ایسی دیواریں گر جاتی ہیں

کالم نگار  |  جاوید صدیق

مجھے دیوار برلن کے گرنے کے چند سال بعد اس شکستہ دیوار کو دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ یہ 2003ءکی بات ہے جب مجھے چند دوسرے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ دیوار برلن دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ اس زمانے میں دنیا بھر سے لوگ اس دیوار کو دیکھنے آتے تھے اور دیوار کا جو حصہ باقی رہ گیا تھا اس پر کچھ نہ کچھ تحریر کرتے۔ بعض سیاح صرف اپنے دستخط ثبت کرنے پر اکتفا کرتے تھے۔ دیوار برلن 12 اور 13 اگست 1961ءکی درمیانی رات کو تعمیر کی گئی تھی۔ دوسری جنگ کے بعد شکست خوردہ جرمنی کا مغربی حصہ امریکہ ‘ برطانیہ اور فرانس کے زیر اثر آ گیا تھا جبکہ مشرقی برلن پر سویت یونین نے قبضہ جما لیا تھا جسے بعد میں مشرقی جرمنی یا ڈیموکریٹک ری پبلک آف جرمنی کا نام دیا گیا۔ 1961ءتک مشرقی جرمنی کے شہریوں کو مغربی جرمنی میں داخل ہونے اور وہاں روزگار تلاش کرنے کی سہولت تھی۔ مشرقی جرمنی کے شہری فٹ بال میچ دیکھنے اور اپنے عزیزوں سے ملنے کے لئے مغربی جرمنی جا سکتے تھے۔ 1949ءمیں جرمنی کی تقسیم کے بعد بڑی تعداد میں مشرقی جرمنی کے شہری مغربی جرمنی میں ہجرت کر گئے۔ ہجرت کا یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ جس کو روکنے کے لئے سویت یونین کی ایما پر 12 اور 13 اگست 1961ءکی درمیانی شب کو دیوار برلن کی تعمیر شروع کی گئی۔ جب مشرقی جرمنی کے شہری 13 اگست کی صبح کو جاگے تو وہ یہ دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے کہ رات کی تاریکی میں خار دار تاریں لگا کر مشرقی اور مغربی جرمنی کو جدا کر دیا گیا ہے۔ مشرقی جرمنی کی فوج نے جگہ جگہ فوجی پوسٹیں بھی بنا دیں۔ چند سالوں کے بعد خار دار تاروں کی جگہ بلاک لگا کر ایک سو میل طویل دیوار بنائی گئی۔ جس پر خار دار تاریں بھی لگا دی گئیں۔ اس طرح مشرقی اور مغربی جرمنی کے عوام کو جو بنیادی طور پر ایک ہی قوم تھے دیوار اور خار دار تاروں کے ذریعہ دو ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مشرقی جرمنی یا ڈیمو کریٹک ری پبلک آف جرمنی میں شہری اور انسانی حقوق سلب ہوتے رہے۔ معاشی بدحالی نے بھی شہریوں کو گرفت میں لے لیا۔ 1949ءاور 1961ءکے دوران مشرقی جرمنی سے 25 لاکھ شہری مشرقی جرمنی چھوڑ کر مغربی جرمنی میں مستقل طور پر آباد ہو چکے تھے۔ آبادی کی اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت کو روکنے کے لئے اگست 1961ءمیں دیوار برلن تعمیر کی گئی۔ یہ دیوار نفرت اور خوف کی علامت بن گئی۔ اٹھائیس برس تک اس دیوار نے ایک ہی قوم کو دوحصوں میں جبراً تقسیم کئے رکھا‘ لیکن پھر میخائل گورباچوف کے دور میں سویت یونین کے حصے بخرے ہونا شروع ہوئے تو 9 نومبر 1989ءکو مشرقی جرمنی کے ایک اعلیٰ آفیسر نے اچانک ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت نے مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان سفر کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اعلان مشرقی جرمنی کے جبر کے مارے شہریوں کے لئے حیرت کا سبب تھا۔ ہزاروں افراد دیوار برلن کی طرف چل پڑے۔ یہ وہ تاریخی دن تھا جب مشرقی جرمنی کے شہریوں کو مغربی جرمنی میں داخل ہونے کی اجازت ملنا شروع ہوئی۔ دیوار برلن گر چکی تھی۔ سویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد دیوار برلن کا گرنا گذشتہ صدی کی تاریخ کا اہم ترین واقعہ تھا۔
بھارتی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ایک دیوار تعمیر کرے گی جس کی چوڑائی 135 فٹ اور اونچائی 10 میٹر ہو گی۔ کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے لئے بھارت ایک اور دیوار برلن تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ کشمیر کے ایک حصے پر بھارت نے فوج کشی کر کے 1948ءمیں قبضہ کر لیا تھا۔ جب کشمیر کے مسئلہ پر 1948ءمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے سیز فائر کے لئے اقوام متحدہ سے رابطہ کیا۔ سیکیورٹی کونسل نے مداخلت کر کے جنگ بندی کرائی۔ اقوام متحدہ نے سیز فائر لائن کا تعین کیا اور اس کی نگرانی کے لئے فوجی مبصرین کا ایک گروپ بھی متعین کیا جسے یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرورز گروپ آف انڈیا اینڈ پاکستان (UNMOGIP) کہاجاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مبصرین کا یہ گروپ آج بھی خطے میں موجود ہے۔ جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا۔ جواہر لعل نہرو نے سرینگر میں تقریر کر کے کشمیریوں کو یقین دلایا تھا کہ بہت جلد انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر میں رائے شماری کے لئے امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈیلن البرائٹ کے والد کی قیادت میں رائے شماری کے لئے ایک کمشن بھی قائم کر دیا تھا لیکن بھارتی ہٹ دھرمی اور نیت میں فتور کی وجہ سے رائے شماری نہ ہو سکی۔
 1948ءسے اب تک بھارت نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ اب بھارت کشمیر میں دیوار برلن کی طرح کی ایک اور دیوار تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ وہ کشمیریوں کو اس دیوار کے ذریعہ جدا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے خیال میں دیواریں بنا کر وہ لوگوں کی امنگوں اور خوابوں کو مٹا دے گا۔ بھارت تاریخ سے سبق نہیں سیکھنا چاہتا ہے۔ سویت یونین ایک سپر طاقت تھی۔ خود بھارت بھی سویت یونین کا حلیف رہا ہے اور اس سے اسلحہ اور ٹیکنالوجی لیتا رہا ہے۔ سویت یونین ایسی سپر طاقت تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمانے میں ناکام رہی ہے۔ پہلے اس نے افغانستان پر قبضہ کر کے گرم پانیوں تک رسائی کا اپنا خواب پورا کرنے کی کوشش کی جسے افغان مجاہدین نے ناکام بنایا اور اس سپر طاقت کی چولیں ہل گئیں۔ افغانستان میں شکست کے بعد وہ اندر سے ٹکڑے ہونے لگی اس نے جو دیوار برلن تعمیر کی تھی وہ بھی زمین بوس ہو گئی۔ جبر کے ذریعہ برپا ہونے والی تبدیلیاں دیرپا نہیں ہوتیں۔ بھارتی قیادت کو اپنے ماضی کے سرپرست اور مربی سویت یونین کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ کنٹرول لائن پر بننے والی دیوار کا حشر بھی دیوار برلن سے مختلف نہیں ہو گا۔