ابھی طیبہ کے قصے پر ہی اکتفا کیجئے

کالم نگار  |  نصرت جاوید
ابھی طیبہ کے قصے پر ہی اکتفا کیجئے

اخباری کالم لکھنے کو میں ذاتی طورپر ”لوہارا-ترکھانہ“ کام سمجھتا ہوں،کوئی ادبی مشقت ہرگز نہیں۔ میرے وہ ہم عصر لہذا خوش نصیب ہیں جن کے کالم پڑھ کر حکومت گھبراجاتی ہے۔ بڑے تگڑے افسر معافی تلافی کے وسیلے دریافت کرنا شروع ہو جاتے ہیں اور عسکری قیادت جنہیں قومی سلامتی کے تمام بنیادی فیصلوں کی بابت مسلسل آگاہ رکھتی ہے۔
ہر لکھنے والے کی طرح خواہش میری بھی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پڑھا جاﺅں قارئین کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ہی ساتھ مجھے اپنے ادارے سے مناسب معاوضہ بھی درکار ہے ان دو کی خواہش میں اخبارات پڑھتے اور ٹی وی دیکھتے ہوئے نگاہ ہر وقت ان خبروں کی تلاش میں رہتی ہے جو فی الوقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اتوار کی رات سونے سے قبل پیر کی صبح لکھنے کے لئے ممکنہ موضوعات پر غور کیا تو خیال آیا کہ گزشتہ ہفتے تین خبریں ہمارے میڈیا پر چھائی رہیں۔ سب سے زیادہ توجہ طیبہ نام کی اس بچی پر مرکوز رہی جسے انتہائی کم سنی میں اس کے والدین نے گھریلو مشقت کے لئے ایک ایڈیشنل جج کے گھر رکھواکر اسے بھلادیا تھا۔ اس بچی پر گھر کی مالکن نے وحشیانہ تشدد کیا۔اس تشدد کی وجہ کیا تھی یہ اب تک معلوم نہیں ہو پایا ہے تشدد کا شکار ہوئی طیبہ کا سو جا ہوا چہرہ مگر جب ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوا تو کئی دل ہل گئے۔
اس تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کے لئے تشدد کرنے والوں کے خلاف کوئی نہ کوئی کارروائی کرنا ضروری تھا۔ پوچھ تاچھ کا آغاز ہوا تو بچی کے والدین نے تشدد کرنے والوں کو ”معاف“کردیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ”معافی“محض دھونس کی بدولت نصیب نہیں ہوئی ہوگی۔ مضروب ومظلوم بچی کو گھریلومشقت کی نذر کردینے والے والدین نے اس ”معافی“کا مناسب ”عوضانہ“ بھی یقینا وصول کیا ہوگا۔ دھمکاﺅ اور خریدو کے ذریعے ”مک مکا“ہوجانے کے بعد بچی کا والد یا والدین اسے لے کر کہیں غائب ہوگئے۔
ہمارا میڈیا مگر بہت انسان دوست اور مستعد ہے۔ اس نے اس بچی پر تشدد کا قصہ زندہ رکھا۔ یہ قصہ اس لئے بھی زیادہ ”جاندار“بن گیا کہ ان دنوں ریگولر اور سوشل میڈیا پر عدلیہ کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں تلخ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔پانامہ دستاویزات کی بدولت اُٹھے شور کی وجہ سے ہماری اکثریت یہ طے کربیٹھی ہے کہ ہمارے ہاں طاقت ور لوگوں کو اپنے کرتوتوں کا حساب نہیں دینا پڑتا صرف عام اور بے وسیلہ لوگ ہی اپنی خطاﺅں کا حساب دیتے نظر آتے ہیں۔ غریب کی محبت وہمدردی میں مچائے ہمارے شور کے باعث سپریم کورٹ بالآخر اس معاملے کا ازخودنوٹس لینے پر مجبور ہوگئی۔ اس ملک کے نظام عدل کے حتمی ادارے کے سربراہ کی ذاتی مداخلت کے بعد لہذا طیبہ کے معاملے پر اب کوئی جذباتی کالم لکھنے سے کم از کم میں پرہیز ہی کروںتو مناسب ہوگا۔
اس مخصوص واقعہ کے بارے میں مچائی دہائی نے اگرچہ مجھے یہ بات سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے کہ آیا بحیثیتِ قوم ہم واقعتاً بچوں سے مشقت کروانے کے عادی ہیں یا نہیں بہت سوچنے کے باوجود میں سوائے”نہیں“کے اور کوئی جواب حاصل نہیں کر پایا تلخ حقیقت بلکہ یہ ہے کہ ہندومذہب کی متعارف کردہ”مقدر“کی منطق ابھی تک ہمارے اذہان پر حاوی ہے اس منطق کے مطابق گنتی کے چند افراد اپنے گزشتہ جنم میں کئے اچھے کاموں کا ”کرم“خوش حال گھرانوں میں پیدا ہوکر پاتے ہیں۔ اونچی ذات اور باوسیلہ لوگوں کے علاوہ ساری کی ساری خلقِ خدا کو اپنی زندگی میں سو طرح کے عذاب اور اذیتیں برداشت کرنا ہے انہیں برداشت کئے چلے جانا ان کا ”مقدر“ہے جس سے مفر ممکن ہی نہیں۔
ہم پڑھے لکھے متوسط طبقے والوں کے ہاں صفائی کرنے،کھانا پکانے اور گاڑیوں میں بیگمات اور بچوں کو کہیں لے جانے اور وہاں سے واپس لانے کے فرائض انجام دینے کے لئے کم از کم تین سے چار افراد مامور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو ان ملازموں کو واقعتا ”انسان“ سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی مخلوق جس کی ہماری طرح کچھ خواہشیں اور خواب ہیں اور ٹھوس حوالوں سے ایک جسم بھی جسے مناسب غذا اور آرام بھی درکار ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ گھروں میں کام کرنے والی مخلوق کو نفسیات دانوں کی زبان میں ہم Non Person سمجھتے ہیں وہ اگر ہمارے جیسے ہوتے تو ہمارے پکارتے ہی آنکھیں جھکاکر ہمارے سامنے ہاتھ باندھے حکم کے منتظر کھڑے نظر نہ آتے۔ ان پر حکم چلانا ہم اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ ہماری جبلت کے مطابق خدا نے انہیں ہماری”خدمت“کے لئے پیدا کیا ہے۔
گھریلوملازمت کے لئے کوئی قوانین موجود نہیں۔ ان ملازمین کے لئے کوئی بنیادی تنخواہ بھی نہیں۔کام کرنے کے اوقات بھی طے نہیں ۔ہم جو ”مناسب“ سمجھیں انہیں ہر ماہ ادا کردیتے ہیں۔ ان ملازمین کے رہنے کو سرونٹ کوارٹر ہوتے ہیں جن میں جھانک کر صفائی ستھرائی کے انتظام کا سرسری جائزہ لینا بھی ہم نے کبھی ضروری نہیں سمجھا۔ ”آقا“اور ”کمی کمینوں“میں تقسیم ہوئے اس معاشرے میں طیبہ جیسا کوئی واقعہ ہوجاتا ہے تو ہم بحیثیت مجموعی اس کے بارے میں ہرگز شرمندہ نہیں ہوتے۔ ہمارا اصل مقصد درحقیقت تشدد کا شکار ہوئے گھریلوملازمین کے مالکان کو بے نقاب کرنے کے بعد انہیں وقتی ذلت ورسوائی کا نشانہ بناکر خود کو نیک پاک اور اخلاقی حوالوں سے بالاتر انسان ثابت کرنا ہوتا ہے۔
طیبہ جیسی بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف اُبلتا غصہ درحقیقت ججوں اور وکیلوں کے خلاف کئی برسوں سے جمع ہوئی شکایتوں کے اظہار کا ایک بہانہ ہے۔ غیبت کی لت میں مبتلا ہمارے ذہن یہ جان کر بھی مزید متحرک ہوگئے کہ طیبہ پر تشدد کرنے والی خاتون کا تعلق کسی نہ کسی طرح مسلم لیگ نون کی ایک وزیر سے بھی نکل آیا ہے۔سو طرح کے سیاسی حساب چکانے کا موقعہ مل گیا۔
طیبہ پر ہوئے تشدد کو نظرانداز کرنا کسی بھی صاحبِ دل کے لئے ممکن ہی نہیں۔ تقریباََ تین روز قبل مگر اپنے دوستوں کے ہاں سے گھر لوٹتے ہوئے ایک شاعر پروفیسربھی تو ”لاپتہ“ہوگیا ہے۔اس کی گم شدگی کا تذکرہ مگر ہمارے مستعد میڈیا پر ہرگز اتنی شدومد سے ہوتا نظر نہیں آرہا۔گنتی کے چند افراد ہیں۔ان لوگوں کو ”لبرل“وغیرہ ٹھہراکر”غدار“قسم کی مخلوق سمجھاجاتا ہے۔ محض یہ لوگ اپنی ٹویٹس اور فیس بک پیغامات کے ذریعے ”کافر“والی ایک نظم کے خالق سلمان حیدر کی گمشدگی کے بارے میں دہائی مچارہے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہمارا ”جی دار“میڈیا اس گمشدگی کے بارے میں کوئی خاص سیاپا نہیں فرمائے گا۔یہ لاپتہ شخص خوش نصیب ہوا تو واحد بلوچ کی طرح چند مہینوں بعد اپنے گھر واپس آجائے گا اور اپنی گم شدگی کے ایام کے بارے میں مکمل خاموشی اختیارکرلے گا۔میں ایسی ”خوش نصیبی“کے علاوہ اس گم شدہ شاعر کے بارے میں کسی اور شے کا تصور کرتے ہوئے بھی کانپ جاتا ہوں۔
تیسری خبر حال ہی میں ”جانے کی ضد نہ کرو“کی خواہش کو ٹھکراکر عزت واحترام سے ریٹائر ہونے والے جنرل راحیل شریف کے بارے میں ہے۔ سنا ہے انہیں ایک برادر ملک نے بڑے شان دار منصب پر فائز کردیا ہے۔اس خبر کی تصدیق بہت ہی محتاط الفاظ میں ہمارے وزیر دفاع نے فرمادی ہے۔بقیہ تفصیلات جاننے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ماتم کنائی کے لئے مناسب سوالات اٹھانے کے لئے ویسے بھی طیبہ کا قصہ ابھی تک زندہ ہے۔ اسی پر اُکتفاکیجئے اور اپنے معاشرے میں پھیلے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں شمار ہوجائیے ہر معاملے پر سوال اٹھانا ضروری تو نہیں۔