بیربل شریف کا چشمۂ فیض

کالم نگار  |  سعید آسی

یہ سفر اور چند گھنٹوں کا قیام میری زندگی کے چند یادگار لمحات میں شامل ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر الازہری کی معیت میں لاہور سے بیربل شریف کیلئے روانہ ہُوا تو میرے ذہن میں اس پسماندہ گائوں میں قائم ادارہ معین الاسلام کا تصور ایک عام دینی مدرسے والا ہی ابھرتا رہا۔ ایسا مدرسہ جہاں دین کی شاید واجبی سی تعلیم بھی حاصل نہیں ہو پاتی مگر متشدد اور انتہا پسندانہ سوچ نے جہاں ایسے دینی مدرسوں کے کردار کے حوالے سے دین اسلام کا امن و آشتی، صلہ رحمی اور فلاح انسانیت والا تشخص خراب کیا ہے وہیں فرقہ بندیوں کو فروغ دے کر بھی مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کی راہ پر لگایا ہے۔ مجھے ادارہ معین الاسلام کے بارے میں چونکہ کچھ بھی علم نہیں تھا اس لئے دینی مدرسوں کے پس منظر کے حوالے سے اس ادارے کے بارے میں بھی میری سوچ گڑبڑائی رہی مگر اس ادارے کی سالانہ تقریبِ تقسیم انعامات کے مہمانوں کی فہرست پر نظر دوڑائی تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس فہرست میں میرے علاوہ برادر ترکی کے دانشور اور چیئرمین رومی چیئر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر درمش بلدر اور پنجاب اور سرگودہا یونیورسٹی کے نامور پروفیسروں کے علاوہ نمل یونیورسٹی، جی سی یو لاہور اور فیصل آباد کے سینئر اساتذہ کے نام بھی شامل تھے اور یہ سب شخصیات اس تقریب میں شمولیت کیلئے میری ہی طرح عازمِ سفر بھی تھیں، آخر کچھ بات تو تھی جو ان سب احباب کو خوشبو کی طرح اپنی جانب کھینچے چلے جاری تھی۔ بھیرہ تک موٹر وے کے سفر کے دوران ادارے کے فراہم کردہ لٹریچر کے مطالعہ کا موقع بھی مل گیا، کچھ معلومات ڈاکٹر ازہری صاحب نے بہم پہنچا دیں اور یہ جان کر بھی مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ بھیرہ سے کوئی 30 کلو میٹر آگے موضع بیربل شریف جو فی الواقع پنجاب کے پسماندہ ترین دیہات میں شامل ہے اکبر بادشاہ کے نورتن بیربل کو اکبر بادشاہ کی جانب سے ملنے والی جاگیر میں قائم و آباد ہے جہاں بیربل نے خود بھی کبھی رہائش رکھی ہو گی، اس بارے میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں مگر بیربل شریف کے نام سے آباد ہونے والے اس گائوں کو اعوان خاندان کے ایک مردِ صالح حافظ محمد اسلم نے علم و عرفان کی شمع روشن کرنے کے لئے منتخب کیا اور پھر ان کے سعادت مند صاحبزادے حافظ غلام مرتضیٰ نے جو اپنے وقت میں روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے، حضرت خواجہ غلام محی الدین قصوری کے ہاتھوں بیعت ہونے کے بعد تبلیغ دین کا بیرہ اُٹھایا اور بیربل میں چشمۂ فیض جاری کیا۔ قصبہ بیربل کے نام کی مناسبت سے اعوان خاندان سمیت اس گائوں میں مقیم تمام لوگ اپنے نام کے ساتھ بیربلوی لگوا کر اپنی شناخت کراتے ہیں جبکہ کسی بیربلوی کا درحقیقت اکبر بادشاہ کے نورتن بیربل کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حافظ غلام مرتضیٰ کی رحلت کے بعد ان کے تبلیغ دین کا مشن ان کے صاحبزادوں خواجہ احمد سعید، خواجہ محمد سعید اور صاحبزادہ غلام رسول نے سنبھالا اور پھر خواجہ احمد سعید کے صاحبزادے خواجہ محمد عمر بیربلوی گدی نشین ہوئے جنہوں نے نقشبندی سلسلہ کے جلیل المرتبہ بزرگ میاں شیر محمد شرقپوری سے اکتساب فیض کیا جبکہ خواجہ محمد سعید کے فرزندِ ارجمند صاحبزادہ محمد فخر الدین بھی اسی چشمۂ فیض کا حصہ بنے رہے۔ آج خواجہ محمد فخرالدین چشتی کے بڑے صاحبزادے پروفیسر محبوب حسین اس خانقاہ بیربل شریف کے گدی نشین ہیں اور انہی کی نگرانی اور سرپرستی میں بیربل گائوں میں تین کیمپس پر مبنی دینی ادارہ معین الاسلام پنجاب بھر کے بے وسیلہ غریب خاندانوں کے ہونہار بچوں کو ایک ساتھ دینی اور دنیوی اعلیٰ تعلیم سے سرفراز کر رہا ہے۔ اس ادارے سے منسلک مسجد گنج شکر بذاتِ خود علم و عرفان کا نادر نمونہ ہے جس میں ایک ہزار سے زیادہ نمازیوں کے بیک وقت فریضہ نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ مرنجاں مرنج پروفیسر محبوب حسین نے مسجد اور ادارے کے قیام کا پس منظر یہ بتایا کہ وہ 20 سال قبل دربار بابا فرید گنج شکر پر حاضری دینے گئے تو وہیں پر ان کے ذہن میں بیربل میں ایک عالیشان مسجد قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا جبکہ یہ سوچ پہلے ہی ان کے دل میں گھر کر چکی تھی کہ پسماندہ علاقوں کے جو بچے حافظ قرآن ہیں مگر دنیاوی تعلیم کی پہلی کلاس بھی نہیں پڑھے ہوئے انہیں نہ صرف اعلیٰ دینی بلکہ دنیوی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے، چنانچہ انہوں نے جس مشن کا بیڑہ 20 سال قبل اُٹھایا تھا اس پسماندہ گائوں میں، جہاں آج بھی خواتین گوبر کی پاتھیوں کو بطور ایندھن استعمال کرتی ہیں اور غربت و پسماندگی جس علاقے کے مکینوں کا آج بھی عفرت بن کر پیچھا کر رہی ہے، حافظ مرتضیٰ نے اپنے مشن کی تکمیل کرتے ہوئے آج ادارہ معین الاسلام کی شکل میں اس علاقے ہی کو نہیں پنجاب کے دور دور تک پھیلے ہوئے پسماندہ علاقوں کوبھی دینی اور دنیوی تعلیم کے حوالے سے رشد و ہدایت کا مرکز بنا دیا ہے۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے اس ادارے میں آج ساڑھے آٹھ سو کے قریب طلبہ رہائش و خوراک سمیت دین اور دنیا کی ابتدائی سے اعلیٰ تعلیم تک کی تمام منازل بغیر کسی معاوضے کی ادائیگی طے کر رہے ہیں۔ سرگودہا اور پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن نمایاں پوزیشنوں میں کرنے والے طلبہ بھی ادارہ معین الاسلام کے ہیں جبکہ پنجاب کے ثانوی تعلیمی بورڈوں میں میٹرک اور انٹر کے امتحان میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ بھی اسی دینی مدرسے کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس ادارے کے ماتحت بے وسیلہ خاندانوں میں تعلیم کی معراج یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اس ادارے کے درجنوں طلبہ آج ایم فِل کے بعد پنجاب اور سرگودہا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ بھی کر رہے ہیں اور اس اعلیٰ تعلیم کی بدولت اعلیٰ مناصب پر بھی فائز ہیں۔ کیا یہ اس ادارے کی سربلندی نہیں کہ اس کے سینکڑوں طلبہ کی رہائش خوراک اور تعلیم کے اخراجات میں سے ایک پیسے کا بوجھ بھی ان کے والدین پر نہیں ڈالا جاتا جبکہ حکومت سے کسی قسم کی گرانٹ کا ایک دھیلہ لئے بغیر ادارے کو نہ صرف سرخروئی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے بلکہ اس میں روز بروز توسیع بھی کی جا رہی ہے چنانچہ مجھے ادارے کی تقریبِ تقسیم انعامات میں یہ کہنا پڑا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جہاں دانش سکولوں کو اپنے فروغ تعلیم کے مشن کی بنیاد بنا رہے ہیں اگر وہ پسماندہ ترین علاقوں میں قائم ادارہ معین الاسلام جیسے دینی تعلیمی مدرسوں کی بھی اسی طرح سرپرستی کریں تو ان کے ذریعے بے وسیلہ خاندانوں کے بچے اعلیٰ تعلیم کی منازل ہی طے نہیں کریں گے دینی مدرسوں کے حوالے سے دین اسلام کے بارے میں کئے جانے والے غلط پراپیگنڈہ کا بھی توڑ ہو جائے گا۔ وہ لمحہ اب بھی میری آنکھوں میں بسا ہوا ہے جب ادارہ معین الاسلام کے بچوں نے انتہائی ڈسپلن، سلیقے، شائستگی کے ساتھ ادارے کے مین گیٹ پر ہمارا استقبال کیا اور قطار اندر قطار مارچ پاسٹ کی سلامی پیش کرتے ہوئے ہمیں ادارے کے اندر لے کر گئے جبکہ انہوں نے جس مشاقی کے ساتھ پی ٹی شو کا مظاہرہ کیا اور پھر قومی ترانہ گا کر قومی پرچم کو آویزاں کیا وہ اس ادارے سے پھوٹنے والی حب الوطنی کے راسخ جذبوں کی کونپلوں کے تابناک مستقبل کی غمازی کر رہا تھا۔ اگر ہمارا میڈیا بھی بے وسیلہ خاندانوں کو روشن مستقبل کے ضامن ایسے اداروں سے دنیا کو آگاہ کرنے کا فریضہ ادا کرے تو ہم مختلف تعصبات اور فرقہ بندیوں کی لعنت سے بھی اس معاشرے کو چھٹکارا دلا سکتے ہیں۔ بے شک آپ اس ادارے کی توسیع و ترقی کے لئے اپنی جیب پر کوئی بار نہ ڈالیں مگر خدمتِ دین کا رضاکارانہ فریضہ ادا کرنے اور اعلیٰ و بنیادی تعلیم کے دروازے بھی پسماندہ خاندانوں کے بچوں کے لئے کھولنے والے ایسے اداروں کی کم از کم حوصلہ افزائی تو کریں۔ شاید اس سے ہی ہماری عاقبت سنورنے کا کوئی اہتمام ہو جائے۔