں آکر انہیں بوڑھی عورت قرار دیتے ہوئے صدارتی منصب کےلئے ناموزوں قرار دیا تو مادر ملتؒ نے اسے لاہور میں منعقدہ ایک انتخابی جلسے میں للکارتے ہوئے جواب دیا کہ ”مسٹرایوب خان نے میرے متعلق کہا کہ میں بوڑھی عورت ہوں اور منصب صدارت کا بوجھ کیسے اُٹھا سکوں گی لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ مجھ میں ایمان کی قوت ہے جو مسٹر ایوب خان میں نہیں ہے۔ آج پوری قوم ایمان کی قوت سے سرشار ہے۔ یہ بوجھ اُٹھانے کےلئے میں اکیلی تو نہیں ہوں۔ عوام کے سارے بازو میرے ساتھ ہیں۔“مادرِ ملتؒ کا ملک کے طول و عرض میں ہر جگہ والہانہ استقبال کیا گیا۔ بالخصوص مشرقی پاکستان میں تو عوام نے ان کے لئے دیدہ ودل فرش راہ کر دیے مگر فوجی اور سول بیوروکریسی نے دھاندلی کا بازار گرم کر دیا اور مادر ملتؒ کی فتح کو شکست میں تبدیل کر دیا۔ کاش ایسا نہ ہوتا۔ یقیناً اگر عوام کے جمہوری حق پر‘ان کے حق حاکمیت پرڈاکہ نہ ڈالا جاتا تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہ بنتا۔
مادر ملتؒ کی انتخابی مہم کے دوران آبروئے صحافت محترم مجید نظامی کی زیرادارت روزنامہ نوائے وقت نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور اس کی پاداش میں فوجی حکومت کی دھونس اور دھمکیوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ محترم مجید نظامی نے ہی انہیں ”مادرملت“ کا خطاب دیا تھا اورجنرل ایوب خان کی طرف سے یہ خطاب اخبار میں شائع نہ کرنے کے دباﺅ کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ پاکستانی قوم کی اس عظیم محسنہ کی 50ویں برسی پر ان کے ایصال ثواب کےلئے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں محفل قرآن خوانی اور ان کی قومی و ملی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خاطر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جن میں کارکنان تحریک پاکستان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے جوق در جوق شرکت کی۔ خصوصی نشست کے نام اپنے پیغام میں تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ، سابق صدر مملکت اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ ماد رملتؒ نے قیام پاکستان اور بعدازاں ملک میں جمہوریت کی سربلندی کےلئے بے مثال خدمات انجام دیں۔اس موقع پر نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، بیگم مہناز رفیع، بیگم صفیہ اسحاق، بیگم حامد رانا، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان اور نظریہ¿ پاکستان فورم مدینہ منورہ کے صدر ڈاکٹر خالد عباس نے اظہار خیال کیا اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔قبل ازیں محفل قرآن خوانی کے اختتام پر قاری خالد محمود نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ ، تحریک پاکستان کے مشاہیر ، جناب غلام حید روائیں اور محترم مجید نظامی کے بلندی ¿ درجات کےلئے دعا کرائی۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید نے انجام دیے ۔