معذرت، بجلی بند رہے گی

معذرت، بجلی بند رہے گی

عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک شاہراہ ترقی پر بگٹٹ بھاگ رہاہے اور ا سکے لئے روزانہ کی روٹین لوڈ شیڈنگ کے علاوہ ہفتے میں دوتین مرتبہ باری باری پورے لاہور کی آدھی آبادی کو بجلی سے محروم رکھنا بے حدضروری ہے۔بجلی کی ا س بندش کی اطلاع بذریعہ اخباری اشتھارات کر دی جاتی ہے، پھر بھی کسی کو خبر نہ ہو سکے تو ہمسائے سے پوچھ لے، اگر اس کے ہاں بتی نہیں ہو گی تو ظاہر ہے، آپ کو بھی صبر ہی کرنا ہوگا۔
ویسے اشتھارات پڑھ کر تاجپورہ اور بی آر بی کنارے ڈیفنس سیون اور ایٹ کے لوگ سوچتے تو ہوں گے کہ چونگی امرسدھو یا مینار پاکستان چوک میں بجلی تاروں کی ادل بدل سے ان کی بتی کیوں بند ہوتی ہے، اس کا اصل جواب تو گرڈ ٹرانسمیشن کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں کیونکہ تاروں کے جنجال کو وہی سمجھ سکتے ہیں، میں تو جٹکا جواب دے سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آخر تو تاجپورہ اور ڈیفنس سیون کے لوگوںنے کسی نہ کسی روز چونگی امر سدھو یا آزادی چوک سے گزرناہی ہے، اس لئے وہ بھی ان کی تعمیر کی تکلیف اتنی ضروربرداشت کریں جتنی لاہور کے شنگھائی فلائی اوورز کے قریبی محلے والوں کو بھگتنا پڑتی ہے۔اس سے مجھے یاد آیا کہ یہ جو وزیر اعلی پنجاب ہر مہینے دو مہینے بعد چین کا چکر لگاتے ہیں تو ا س کی وجہ یہ ہے کہ وہ لاہور کے نقلی فلائی اوورز کی تصویریں کھینچ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور ان کا موازنہ شنگھائی کے اصل فلائی اوورز سے کرتے ہیں اور اگر انہیںمحسوس ہو کہ کہیں کوئی کمی بیشی رہ گئی تو لاہور کے اگلے قیام کے دوران اسے پورا کرنے کی کوشش فرماتے ہیں اور پھر اس سے اگلا پھیرا نئی تعمیر ات کے موازنے کے لئے ضروری ہو جاتا ہے،جب تک شنگھائی ماڈل پر لاہور ماڈل پورا نہیں اترتا ، چیف منسٹر کی مجبوری ہے کہ وہ چین جاتے رہیں، کوئی انہیں روک کر دکھائے، روکے گا تو لاہوری شنگھائی ماڈل ادھورے پڑے رہیں گے۔جیسے وزیر آباد کا دل کا ہسپتال۔
مگر ڈیفنس سے ماڈل ٹائون کی طرف مڑنے والا فلائی اوور دو ماہ کی قلیل تریںمدت میں کیسے اور کیوں مکمل ہو گیا۔میں چاہتا ہوںکہ اس کا جواب کسی روز خود وزیر اعلی کی طرف سے آئے، وگرنہ لوگ اپنے اپنے اندازے قائم کرتے رہیں گے۔اور کبھی نہ کبھی مجھے ہی حقیقت حال بیان کرنا پڑے گی۔
میں لاہور کے فلائی ا وورز کو لے بیٹھا ہوں، یہ تو ایک شہر کا قصہ ہے پورے ملک کے قارئین کا اس سے کیا تعلق۔ اعتراض ٹھیک ہے مگر ملتان اور پنڈی اسلام ا ٓباد والوں کا تو اس سے تعلق بنتا ہے کہ ان کے ہاں کرینیں دھول اڑا رہی ہیں، عمارتیں گرائی جا رہی ہیں اور کبھی نہ کبھی بجلی کے نظام کو بھی درست کرنا ہو گا ،ان شہروں کے لوگ لاہوریوں کی قیامت سے ڈریں اور وزیر اعلی کو اپنے ہاں میٹرو کے منصوبے کوقسط وار مکمل نہ کرنے دیں ورنہ ان کی ابتلا بھی لاہوریوں کی طرح برسوں پر پھیل جائے گی۔ لاہور، ملتان ، پنڈی اور اسلام آباد کی آبادی کو جمع کیا جائے تو یہ کئی یورپی ملکوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ ذرا سوچئے اگر ہمارے وزیر اعلی بلجیم، ہالینڈ، پرتگال، سوئٹزر لینڈ ، سویڈن کے ایک ساتھ وزیر اعلی یا وزیر اعظم ہوتے تو شاید اتنے لوگوں کی زندگی دشوار نہ ہوتی جتنی پاکستان کے ایک صوبے کے چند شہروں کے عوام کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی ہے۔
معذرت۔۔ کے ساتھ بجلی بند۔۔ سے ایک بڑا مقصد یہ بھی پورا ہو رہا ہے کہ ملک میں بجلی کے شارٹ فال کے اعدادو شمار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ایک ایک دن میں درجنوں فیڈر بند کر دیئے جائیں گے تو ظاہر ہے بجلی کی کمی پر قابو پانے کاا س سے نادر اور سستا نسخہ اور کیا ہاتھ آئے گا۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ وزیر اعلی نے کئی وفاقی محکموں کا جو چارج سنبھال رکھا ہے وہ یونہی نہیں ہے، اس کا حکومت کو بھرپور فائدہ ہو رہا ہے، جو کام خواجہ آصف اور عابد شیر علی مل کر انجام نہیں دے سکتے ، وہ اکیلے وزیر اعلی چند اشتھاروں سے پورا کر کے دکھا رہے ہیں۔الہ دین کا جن بھی ایسا جادو نہیں دکھا سکتا تھا کہ بجلی پیدا بھی نہ کی جائے ا ور بجلی کی کمی کا احساس بھی نہ ہونے دیا جائے، الہ دین کا جد امجد بھی اس پر قادر نہیں تھا۔ویسے کوئی لیسکو کے اندر کا بندہ یہ راز تو کھولے کہ بجلی کی بندش کے دوران کبھی تاروں کی ادل بدل کی گئی یا یہ نرا بہانہ ہے بجلی بند رکھنے کا۔
معذرت کا لفظ انگریزی کے سوری کا ترجمہ ہے، کسی کی ماں بہن ایک کر لو اور سوری کہہ دو۔ مخاطب تلملا کر رہ جائے گا مگر کچھ کر نہ سکے گا۔اب آئے روز معذرت کے ساتھ بجلی بند کر دی جاتی ہے، آپ سوائے صبر کے اور کیا کر سکتے ہیں کہ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہو تا ہے۔ مجھے شریف بھائیوں کی حکمت عملی پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ عمران خان ا ور طاہرالقادری کی اگلی حکومتوں کے لئے آسانیاں پیدا کیوں کر رہے ہیں، بس اتناکام کریں جس سے ان کی باقی کی آدھی پچدھی ٹرم گزر جائے، پوری ٹرم تو وہ گزارنا بھی نہیں چاہتے کہ اس کے بعدلازمی طور پر کسی اور کو باری دینا ہو گی۔ وزیر اعظم صحیح کہہ رہے ہیں کہ انقلاب ا ور دھرنے کے شوقین اپنی باری کا انتظار کریں۔عمران کو اس پر اعتبار کر کے اگلی ٹرم کی پلاننگ کرنی چاہئے کیونکہ خیبر پی کے میں تو کرنے کا کوئی کام ہے نہیں ۔ وہاںجو کرنا ہے وہ یا تو دہشت گردوںنے کرناہے یا مسلح افواج نے کرنا ہے، عمران خان تو بارہویں کھلاڑی کے طور پر باہر بیٹھ کر وقت گزاریں۔ رہے طاہر القادری تو ان کو انقلاب کی اتنی جلدی نہیں ، وہ ٹورنٹو سے تشریف لاتے ہیں، وہ ان کا نیا وطن مالوف ہے ، وہیں لوٹ جائیں گے، اگر تو وہ انقلاب کے بارے میں مخلص ہیں تو اپنا کنیڈین پاسپورٹ آگ میں جھونک دیں، جیسے طارق بن زیاد نے کشتیوں کو آگ لگا دی تھی۔
رمضان المبارک میں بھی حکومتی معذرت کے کئی نمونے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ پہلے اعلان ہوا کہ یوٹلیٹی اسٹورز پرسستی اشیا دستیاب ہیں ، لوگ بھاگے، مگر وہاں کچھ نہیں تھا، اس نے پھر معذرت والا تعویذ نکا لا اور یہ نیا اعلان کیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز بوجہ سالانہ آڈٹ بند ہیں۔ اب سستے بازاروں کا حال بھی لوگوںنے دیکھ لیا، وزیر اعلی کو جھاڑ پلانا پڑی ہے کہ جو دکاندار منافع خوری سے باز نہ آئے تو انہیں سخت عقوبت کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر چیف منسٹرجب تک چین سے واپس آئیں گے تب تک رمضان بازاروں کے جادو گر غائب ہو چکے ہوں گے اور ان کی جگہ عید بازار سج جائیں گے، اب رنگا رنگ چوڑیوں اور مہندی والوں کے ساتھ حکومت کے کارندے کیسے الجھیں گے۔یہی تما شہ تو لائق دید ہوتا ہے۔ورنہ رمضان کا انتظار کون کرے۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ معذرت کے لفظ نے چودھری نثار کے پتھر دل پر بھی کوئی اثر کیا یا نہیں۔ اڑتی خبر یہ ہے کہ چودھری نثار نے بھی کہا ہے کہ جناب وزیر اعظم معذرت! ہم تو سفر کرتے ہیں،بیماری دل کے علاج کے لئے۔
بجلی کی معذرت کے ساتھ بندش سے کون بیمار ہوا، اس کا علاج کہاں ہو گا، اس روز میری تو صحیح معنوں میں مت ماری گئی تھی۔ بجلی کی بندش نے تگنی کا ناچ نچوا دیا۔