”مہاجرت کا سیاست میں کاروبار نہ کر!“

کالم نگار  |  اثر چوہان
”مہاجرت کا سیاست میں کاروبار نہ کر!“

اُستاد رشکّ بہت خُوش تھے جب انہوں نے کہا کہ....
”جا سکا پھر نہ مرے گھر جو وہ جانی آیا“
 رحمت اللہ کی آئی کہ یہ پانی آیا“
لیکن جو لوگ شاعر نہیں ہیں وہ اور مفلوک اُلحال بھی انہیں توزندہ رہنے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے جب فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی حکومت سے الگ ہو کر عوامی جلسوں سے خطاب کرنا شروع کِیا تو انہوں نے عوام سے وعدہ کِیا تھا کہ ”مَیں اِقتدار میں آکر آپ کے لئے روٹی، کپڑا اور مکان کا بندوبست کروں گا لیکن وہ پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا معاملہ گول کر گئے۔ اُنہیں شاید عِلم ہوگا کہ اُن کے ”روحانی فرزند“ جناب آصف زرداری کی حکومت ختم ہونے کے بعد متموّل طبقے تو مِنرل واٹر پی لِیا کریں گے لیکن عام لوگوں کو صِرف آلودہ پانی پینا پڑے گا۔
”دِیدوں کا پانی ڈھل جانا؟“
پانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جانے والی نعمت ہے۔ یوں تو زمین بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشی گئی نعمت ہے لیکن اِس پر طاقتور لوگ قبضہ کر لیتے ہیں اور وہ عام انسانوں اور جانوروں کو گندے تالابوں سے پانی کے چُلُو دو چُلُو پینے کی اجازت دے دیتے ہیں جو حُکمران عوام کو پینے کا صاف پانی بھی مہیا کر سکتے اُنہیں کیا کہا جائے؟ اور کِس سے کہا جائے؟ سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی کے مقدمے میں چاروں صوبائی اور وفاقی سیکریٹری ماحولیات سے ماحولیات کے منصوبوں کی رپورٹ طلب کرتے ہُوئے انہیں ذاتی طور پر طلب کر لِیا ہے۔ دَورانِ سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ”عوام کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ اداروں میں رابطے کا فقدان ہے۔ سب کاغذی کارروائی ہے۔ عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا“۔ ایسے موقع پر ”اہلِ زبانِ اُردُو“ ایک ضرب اُلمِثل استعمال کرتے ہیں۔ مَیں چونکہ اُردو سپیکنگ پنجابی ہُوں۔ اِس لئے اِس ضرب اُلمِثل کا بامحاورہ مطلب آپ کسی لُغت سے دیکھ سکتے ہیں!
”جلیبی کی طرح سِیدھی راہداری؟“
سُپریم کورٹ نے پاک چین اقتصادی راہداری مارگلہ نیشنل پارک سے گزارنے کا نوٹس لیتے ہُوئے چیئرمین این ایچ اے سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فُل بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہُوئے طنزیہ کہا کہ ”مُلک کو رقبوں میں بانٹ دیں اور اِس پر قابض 63 خاندانوں میں بانٹ دیں“۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ”نقشہ دیکھ کر یہ راہداری جلیبی کی طرح سیدھی دکھائی دیتی ہے“۔ جناب ابراہیم ذوق نے شاید پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں پیشگی ہی کہہ دِیا تھا....
”سیدھی ہے تو اِک اِس میں ہیں خم اور زیادہ“
علّامہ اقبال کا نہیں بلکہ کسی اور شاعر کا شعر ہے....
”اقبال تیرے عِشق نے سب بَل دیئے نِکال
مُدّت سے آرزُو تھی کہ سِیدھا کرے کوئی“
عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جلیبی کی طرح راہداری کے نقشے کو سِیدھا کرنے کی کوشش کی گئی تو کیا اُس سے ہماری دوستی متاثر تو نہیں ہو گی؟
”مہاجرت کا سیاست میں کاروبار نہ کر!“
یہ پہلی بار ہُوا کہ عمران خان نے کراچی جا کر اِنکشاف کِیا کہ ”میری والدہ صاحبہ بھی 1947ءمیں ہندوستان سے ہِجرت کر کے پاکستان آئی تھیں۔ اِس لئے مَیں بھی آدھا مہاجر ہُوں“۔ مَیں نے 7 اپریل کے ”سیاست نامہ“ میں لِکھا تھا کہ ” عمران خان پختون ہیں اور پنجابی بھی اِس لئے کراچی کے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریکِ اِنصاف کے اُمیدوار عمران اسماعیل کو پختونوں اور پنجابیوں کے ووٹ بھی مِلیں گے“۔ لیکن اب خان صاحب نے خُود کو”آدھا مہاجر“ ظاہر کر کے قیامِ پاکستان سے 67 سال اور 8 ماہ بعد بھی مہاجرکہلانے والے لوگوں کے دِلوں میں ”آدھا گھر“ بنا لِیا ہے۔ اب مہاجر کہلانے والے خواتین و حضرات آپس میں اِس طرح کی گفتگو کرتے ہوں گے کہ ”بھائی بنّے مِیاں“ کیا ہُوا اگر عمران بھائی ”نجیب اُلطرفَین مہاجر“ نہیں ہیں لیکن ہیں تو مہاجر کیوں نہ ہم اپنے آدھے ووٹ عمران خان کے اُمیدوار کو دے دیں؟“
جناب ذوالفقار بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی 30 نومبر1967ءکو بن چُکی تھی۔ 1968ءکے اوائل میں بھٹو صاحب لاہور تشریف لائے۔ انہیں گلبرگ میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا۔ روزنامہ ”وفاق“ لاہور کے شریک مُدِیر برادرم جمیل اطہر قاضی نے میری ڈیوٹی لگا دی۔ پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے کسی صاحب نے معروف مسلم لیگی صحافی میاں شفیع (المعرُوف مِیم شِین) کو بھٹو صاحب سے یہ کہہ کر مِلوایا کہ”اِن سے مِلئیے میاں شفیع صاحب یہ بھی آپ کے ”ارائیں بھائی“ ہیں“ جنابِ بھٹو نے کہا کہ”ہم ارائیں نہیں ہیں۔ راجپوت ہیں البتہ میرے دادا جی نے ایک شادی ارائیں برادری میں بھی کی تھی“۔ اِس کے باوجود ”مِیم شِین صاحب“ کی تسلّی نہیں ہُوئی اور وہ جنابِ بھٹو کی وفات کے بعد اپنی وفات تک یہی لکھتے رہے کہ ”ذوالفقار بھٹو ارائیں تھے“۔
”مہاجر“ کوئی قوم یا قومِیت نہیں ہے۔ ”پیغمبرِ اِنقلاب“ کی پَیروی میں جو مُسلمان مکّہ سے مدِینہ چلے گئے تھے وہ”مہاجر“ کہلائے لیکن انہوں نے انصارِ مدِینہ کے مقابلے میں خُود کو افضل نہیں سمجھا اور نہ کہا۔ انصار اور مہاجرین سب مُسلمان کہلاتے تھے۔ خُلفائے راشدین ؓ کے دَور میں کسی بھی مُسلمان نے اپنی مرضی سے جلاوطن ہو کر کسی غیر مُسلم مُلک میں پناہ نہیں لی اور نہ ہی اُس مُلک کی شہریت اختیار کی۔ ”پاکستان بنانے والوں کی اولاد“ کہلانے والی جماعت ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے کئی سال پہلے ”مہاجر قومی موومنٹ“ کا نام ”متحدہ قومی موومنٹ“ رکھ لِیا تھا لیکن جب بھی وہ ”ترنگ/جوش“ میں آتے ہیں۔”اپنی سیاست“ کو ”مہاجرانہ رنگ“ دینے لگتے ہیں۔
جناب الطاف حسین خُود کو ”پورا مہاجر اور پاکستانی“ کہتے ہیں اور اُنہوں نے عمران خان کو بھی ”پُورامہاجر“ تسلیم کر لِیا ہے۔ یہ درست ہے کہ موصُوف مہاجر والدین کی اولاد ہیں لیکن الطاف بھائی تو آزاد پاکستان میں پیدا ہُوئے تھے۔ ممکن ہے الطاف صاحب کے والدین نے بھی پاکستان بنانے میں حِصّہ لِیا ہُوا ہو؟۔ لیکن الطاف صاحب تو اپنے بزرگوں کا بنایا ہُوا پاکستان چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے اور وہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لئے ملکہ¿ الزبتھ دوم کی وفاداری کا حلف بھی اُٹھا لِیا۔ رعایتی نمبر دے کر جناب الطاف حسین کو ”پُورا مہاجر اور آدھا پاکستانی“ کہا جا سکتا ہے لیکن عمران خان تو ”آدھے مہاجر اور پُورے پاکستانی“ ہیں۔ ”شاعرِ سیاست “.... کہتے ہیں....
”بدل نہ طَور نیا رُوپ اِختیار نہ کر!
مہاجرت کا سیاست میں کاروبار نہ کر!