آئی ڈی پیز اور سیاسی صحافتی وی آئی پیز

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
آئی ڈی پیز اور سیاسی صحافتی وی آئی پیز

وی آئی پی صحافی کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ اس موقع پر جب آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے لوگوں کی خدمت کے لئے پورے پاکستان سے کئی امدادی ٹیمیں جا رہی ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ چند سو خودکش بمباروں کو مارنے کی کوشش میں ہم سات لاکھ خود کش بمبار نہ بنا دیں۔ صدر کرزئی کے گہرے اور ذاتی دوست یہ صحافی کس کی ہدایت پر ایسے بیان دے رہے ہیں۔ ہم تو قبائلی علاقے افغان معاملات طالبان اور دہشت گردوں کے لئے صرف محترم رحیم اللہ یوسف زئی کو اتھارٹی مانتے ہیں۔ وہ مثبت طریقے سے تجزیہ کرتے ہیں۔ نجانے اس وی آئی پی صحافی کے پاس کس کی اتھارٹی ہے اور وہ کیا منوانے کی کوشش میں ہیں۔
آپریشن ضرب عضب کے لئے تو پھر کسی موقع پر بات کروں گا اس کے لئے بھی مخصوص میڈیا کے لوگ پاک فوج کو بدنام کرنے کے درپے ہیں۔ جنرل راحیل نے اگلے مورچوں کا دورہ کیا ہے۔ مخصوص صحافی کو دکھ ہو گا کہ اسے کیوں ساتھ نہیں لے جایا گیا۔ انہوں نے پٹھانوں کی قدیم روایات جرگہ کو ٹی وی پروگرام بنا لیا ہے۔ یہ بھی ایک طرح سے سازش ہے۔ وہ اپنے آپ کو دہشت گرد آشنا صحافی سمجھتا ہے۔ آئی ڈی پیز کے مقابلے میں یہ صحافتی وی آئی پیز ہیں۔
یہ درست ہے کہ حکومتی اور سرکاری وی آئی پیز یعنی بیورو کریٹ اور حکمران قسم کے لوگ اس سلسلے میں بھی کرپشن اور لوٹ مار سے باز نہیں آتے۔ زلزلہ زدگان کے لئے پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ایسے موقعوں پر پاکستانی پیچھے نہیں رہے۔ زلزلہ زدگان کی بحالی کے موقع پر یہ صحافی صاحب کہاں تھے جب کئی قیمتی چیزیں حکمرانوں اور بیورو کریٹوں کے گھروں میں موجود تھیں جو ان کی خواتین امدادی سامان سے منتخب کرکے لے گئی تھیں۔ منتخب کے لفظ پر غور کریں یہ پاکستانی انتخاب کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب بھی منتخب نمائندے کوئی ہیری پھیری کرتے ہیں تو یہ ان کی پرانی عادت ہے مگر فوج اور پاکستان کے لوگ اور محب وطن تنظیمیں آئی ڈی پیز کے لئے دل و جان سے کام کر رہی ہیں۔ فارن فنڈڈ، این جی اوز کے لئے وی آئی پیز صحافی خوب جانتے ہیں مگر مانتے نہیں ہیں۔
ایک فلاحی شخصیت ڈاکٹر آصف جاہ نے بتایا کہ بنوں شہر میں کوئی خیمہ نہیں ہے۔ ورنہ سوات کے لئے بھی خیمہ بستیاں بنائی گئی تھیں۔ بنوں کے دل والے لوگوں نے آئی ڈی پیز کو اپنے گھروں میں ٹھہرا لیا۔ ہزاروں لوگ ایڈجسٹ ہو گئے ہیں۔ یہ منظر دوستوں کو کیوں نظر نہیں آتے۔ گھر میں بیٹھ کر کالم لکھنے والے اور ٹی وی چینلز پر بند کمرے میں پروگرام کرنے والے کیوں نہیں دیکھتے کہ اس ملک میں اچھے بہت اچھے لوگ بھی ہیں۔ پاک فوج کے جوان بھی آئی ڈی پیز کے لئے پوری طرح خدمت میں مگن ہیں۔ تو یہ لوگ خودکش بمبار کیوں بنیں گے۔ اس محبت اور اخوت کے لئے وہ خود دہشت گردوں سے لڑیں گے۔ دہشت گرد کیوں ان کے علاقوں اور گھروں میں چھپے ہوئے ہیں؟ آئی ڈی پیز پاکستانی ہیں۔ وہ پاکستان میں اپنے لوگوں کے پاس آئے ہیں۔ ورنہ دہشت گرد تو زیادہ تر افغانستان میں بھاگ گئے ہیں۔ انہیں وہاں پناہ ملے گی۔ دوسروں کو پاکستان میں حسب توفیق خاطر خواہ خدمت اور محبت ملے گی۔ ہم تو ایسے مہمانوں کے عادی ہیں سوات کے آئی ڈی پیز کے لئے بھی ناقابل یقین حد تک اہتمام اور آرام دیا گیا تھا۔ خاطر خواہ سے یاد آیا کہ خیبر پی کے اور مرکزی حکومت لڑ رہی ہے۔ اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا ہے مگر پاک فوج کی جانبازی اور جان و دل سے خدمات کو بھی نظرانداز کرنے کی صحافتی پالیسی اور تنقید جاری ہے۔ ڈاکٹر آصف جاہ ایک بیش بہا آدمی ہے۔ وہ اس طرح کے ضرورت مند لوگوں کے لئے پاکستان میں ہر کہیں چلا جاتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔وی آئی پی صحافی کو ان سے ضرور ملنا چاہئے۔ اور ان سے تعاون بھی کرنا چاہئے
کسی کو جماعت الدعوہ کی بہترین کارکردگی بھی نظر نہیں آتی کہ بھارت اور امریکہ ان کا مخالف ہے۔ ان کے اچھے کام بھی دکھائی نہیں دیتے اور بھی کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ذاتی طور پر بھی لوگ پوری طرح حاضر ہیں مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے حکومت والے آئی ڈی پیز تک رسائی نہیں دے رہے۔ مجھے برادر کالم نگار فاروق عالم انصاری نے کہا کہ عید پر بنوں مل کر جائیں گے۔ وہاں پاکستان کے کونے کونے سے لوگ جا رہے ہیں۔ یہ بھی سب کو یاد ہے کہ ہم نے افغان مہاجرین کو بھی ایک مدت تک سنبھالے رکھا۔ وہ اب تک یہاں کچھ نہ کچھ موجود ہیں۔ ان کے لئے امریکہ کی ہدایت تھی تو پاکستانی حکمرانوں نے بھی دلچسپی لی۔
اتنی مدت سے کسی نے دہشت گردوں سے تو یہ نہیں کہا کہ بے خبر بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا نہ اسلامی ہے نہ شرعی۔ امریکہ کی دشمنی کے نام پر عام اور غریب لوگوں کو مارنا کس طرح جائز ہے۔ انہیں امریکی بھارتی ایجنٹ بھی کہا جاتا ہے تو کیا ان کے خلاف آپریشن مناسب نہیں ہے؟ پاک فوج کو مشورے دینے والے دہشت گردوں سے بھی کچھ عرض کریں اور کٹھ پتلی افغان صدر کرزئی سے کہیں کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں۔ ملا فضل اللہ کو ہمارے حوالے کریں۔ پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بیان بازی اس موقع پر تو مناسب نہیں۔ وہاں اشرف غنی صدارتی انتخاب جیتے ہیں تو صدر کرزئی سٹینڈ لیں اور اقتدار ان کے حوالے کریں۔ بھارت اور امریکہ کی پریشانی جو عبداللہ عبداللہ کے نہ جیت سکنے کی صورت میں پیدا ہو رہی ہے۔ اس کے لئے صدر کرزئی آلہ کار نہ بنیں۔
دنیا بھر میں آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں ریپ ہوتے ہیں۔ ڈاکے اور چوریاں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ایسی کوئی واردات نہیں ہوئی۔ یہ کمال نہیں تو پھر اور کیا ہے۔ پاکستان میں جو اچھی باتیں ہیں ان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ انشااللہ آئی ڈی پیز ہماری برادرانہ مہمان نوازی سے خوش ہوں گے اس سلسلے میں وی آئی پیز کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وی آئی پیز جو سیاست، صحافت اور ملک دشمن حلقوں میں موجود ہیں۔ آئی ڈی پیز کے ساتھ کوئی دہشت گرد بھی آتا ہے تو وہ بھی حیران ہو گا کہ ہم جن لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ تو اتنے اچھے لوگ ہیں دہشت گرد وی آئی پیز کی طرح ہوتے ہیں۔ بے شک تحقیق کر لیں۔ یہ غریب لوگ ہیں انہیں امیر کبیر بننے کا شوق ہے تو پھر غربت ختم کریں۔ آخری بات یہ کہ نقل مکانی اور ہجرت میں فرق ہے؟ اڑسٹھ برس بعد بھی لوگ پاکستان میں مہاجر ہیں؟ ہمیں تو اپنے گھروں میں لگتا ہے کہ ہم نقل مکانی کرکے یہاں آئے ہیں۔ نامور شاعر اور کالم نگار اختر شمار نے کہا ہے کہ....
آخری وقت میں یہ بھید کھلا ہے ہم پر
ہم کسی نقل مکانی کے لئے زندہ ہیں