ایک غیر سیاسی کالم ۔۔۔!

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
ایک غیر سیاسی کالم ۔۔۔!

نبی کریمﷺ نے فرمایا ”قیامت کے دن بدترین حال میں وہ شخص ہو گا جس نے دوسروں کی دنیا بنانے کی خاطر اپنی آخرت برباد کر ڈالی۔ ظلم کے معاملہ میں قوم یا لیڈر کا ساتھ دینا ”عصبّیت“کہلاتا ہے۔ جو شخص کسی ناجائز معاملہ میں اپنی قوم یا لیڈر کی مدد کرتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی اونٹ کنویں میں گر رہا ہو اور یہ اس کی دُم پکڑ کر لٹک گیا ہو تو یہ بھی اس کے ساتھ جا گرا، بے جا حمایت ہلاکت ہے۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیّت کی دعوت دے اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیّت کی بنیاد پر جنگ کرے اور ہم میں سے وہ بھی نہیں ہے جو عصبّیت کی حالت میں مرے“ (مشکوٰة، ابوداﺅد، ابن مسعود) جو بندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا “ (مسلم) نبی کریمﷺ ممبر پر تشریف لائے اور نہایت بلند آواز سے فرمایا ”اے وہ لوگو! جو اپنی زبان سے اسلام لائے ہو اور ایمان تمہارے دلوں میں نہیں اترا ہے، تم لوگ مسلمانوں کو ایذا مت پہنچاﺅ اور نہ ان کے عیوب کے پیچھے پڑو۔ جو لوگ اپنے مسلمان بھائی کے پیچھے پڑیں گے تو اللہ ان کے عیب کے پیچھے پڑ جائے گا اور جس شخص کے عیب کے پیچھے اللہ پڑ جائے گا اسے رسوا کر ڈالے گا اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو“۔ صحابہ کرام ؓ مذکورہ ارشادات مبارک کا پس منظر بیان فرماتے ہیں کہ منافقین مسلمانوں کے خاندانی شرمناک عیوب جو زمانہ جاہلیت میں ہوئے تھے لوگوں کے سامنے بیان کرتے، انہی لوگوں کو حضور نے حدیث میں ڈانٹا ہے، خطاب کے دوران حضور کی آواز اتنی بلند ہو گئی تھی کہ آس پاس کے گھروں تک یہ آواز پہنچ گئی اور عورتوں نے بھی سنا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ رمضان المبارک کے مقدس و متبرک مہینے کا بھی احترام نہیں رہا اور الا ما شا ءاللہ ٹی وی اینکرز اور سیاستدان اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ جن لوگوں کی مجبوری صحافت نہیں، ان لوگوں کو چاہئے کہ کم از کم ماہ رمضان کے دوران ٹی وی کا گلہ گھوٹ دیا کریں اور اپنی ذات کا جائزہ لیں۔ یہ متبرک مہینہ تزکیہ باطن، تجزیہ ذات، تفکر و تدبر باری تعالیٰ اور تلاش خودی کا مہینہ ہے۔ ابھی دو عشرے باقی ہیں۔ اپنی زندگیوں میں انقلاب لانے کی کوشش کریں اپنی ذات کو تبدیل کرنے کی سعی کریں۔ اپنے گھر کا نظام درست کرنے کی طرف توجہ دیں۔ اپنا ماحول شفاف بنائیں۔ اپنے ماضی کا جائزہ لیں۔ اپنا احتساب کریں۔ فقط اچھے اعمال ہی آپ کا دفاع کر سکتے ہیں۔ اپنی حاجات اپنے پروردگار کو پہنچائیں۔ اپنے دکھ اور تکالیف اپنے سوہنے رب کو سنائیں۔ تم بدل جا ﺅ گے تو پاکستان بدل جائے گا۔ تمہارا مرشد تمہارا ضمیرہے۔تمہارا لیڈر تمہارا کردار ہے۔ اپنے ضمیر کو جگاﺅ، اپنے کردار کو بناﺅ۔ خود سے جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ حضورﷺ نے فرمایا ”جس شخص نے روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے (بخاری) یعنی روزہ رکھوانے سے اللہ تعالیٰ کا مقصود انسان کو نیک بنانا ہے، اگر وہ نیک ہی نہ بنا اور سچائی پر اس نے اپنی زندگی کی عمارت نہیں اٹھائی، رمضان میں بھی باطل اور ناحق بات کہتا اور کرتا رہا اور رمضان کے باہر بھی اس کی زندگی میں سچائی نہیں دکھائی دیتی تو ایسے شخص کو سوچنا چاہئے کہ وہ آخر کار کیوں صبح سے شام تک کھانے اور پینے سے رُکا رہا۔ حضورﷺ نے فرمایا ”کتنے ہی بد قسمت روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے سوائے بھوک پیاس کے کچھ نہیں حاصل ہوتا اور کتنے ہی تراویح پڑھنے والے ہیں جن کو اپنی تراویح میں سوائے جاگنے کے اور کچھ نہیں ہاتھ آتا۔ روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو اپنی زبان سے فحش بات نہ نکالے اور نہ شور و ہنگامہ کرے اور اگر کوئی اس سے گالم گلوچ کرے یا لڑائی پر آمادہ ہو تو اس روزہ دار کو سوچنا چاہئے اور یاد کرنا چاہئے کہ میں تو روزہ دار ہوں (بخاری و مسلم ) آقاﷺ فرماتے ہیں ”اپنے آپ کو بدگمانیوں سے بچاﺅ، اس لئے کہ بدگمانی کے ساتھ جو بات کی جائے گی وہ سب سے زیادہ جھوٹی ہو گی اور دوسروں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے مت پھرو اور نہ ٹوہ میں لگو اور نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کر بیٹھو، اللہ کے بندے بنو، آپس میں بھائی بھائی بن کر زندگی گزارو“۔ کسی کے باپ کو گالی مت دو کہ وہ تمہارے باپ کو گالی دے ۔کسی کے خدا کو برا مت کہو کہ وہ تمہارے خدا کو برا کہے۔کسی کی کردار کشی مت کرو کہ وہ تمہارے عیب کھول دے۔ عارضی اقتدار کے لئے دائمی تخت و تاج کا سودا مت کرو کہ یہ زندگی مختصر ہے اور آخرت ہمیشہ کے لئے ہے۔کسی کی تعریف اور برائی میں اعتدال برتو۔کسی کی تعریف میں اتنی چاپلوسی مت کروکہ کل نوے کی ڈگری پر گھو م جاﺅ تو مخالفت میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دو۔