”قائدِ اعظمؒ کی وراثت خطرے میں؟“ (1)

کالم نگار  |  اثر چوہان

  شاعر نے کہا تھا کہ 
”کُودا ترے کُوچے میں کوئی دَھم سے نہ ہو گا
جو کام ہُوا ہم سے، وہ رُستم سے نہ ہو گا“
تو صاحبو! ”لال مسجد فیم“ مولانا عبداُلعزیز طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا رکن نامزد ہوتے ہی ”نفاذِ شریعت“ کا علم بُلند کرکے ”طالبان کے باپ“ کہلانے والے مولانا سمیع اُلحق سے بھی بازی لے گئے ہیں۔ لوگ باگ یہی سمجھتے تھے کہ طالبان کے عزیزاز جان‘ مولانا عبداُلعزیز نے محض اپنی اہمیت جتانے کے لئے اپنے انداز میں اپنا ”لُچّ“ تلنے کی کوشش کی ہے لیکن جب تحریکِ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بھی مولانا عبداُلعزیز کے بیان کی حمایت کرتے ہُوئے اعلان کر دِیا کہ ”حکومتی کمیٹی سے مذاکرات قرآن و سنت کے مطابق ہی ہوں گے۔ ہم کوئی اور قانون نہیں مانتے۔ کوئی اور قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا“ وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قائدِاعظم محمد علی جناح ؒ اسلام کے نام پر پاکستان بنانے کےلئے جدوجہد کر رہے تھے تو طالبان کے بزرگوں اور اُن کے بزرگوں نے اُن کی مخالفت کیوں کی؟۔
اُدھر وزیرِاعظم نواز شریف مطمئن نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”مذاکراتی کمیٹیاں ٹھیک کام کر رہی ہیں۔ قیامِ امن کے مسئلے پر سیاست نہیں ہونا چاہئے۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا الزام دے کر جان نہیں چھُڑا سکتے۔ دہشت گردی اور فرقہ پرستی غلط پالیسیوں کا نتِیجہ ہے۔ اِن پالیسیﺅں کو دُرست کرنا ہو گا“۔ خُدا کرے کہ وزیرِاعظم سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسﺅں کو درُست کرنے میں کامیاب رہیں۔ امیر جماعتِ اسلامی سیّد منور حسن کہتے ہیں کہ ”شریعت کوئی ڈراﺅنی چیز نہیں ہے“۔ بجا فرمایا لیکن جب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خُود کُش حملہ آور اور دہشت گرد پاک فوج کے افسروں اور جوانوں اور بے گناہ اور معصوم لوگوں کو قتل کرکے ”شریعت نافذ“ کرنے کی کوشش کریں گے تو بے شک اُن کے سرپرست علمبردار اپنے اپنے گھروں میں محفوظ ہو کر ٹیلی وژن پر گھر گھر ماتم ہوتا دیکھ کر خوش ہوں لیکن مساجد‘ اولیائے کرام کے مزارات اور امام بارگاہوں پر خود کُش حملے کرنے والے ڈراﺅنی صورت والے لوگوں سے کون نہیں ڈرے گا؟۔
استاد رنگین نے ایسی ہی صُورتِ حال میں کہا تھا کہ
”ایک ہی شکل ڈراﺅنی ہے تری بے جاسی
تُس پہ یاں‘ پھاڑ کے دِیدے مجھے مت گھُورو!“
بات اگر ڈراﺅنی صورت اور دیدے پھاڑ کر گھُورنے کی حد تک ہوتی تو کوئی مضائقہ نہیں تھا لیکن اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے کےلئے ہر ڈراﺅنی صورت والا شخص ہلاکو خان کا دُوسرا جنم ہے۔ طالبان اور اُن کے سرپرستوں کی جنگ محض مذاکراتی عمل سے یا کُچھ دو اور کُچھ لو“ کا سمجھوتہ کرنے سے ختم نہیں ہو گی۔ ”بھولے بادشاہوں“ کو یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی؟ یا وہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے کہ ڈراﺅنی شکل والوں نے یہ جنگ تو ”سر سید احمد خان“ علّامہ محمد اقبال ؒ اور قائدِاعظم ؒ کے ”نظریہ پاکستان“ کے خلاف چھیڑ رکھی ہے اور اس جنگ سے قائدِاعظمؒ کی وراثت پاکستان کو سخت خطرہ لاحق ہے اور ایک خطرناک منصوبے کے تحت پاکستان کی سا لمیت کے خلاف اِس نظریاتی جنگ کا باقاعدہ آغاز اُس وقت ہُوا جب 6 اپریل 2007ءکو اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب (حکومتِ پاکستان کے ملازم) مولانا عبدالعزیز نے ”امیر اُلمومنین“ کا لقب اختیار کرکے اپنے چھوٹے بھائی مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید کو نائب امیر اُلمومنین مقرر کرکے پورے مُلک میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دِیا تھا اور لال مسجد میں ”مرکزی شرعی عدالت“ بھی قائم کر دی اور یہ وارننگ بھی دے دی کہ ”اگر وفاقی حکومت نے ایک ماہ کے دَوران نفاذِ شریعت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور لال مسجد اور اُس سے ملحقہ مدرسے جامعہ حفصہ کے طلبہ اور طالبات کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تو اُس کے جواب میں فدائی حملے ہوں گے“۔
15اپریل 2007ءکو روزنامہ ”جنگ“ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ”خُفیہ ایجنسیوں نے وفاقی حکومت کو خبردار کر دِیا ہے کہ ”اگر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف کوئی کارروائی ہُوئی تو مُلک میں خُود کُش حملے ہو سکتے ہیں“۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ”لال مسجد والوں کے تحریکِ طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود سے روابط ہیں اور اسلام آباد ائر پورٹ اور اسلام آباد ہوٹل میں خُود کُش حملے کرنے والوں کا تعلق لال مسجد اور اُس سے ملحقہ مدرسے جامعہ حفصہ سے تھا“۔ اِس سے قبل 12 اپریل 2007ءکو پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کا یہ بیان پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر آیا کہ ”مولانا عبدالعزیز اور غازی عبدالرشید سے ہمارے کئی بار مذاکرات ہُوئے۔ اُن کا اِصرار ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف فوری طور پر پاکستان میں شریعت نافذ کر دیں“۔ جب مذاکرات ناکام ہو گئے اور لال مسجد میں خطیب اور نائب خطیب (سرکاری ملازموں) مولانا عبدالعزیز اور غازی عبدالرشید کو سمجھانے بجھانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو مولانا عبدالعزیز کی طرف سے ”نفاذِ شریعت“ کے اعلان کے 3 ماہ بعد 3 جولائی 2007ءکو لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں پناہ گزین دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن "Operation Sunrise" کرنا پڑا جِس کے نتیجے میں 103 دہشت گرد مارے گئے اور 11 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے جج جسٹس شہزادو شیخ پر مشتمل ”لال مسجد کمیشن “ کی رپورٹ 20 اپریل 2013ءکو منظرِ عام پر آئی۔
رپورٹ میں جسٹس شہزاد و شیخ لِکھتے ہیں ”ہتھیاروں کے کم سے کم استعمال کے نتیجے میں پاک فوج کو بھی جانی نُقصان اُٹھانا پڑا کیونکہ(لال مسجد میں چھُپے) عسکریت پسند بِلا اشتعال فائرنگ اور خُود کُش حملوں کے لئے مکمل طور پر تربیت یافتہ تھے۔ فوج صِرف اُس وقت فائرنگ کرتی تھی جب لال مسجد کے اندر سے فائرنگ ہوتی تھی۔ اِس آپریشن میں 11 سکیورٹی اہلکار شہید ہُوئے“۔ جسٹس شہزادو شیخ نے لال مسجد آپریشن میں شریک سکیورٹی اہلکاروں کو ”شہید“ قرار دِیا تھا‘ لیکن امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد (مرحوم) اور جمیعت عُلماءاسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبدالغفور حیدری نے 12 جولائی 2007ءکو اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ”لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر بمباری اور امریکی مفادات کی حفاظت کرنے والے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو ”شہید“ نہیں کہا جا سکتا“۔ اُس وقت سپریم کورٹ نے متذکرہ بالا مذہبی راہنماﺅں کے اِس ”فتوے“ کا ازخود نوٹس نہیں لِیا (حالانکہ اُن میں سے کوئی بھی ”مُفتی“نہیں تھا) اور نہ ہی پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے توجہ دی کہ، پاک فوج کے شہداکے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے؟۔ آئی ایس پی آ راُس وقت جوش یا حرکت میں آیا جب امیر جماعتِ اسلامی سیّد منور حسن نے پاک فوج کے 8 ہزار افسروں اور جوانوں سمیت 50 ہزار پاکستانیوں کے دہشت گرد قاتلوں کے سرغنہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اُسے ”شہید“ قرار دِیا حالانکہ سیّد منور حسن بھی ”مفتی“ نہیں ہیں۔ سیّد منور حسن کا کسی نے کیا بگاڑ لِیا؟۔ (جاری ہے)