غزنوی تڑپ اور خم ِزُلفِ ایاز؟

کالم نگار  |  اثر چوہان
غزنوی تڑپ اور خم ِزُلفِ ایاز؟

 ایک ہی دِن 9جولائی کو چودھری نثار علی خان کے بارے میں دو الگ الگ خبریں شائع ہُوئیں۔ ایک تو یہ کہ ”8جولائی کو جب چودھری صاحب نے جنابِ وزیرِاعظم سے مُلاقات کی تو وزیرِاعظم نے چودھری صاحب کو 14اگست کو جناب عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف سے نمٹنے کا "Task" دے دِیا اور اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کی سیکورٹی کا Fook Proof" " نظام وضع کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے“ اور دوسری خبر یہ ہے کہ ”چودھری نثار علی خان 8 جولائی کو ہی امریکی سفارت خانہ گئے امریکی سفِیر سے مِلے اور چودھری صاحب نے اُنہیں امریکی ویزا کے لئے درخواست دے دی“۔
چودھری صاحب نے امریکی ویزا کے لئے درخواست یقیناً! سفارتخانے کے "Working Hours" میں دی ہو گی اور اُس کے بعد انہوں نے وزیرِاعظم سے مُلاقات کی ہوگی۔ جنابِ وزیرِاعظم سے چودھری صاحب کی ناراضی اور اُن کے ”تحفّظات“ کے بارے میں جب خبریں عام ہُوئیں تو جنابِ عمران خان نے چودھری صاحب کے لئے دِیدہءدِل فرش راہ کر دئیے۔ اُنہیں تحریک انصاف میں شامل ہونے کی دعوت دے دی اور کہا کہ
”میرے دِل میں آئیے ، میری نظر میں آئیے!
دونوں گھر ہیں آپ کے چاہے جہاں بس جائیے!“
چودھری نثار علی خان نے لاہور کے ایچی سن کالج میں اپنے کلاس فیلو اور پرانے دوست کی اِس دعوت پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ تین روز قبل معروف اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود ایک نیوز چینل پر بڑے اعتماد سے بتا رہے تھے کہ ”12مارچ 2014ءکو چودھری نثار علی خان وزیرِاعظم نواز شریف کو اصرار کر کے ”بنی گالہ“ میں عمران خان کے گھر لے گئے تھے لیکن اِس مُلاقات سے پہلے بھی چودھری صاحب چھُپ چھُپ کر عمران خان سے مِلنے اُن کے گھر جاتے رہے ہیں“۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی بتایا تھا کہ ”میاں شہباز شریف کے سِوا شریف خاندان کے سبھی لوگ خاص طور پر بیگم کلثوم نواز شریف چودھری نثار علی خان کے خلاف ہیں۔ وہ سب لوگ اُس وقت سے چودھری نثار علی خان کو شک و شُبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ جب ”جنرل مشرّف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو تو جیل بھجوا دِیا تھا لیکن چودھری صاحب کو اپنے گھر میں ہی نظر بند رہنے کی سہولت دے دی تھی“۔
ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب نے تو خیر ”اندر کی بات“ بتائی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چودھری نثار علی خان کے بھائی اور دوسرے رشتہ دار فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وزیرِاعظم نواز شریف سے کہہ کر ہی انہوں نے جنرل پرویز مشرّف کو چیف آف آرمی سٹاف بنوایا تھا۔ پھر جنرل صاحب چودھری صاحب سے اِس طرح کی ”رعایت“ کیوں نہ کرتے؟ یہ چودھری نثار علی خان ہی ہیں کہ جنہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرّف کو مُلک سے باہر بھجوانے کےلئے کسی کو ”زبان دے رکھی تھی“ دوسری بات یہ کہ جب وزیرِاعظم نواز شریف نے وزیرِداخلہ چودھری نثار علی خان سے مشورہ کئے بغیر لیکن چیف آف آرمی سٹاف کا مشورہ مان کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا حُکم دِیا تو یہ چودھری صاحب کی ناراضی کی دوسری وجہ تھی کیونکہ چودھری صاحب نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ کرنے کے لئے بھی کسی کو ”زبان دے رکھی تھی“۔
جناب عبدالحفیظ پیرزادہ وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بے تکلّف دوست تھے اور وہ اُنہیں دوستوں کی محفل میں ” زُلفی“ بھی کہہ لِیا کرتے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رُکن ( اُن دِنوں پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر) جناب خورشید حسن مِیر (مرحوم) نے مجھے بتایا تھا کہ ”ایک دِن وفاقی کابِینہ کے اجلاس میں پِیرزادہ صاحب نے بے تکلّفی میں وزیرِاعظم بھٹو کو ” زُلفی“ کہہ دِیا تو بھٹو صاحب نے پِیر زادہ صاحب کی بیگم سعدیہ پِیرزادہ کے بارے میں نازیبا باتیں شروع کر دیں۔ جناب پِیر زادہ اجلاس سے اُٹھ کر چلے گئے تھے“ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ بیگم سعدیہ پِیرزادہ ہی تھِیں کہ جِن کی سفارش پر وزیرِاعظم بھٹو نے جنرل ضیاءاُلحق کو چیف آف آرمی سٹاف بنایا تھا اور یہ جناب عبدالحفیظ پِیرزادہ ہی تھے کہ جب جنابِ بھٹو قید میں تھے تو وہ دوسری شادی کر کے ہنی مون منا رہے تھے ۔
وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کا مشغلہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے سینئر عہدیداروں اور وفاقی وُزراءکو ایک دوسرے کے خلاف اخباری بیانات جاری کرنے کی ”آزادی دے رکھی تھی“۔ دائیں اور بائیں بازو کے پارٹی راہنما اِس ”آزادی“ سے خوب فائدہ اُٹھاتے تھے۔ سب سے زیادہ فائدہ مولانا کوثر نیازی نے اُٹھایا۔ چنانچہ جب نیازی صاحب نے جناب خورشید حسن مِیر پر الزام لگایا کہ ”خورشید حسن مِیر ریلوے کے بہت سارے انجن کھا گئے ہیں“۔ مِیر صاحب سمجھ گئے کہ کوثر نیازی نے اُن کے خلاف توہِین آمیز بیان وزیرِاعظم بھٹو کی شہ پر دِیا ہے۔ چنانچہ وہ وزارت سے مُستعفیٰ ہو گئے اور بھٹو صاحب نے اُن کا استعفیٰ ”خوشی سے“ منظور کر لِیا۔ مولانا کوثر نیازی نے وزیرِقانون میاں محمود علی قصوری کے خلاف بیان دِیا تو قصوری صاحب نے وزیرِاعظم بھٹو سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ ”آپ بھی اُس مولوی کے خلاف بیان جاری کرکے اُسے اُس کی اوقات یاد دِلا دیں“۔ قصوری صاحب نے گھر جا کر اپنا استعفیٰ بھجوا دِیا۔ جِسے بھٹو صاحب نے ”بخوشی منظور کر لِیا“۔
جناب خورشید حسن مِیر نے استعفیٰ دِیا تو کچھ عرصہ بعد مَیں نے اُن سے پوچھا کہ مِیر صاحب! آپ کے استعفیٰ دینے سے بھٹو صاحب کو کیا فرق پڑا؟“ وہ تو پوری طاقت سے حکومت کر رہے ہیں؟ مِیر صاحب نے بڑے اطمینان سے کہا کہ ” اثر چوہان صاحب! پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد مَیں نے اپنی تمام صلاحیتیں پارٹی اور پارٹی چیئرمین کے مُفادات کے لئے وقف کر دی تھِیں۔ مَیں دِن رات پارٹی اور بھٹو کی خیر خواہی کے لئے سوچتا تھا۔ اب مَیں نے بھٹو کو اپنی دوستی سے محروم کر دِیا ہے جب مجھ جیسے دوسرے لوگ بھی بھٹو کو اپنی دوستی سے محروم کرتے جائیں گے تو بھٹو اکیلا رہ جائے گا اور مر جائے گا“۔ دو سال بعد وزیرِاعظم بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ دِیا گیا پھِر ایک سال 9ماہ بعد اُنہیں پھانسی دے دی گئی۔
یہ بات درُست ہے کہ وزیرِاعظم نے چودھری نثار علی خان کو وزیرِ داخلہ سے بھی زیادہ اختیارات دے کر رکھے تھے ۔ عملی طور پر چودھری صاحب ”ڈپٹی پرائم منسٹر“ تھے۔ خرابی اُس وقت پیدا ہوئی جب جناب اسحٰق ڈار اور خواجہ محمد آصف نے چودھری صاحب کی وزارت میںاپنی اپنی جگہ ”وزیرِ مداخلہ“ بننے کی کوشش کی۔ بہت ہی زیادہ اختیارات استعمال کرنے کے عادی چودھری نثار علی خان نے "Mind" تو کرنا ہی تھا۔ اب کتنے ہی تحفّظات دُور کر دئیے جائیں لیکن ازسرِ نوتعلقات کو "Re-Marriage Of Inconvenience" ہی کہا جائے گا۔ ہر دَور کے ”محمود غزنوی“ کا ایک ”ایاز“ ہوتا ہے۔ علّامہ اقبالؒ نے نہ جانے کِس مُوڈ میں کہا تھا کہ
” نہ وہ عِشق میں رہیں گرمیاں
 نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں
 نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی
 نہ وہ خم ہے زُلفِ ایاز میں“