وحشت میں دیکھئے میری ’’شریعت‘‘ پرستیاں؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

کل کچھ خواتین نے مجھے اپنی ایک محفل میں خاص طور سے مدعو کیا۔ جب میں گئی تو انہوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ آج ہم نے آپ کو اپنے جذبات کی نمائندگی کے لئے دعوت دی ہے۔ آج جو باتیں ہم آپ سے کریں گی۔ وہ ایک ایسی امانت ہو گی جو آپ اپنے قلم کے ذریعے اونچے محلوں اور اونچے پہاڑوں تک پہنچائیں گی۔ جب تعارف کا مرحلہ آیا تو ان میں سے زیادہ تر وہ ستم رسیدہ عورتیں تھیں جن کے جگر کے ٹکڑے یا عزیز و اقارب خود کش حملوں میں کام آئے تھے۔ ان کے اداس چہرے اور بجھی ہوئی آنکھیں ان کے غمزدہ دلوں کی کہانی سنا رہی  تھیں۔ پھر بھی میں نے عرض کیا کہ باری باری اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ میں امانت میں خیانت نہیں کروں گی۔ ایک جوان اور نوخیز خاتون نے کہا … کون ہے پاکستان میں جو شریعت کے حق میں نہیں۔ پہلے یہ تو بتائیں… خود کش حملوں میں تقریباً 60ہزار بیگناہ مارے گئے اور اس سے دوگنے مفلوج ہو کر گھروں میں پڑے ہیں۔ بستروں پر پڑے ہیں جوان لڑکے جو معذور ہو گئے۔ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ جواں لڑکیاں جو بن بیاہی بیوہ ہو گئیں ان کو کون بیاہنے آئے گا۔ ماں جو اکلوتے بیٹے سے محروم ہو گئی اس کا سہارا کون بنے گا۔ باپ جسے بڑھاپے میں بیٹے کا جنازہ اٹھانا پڑ گیا اسے کاندھا کون دے گا۔ کیا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں نے اتنی ہمدردی سے ہمارے بارے میں سوچا ہے۔ ساٹھ ہزار انسانوں کے روابط اور رشتہ داریاں تقریباً ایک کروڑ خاندانوں سے تو ہوں گی۔ بیٹھے بٹھائے آپ نے ایک کروڑ خاندانوں کو برباد کر دیا۔ ان کا قصور کیا تھا…؟ ان کی تلافی کون کرے گا۔ ان کے گھروں میں کون روشنی کرے گا۔ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے آپ کو یہ سوال اٹھانا چاہئے تھا۔ طالبان انسان ہیں یا جو بھی ہیں ان سے جواب مانگنا چاہئے تھا۔ انہیں اس قتل عمد کا احساس ہے؟ ان سے دیت اور قصاص کون مانگے گا؟ وہ کس شریعت کی بات کرتے ہیں؟ کیا نفاذ شریعت قتل و غارت کے بغیر ممکن نہیں؟ کس شریعت کے تحت انہوں نے گھر کے گھر  اجاڑ دیے مسجدوں کو نشانہ بنایا۔ مزاروں میں آگ لگائی، گرجا گھروں میں بم دھماکے کئے۔ امام باڑوں پر حملے کئے… ان کی شرائط ماننے سے پہلے کیا آپ لوگوں نے یہ سوال اٹھائے۔ وہ تو اپنے کسی سفاکانہ اور غیرانسانی عمل پر شرمندہ نہیں ہیں اور آپ ہیں کہ ان کے آگے بچھے جاتے ہیں۔ ان سے کہیں ہمارے زخم تازہ ہیں اور ہم اپنے پیاروں کے لہو کا حساب مانگتے ہیں۔ دوسری خاتون جو ذرا بڑی عمر کی تھی بولی…آج یہ کہہ رہے ہیں ہمیں پاکستان کا آئین منظور نہیں ہے۔ جو پاکستان کے ہر طبقہ کے سیاست دانوں نے متفقہ رائے سے ترتیب دیا تھا اور آپ آرام سے سن رہے ہیں۔ ان لوگوں کا کیا اعتبار کل کہہ دیں گے۔ ہمیں پاکستان کا نام پسند نہیں ہے۔ ہماری پسند کا نام رکھیں۔ پھر کہہ دیں گے کہ محمد علی جناحؒ کو قائداعظم اور بابائے قوم کہنا بند کردو۔ تو کیا آپ ان کا ہر مطالبہ پورا کرتے جائیں گے۔ یہ اپنی حیثیت متعین کریں یہ کون ہیں؟
تیسری عورت بولی۔ یہ شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ان سے کہیں وہ میڈیا پر آکر ہمیں بتائیں کہ شریعت کسے کہتے ہیں۔ کیا بے گناہ انسانوں کی جان لینے کو شریعت کہتے ہیں۔ کیا کسی ہنستے بستے ملک میں نقب لگا کر آجانے۔ اسلحہ اکٹھا کرنے اور پہاڑوں میں چھپ کر حملے کرنے کو شریعت کہتے ہیں۔چوتھی عورت نے روتے ہوئے کہا… کلام پاک میں درج ہے آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کان کے بدلے کان‘ ہاتھ کے بدلے ہاتھ … ناک کے بدلے ناک… تو ان سے اسی زبان میں بات کیوں نہیں ہو رہی… ان کے جرائم کو کیوں معاف کیا جا رہا ہے… ہاتھ جوڑ کے مذاکرات کی اپیل کیوں کی جا رہی ہے… پانچویں عورت نے کہا… یہ جو ہر روز شریعت شریعت کا شور مچا رہے ہیں۔ یہ بتائیں کیا ان کی بہو بیٹیاں شریعت پر عمل کر رہی ہیں۔ کیا یہ خود شریعت پر عمل کر رہے ہیں۔ یا انہوں نے صرف جبہ و دستار کو شریعت بنا رکھا ہے۔ خوشی کے شادیانوں پر کوئی لڑکی تالی بجا دے تو وہ قابل قتل ہو جاتی ہے۔ ہم اپنے گھروں میں اپنے والدین کے ساتھ اپنی مرضی سے رہنا چاہتے ہیں۔ جیسا پاکستان ہمیں قائداعظمؒ نے بنا کر دیا تھا۔ ہم ویسے پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے ہمارے نوجوان بیٹے پاکستان  سے باہر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ صنعت کار اپنے کارخانے ملک سے باہر لے جا  رہے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں۔ جو پاکستان جیسے زرخیز اور مردم خیز ملک کو یکہ و تنہا اور بے دست و پا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سب دل گرفتہ خواتین رو رو کر باتیں کر رہی تھیں۔ اور میں سر جھکائے بیٹھی تھی اور اس بات پر حیران ہو رہی تھی کہ ایک بہت بڑے اور وسائل سے بھرے ہوئے ملک کو مٹھی بھر دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایک طرف آپ انہیں دہشت گرد کہتے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات ہے کہ جن کو دہشت گرد کہا جاتا ہے وہ آج شریعت کی بات کر رہے ہیں۔ آج پاکستان کے کچھ علماء ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ 2002ء کی اسمبلی میں مذہبی جماعتوں کے بہت سے علماء نیشنل اسمبلی میں آگئے تھے۔ یہ لوگ پرویز مشرف کے ایما پر ہی آئے تھے۔ ان کے مدرسوں کی جماعتوں کو بی اے کی ڈگری کے برابر قرار دے دیا گیا تھا۔ پانچ سال یہ تمام علماء اس پارلیمنٹ میں بیٹھے رہے۔ اور تین سال تک یہ صرف وہاں ڈیسک بجاتے رہے۔ ڈرامہ کرتے رہے کہ کارروائی کو نہیں چلنے دیا جائے گا۔ اس طوفان بدتمیزی میں اسمبلی کی کارروائی تو چلتی رہی۔ بجٹ بھی پاس ہوتے رہے اور ہاؤس کے اندر ڈیسک بھی بجتے رہے۔ سب سے عجیب بات یہ ہوئی کہ ڈیسک بجانے والے صرف شور مچاتے تھے۔ نعرے لگاتے تھے۔ نامنظور نامنظور کہتے تھے۔ اور باہر نکل جاتے تھے مگر اپنے الاؤنس باقاعدہ وصول کرتے تھے۔ تنخواہیں بھی لیتے تھے۔ ووچرز بھی وصول کرتے تھے۔ مفت علاج بھی کرواتے تھے۔ سرکاری خرچ پر غیر ملکی دورے بھی کرتے تھے۔ دعوتیں بھی کھاتے تھے…
یہ کس قسم کا احتجاج تھا…؟
کیا تمام صوبوں کے تمام علماء کرام جو اگرچہ مختلف مسالک سے تعلق رکھتے تھے اور مختلف فقہ پڑھ کر آئے تھے۔ وہاں نفاذ شریعت کی بات نہیں کر سکتے تھے۔ نفاذ شریعت کے لئے ڈیسک نہیں بجا سکتے تھے۔ نفاذ شریعت کے لئے مشرف سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے تھے۔ مگر وہاں انہوں نے آئین کو تسلیم کئے رکھا… آج کہتے ہیں کہ اس آئین پر کوئی آیت‘ کوئی حدیث مبارکہ درج ہوتی تو… ہم ان کو یاد دلائیں اسمبلی کے اندر جو آرڈر آف دا ڈے یعنی ایجنڈا اردو اور انگریزی میں لکھا ہوا آتا ہے۔ اس کے اوپر ہمیشہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہوتا ہے۔اور یہ سب لوگ اس ایجنڈے کو پھاڑ کے اس کے پرزے پرزے کرکے فرش پر پھینک دیتے تھے۔ ان کی توجہ بارہا اس طرف دلوائی گئی کہ کاغذ یوں نہ پھاڑا کریں۔ اس پر بسم اللہ لکھا ہوتا ہے اور یہ قدموں تلے روندے جاتے ہیں… مگر اس وقت انہیں شریعت کی کوئی شق یاد نہیں آتی تھی… اتنے میں ایک عورت روتی ہوئی محفل میں داخل ہوئی… سینے پر دوہتڑ مار کر بولی… میرا چودہ سال کا بیٹا دو سال پہلے لاپتہ ہو گیا تھا… دو سال سجدے پر پڑی بلکتی رہی اور اللہ سے فریاد کرتی رہی… کل اچانک گھر لوٹ آیا۔ عجیب حلیئے میں تھا۔ ماں: میں جنت میں جانے کی ٹریننگ لینے کے لئے افغانستان میں لے جایا گیا تھا۔ میرے ساتھ اور بھی بہت سے لڑکے تھے۔ آج تیری یاد آئی تو میں بھاگ آیا ہوں… وہ بولی۔
ان ورغلا کر لے جائے گئے جوانوں کو کون واپس لائے گا۔ کون ان کی بات کرے گا۔ شرطیں سب ادھر سے آئیں گی یا ادھر سے بھی کچھ کیا جائے گا یا ہمارے بچوں کو ہی ہمارا قاتل بنایا جائے گا؟ ؎
وحشت میں دیکھئے میری دامن پرستیاں
خود کرکے تار تار سیئے جا رہا ہوں میں؟