یمن حل کی صحیح سمت

یمن حل کی صحیح سمت

یمن تنازعے کے حل کے لئے کی جانے والی کوششوں کا قبلہ درست ہوتا جا رہا ہے۔ایران اور ترکی کے لیڈروں نے ملاقات کے بعد سیزفائر پرزور دیا ہے ، ایرانی وزیرخارجہ پاکستان آئے تو بھی اسی حل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس سے امید پیدا ہوئی کہ یہ تنازعہ پھیلنے کے بجائے یہیںپر ختم ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم قبلہ کو بچانے کی فکر میںمبتلا نہ ہوںکہ ایسا کوئی خطرہ ہے نہیں، کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ، یمن ایک انچ آگے بڑھنے کی کوشش کرے ، میں خود ایک تھنڈر بمبارچوری کر کے لے جائوں گا اور ان کا وہیں کہیں حضر موت کے ریگستان میں بھرکس نکال دوں گا۔
حضر موت سے یاد آیاکہ حضور  ﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب زیوروں سے لدی عورت صنعا سے حضر موت تک اکیلی سفر کرے گی مگر اس کی طرف کوئی میلی آ نکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرے گا، یہ دورو اقعی آیا تھا۔مگر اب الٹا دور چل نکلا ہے، کہا جا رہا ہے کہ صنعا اور حضر موت والے جنگ جو قبائل ، قبلہ کی طرف میلی آ نکھ سے دیکھنے کی جسارت پر تلے ہیں۔میں تو کہتا ہوں کہ جو لوگ یہ ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، ان کی اپنی سوچ میںکجی ہے، کون ہے جو قبلہ کے بارے میں برا خیال دل میں بھی لا سکے۔ڈالر اور ریال حلال کرنے والے کس کو ڈراتے ہیں ، قبلہ کے محافظ خدا کو، کچھ خدا کاخوف کریں۔
میںنواز شریف پر بہت تنقید کرتا ہوں مگر اب ان کا جو کریڈٹ بنتا ہے ، وہ ا ن کو دینا چاہئے، انہیں اپنی قوم کے موڈ سے اندازہ  ہو گیا تھا کہ ہم پاک فوج کو یمن کی دلدل میں پھنسا نے کے لئے نہیں بھیج سکتے۔اس لئے پاکستان کو ثالث کا کردار ادا کرنا ہو گا۔
مجھے اپنے دو مشوروں پہ ہمیشہ ندامت محسو س ہوتی رہے گی۔ایک مشورہ میںنے نوازشریف کو دیا تھا جب پہلی عراق جنگ چھڑی تھی اور دوسرا مشورہ میں نے پاکستانی قوم کو دیا تھا جب پشاور میں بچوں پر قیامت ٹوٹی تھی، میں دوسرے مشورے کا ذکر پہلے کردوں۔مشورہ یہ تھا کہ ہمیں خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے آپ کو ریلیکس ظاہر کرنا چا ہئے، جس طرح صدر بش نے نائن الیون کے حوادث کے بعد اپنی قوم سے کہا تھا کہ جائو ،پارکوں اور ساحلوں کا رخ کرو، ریسٹورانوںمیں جائو اور ہلہ گلہ کرو، تفریح منائو۔میرا بھی نظریہ تھا کہ ہم جو اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں، ان کی دیواریں اونچی کئے جارہے ہیں،ان پر خار دار تاریں لگانے میںمصروف ہیں،ور ان کے گیٹوں پر مورچے تعمیر کر رہے ہیں، یہ تو خوفزدگی کی علامت ہے، دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ ہم دبک کر بیٹھ جائیں، باہر نہ نکل سکیں، تھر تھر کانپتے ہانپتے رہیں۔ اس کے بجائے ہمیں بھی میلے ٹھیلوںمیں مصروف ہوجانا چاہئے اور خوش نظرا ٓنا چاہئے، مجھے ذرا یقین نہیں تھا کہ میرا مشورہ مانا جائے گا، پھر کیا ہوا کہ یوم پاکستان کی پریڈ ہوئی، سات سال کے بعد ہوئی، میلہ چراغاںہوا، دھوم دھام سے ہوا۔ہم نے ہارس اینڈ کیٹل شو کیا، اونٹ گھوڑے ناچے ، ساتھ ہمارے دل بھی ناچے، شکر ہے خدا کہ ایک ڈری سہمی قوم کے بجائے دنیا کو ہم نے اپنی زندہ دلی اور زندگی کا ثبوت پیش کیا، مگر میںنے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم ریس کورس میں مرغیوں اور انڈوں کا میلہ بھی سجائیں۔ یہ میلہ کیا سجا کہ لاہور شہر میں  پھولوں اور درختوں کے ادارے پی ایچ اے نے بینر لگا دیئے کہ اچھی صحت کے لئے روز کے دو انڈے۔ ریس کورس میں مرغیوں نے وہ کڑ کڑ کی کہ ارد گرد نصف درجن ہسپتالوں میں مریضوں کا پہنچنا محال ہو گیا۔میں خود اس ٹریفک میںپھنسا اور برا پھنسا، پتہ نہیںکس نے گزرنا تھا کہ ہر طرف سے ٹریفک بند کر دی گئی، شاید کسی شہزادے کا گزر ہونا تھا،اب مجھے شک گزرا کہ حکمران انڈوںا ور مرغیوں کے شغف میںمبتلا ہو گئے ہیں تو ان کے میلے بھی لگیں گے، شاہان اودھ بٹیرے لڑایا کرتے تھے اور انگریزوںنے ان کی گردنیں اڑا دیں۔ بغداد کے منطقی کووں کی چونچ کے حلا ل یا حرام کی بحثوںمیں الجھے تھے کہ ہلاکو یا چنگیز میں سے کسی نے بغدادی منطقیوں کی گردنوں کے ڈھیر لگائے ا ور ان پر اپنے تخت سجائے۔
سو حضور، میںاپنا مشورہ واپس لیتا ہوں۔ مگر میںنے تومیلے ٹھیلوں اور تفریح کا مشورہ دیا تھا، ککڑیاں اور آنڈے بیچنے کا مشورہ تو نہیںدیا تھا، ویسے آنڈے بیچنا سیاست کی سیڑھیاں تیزی سے طے کرنے کا باعث ہوتا ہے، میںنے ایک ٹی وی پروگرام میں گورنر سرور کی زبان سے سناکہ انہیں گلاسگو میں سرور آنڈے والا کہا جاتا تھا، پتہ نہیں اب لاہور میں نیا آنڈوں والا کون پیدا ہو گیا ہے اور وہ سیاست میں کیا چھلانگیں بھر رہا ہے۔
اب آیئے میرے پہلے مشورے کی طرف، پہلی عراق جنگ کا یہ تیسرا روز تھا، میںڈپٹی ایڈیٹری کے فرائض بھگتا کر چائے پینے آواری ہوٹل گیا کہ پیچھے ایک قاصد پہنچ گیا، میں ٹھٹکا کہ کوئی غلطی ہو گئی، صاحب نے گھر طلب کیا تھا، میںمیسن روڈ پر صاحب کے دروازے پر پہنچا اور دل کے اطمینان کے لئے عبدالستارسے پوچھا کہ اندر کون ہے، پتہ  چلا کہ شہباز شریف، دل کو اطمینان کیا ہونا تھا، دل ڈوبنے لگا کہ حضرت کوئی شکا یت ،بے وقت لے کر آئے ہیں۔اندر گیا۔صاحب اور شہباز قہقہے لگا رہے تھے، دل کو پھر اطمینان ہوا کہ کوئی شامت نہیں آنے والی۔صاحب نے فرمایا کہ یہ آپ کو لینے آئے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ وزیر اعظم نے عراق بحران پر جو تقریر کرنی ہے، وہ ا ٓپ لکھیں۔میںنے ان سے کہا ہے کہ پہلے آپ ہمارا ایک کالم نگار لے گئے ہیں، وہ واپس نہیں کیا، اب یہ بھی وہیں ڈیرہ نہ ڈال لیں۔ایک چھوٹی سی گاڑی میں ہم ماڈل ٹائون پہنچے، وہاں وہی کالم نویس موجود تھے جن کا صاحب نے ذکر کیا تھا، میںنے کہا کہ تقریر تووہی لکھیں گے،مگر میرا ایک مشورہ ہے کہ اگرا ٓج بھٹو  ہوتا تو وہ آنیا ںجانیاں دکھاتا اور ایک ہوائی جہاز پکڑتا، عراق کے ارد گرد جو ہوائی اڈہ کھلا  دیکھتا، وہاں اترتا اور پھر اگلے کسی ایئر پورٹ کی طرف اڑ جاتا، اس سے وہ یہ ظاہر کرتا کہ سب کچھ اس کے اشاروں پہ چل رہا ہے،میںمشورہ دے کر آ گیا۔ نوازشریف نے تقریر کیا اور پھر اگلے روز ایک ہوائی جہاز پکڑا، ایک بار نہیں ،دو بار، مڈل ایسٹ کا چکر کاٹا، ایک پرواز کے دوران تو ان کی میڈیا ٹیم کو کھڑکی سے صدام حسین کا ایک اسکڈ میزائل بھی نظرآیا جو اس نے اسرائیل پر داغا تھا، وہ زمانہ الیکٹرانک میڈیا کا نہیں تھا ، صرف اخباری ڈھمکیریاں چلتی تھیں۔اور یہی واحدا ڈھمکیری تھی جو دونوں دوروں کے دوران رپورٹ ہوئی، باقی بس آنیاں جانیاں دیکھنے والی تھیں، اور میں تلملا رہا تھا کہ مشورہ میں دیتے رہ گیااور سیر سپاٹے پر دوسرے چلے گئے۔
یہ تھیں امن کی فاختہ کی دو پروازیں ۔
 یہی مشورہ نواز شریف کے دماغ کے کسی کونے میں اب بھی موجود ہے مگر اس مرتبہ یہ مشورہ کام کر جائے گا۔ اب پاکستان وہ نہیں جو نوے کے عشرے کے شروع میں تھا، آج یہ ایٹمی قوت ہے،ا س کے پاس دنیا کی بہترین پروفیشنل فوج ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں امریکی ا ور نیٹو افواج شکست خوردہ حالت میں پسپا ہو رہی ہیں جبکہ جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کا لوہا منوا لیا ہے۔
ضروری نہیں کہ پاک فوج کو میدان جنگ میںکودنا پڑے، اس میں اللہ کے فضل سے یہ طاقت ہے کہ وہ گھر بیٹھے جو چاہے گی، وہی حل نکلے گا۔
ہمارا قبلہ درست ہے اور قبلے کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ بس وزیر اعظم اپنی آنیا ںجانیاں دکھاتے رہیں۔