نصیب۔۔۔!

 نصیب۔۔۔!

ایک مسافر کوایک ایئر ہوسٹس پسند آگئی ۔ اس نے اس سے شادی کر لی۔اس کی ماں کو علم ہوا تو اس نے بیٹے کو خوب سنائیں ،اس شخص نے کہا ’ماں تم ہی تو کہتی تھی کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔۔ ۔ بلا شبہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں مگر انہیں تلاش زمین پر ہی کیا جاتا ہے۔ بچوں کے رشتوں کا معاملہ تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جا رہاہے۔ امریکہ تا پاکستان والدین فکر مندہیں ،خاص طور پر جن لڑکیوں کی عمرکے ساتھ 30 کا ہندسہ لگ جائے ، مناسب رشتے کی چوائس دم توڑنے لگتی ہے۔ لڑکی خواہ دنیا بھر کی ڈگریاں حاصل کیوں نہ کر لے،آخر کار اسے شادی ہی کرناہے تو کیوں نہ یہ کام مناسب عمر میں کر دیا جائے ؟لیکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ کم عمر لڑکی کی تعلیم بھی کم ہو تی ہے اور دور حاضر میں لڑکی کے لیئے بھی تعلیم اور ہنر کی اہمیت لڑکوں کے برابر سمجھی جانے لگی ہے۔ برے وقت کے لیئے کوئی ہنر یا ڈگری کا ہاتھ میں ہونا ضروری ہے جبکہ برے وقت کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا جا رہاہے یعنی طلاق اور خلع کا رحجان بھی بڑھتا جا رہاہے۔برے وقت کے لیئے بیٹیوں کو تعلیم دلانا والدین کی مجبوری بن چکا ہے اس کے علاوہ بھی ایک ماں کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے تا کہ اگلی نسلوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی جا سکے۔ ایک لڑکی کو پڑھانے سے مراد معاشرے کو ایک پڑھا لکھا خاندان مہیا کرنا ہے۔ تعلیم کا سلسلہ شادی کے بعد بھی جاری رکھا جا سکتا ہے لیکن لڑکا یا اس کے والدین شادی کے بعد یہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور وعدہ کر بھی لیں تو اکثر سسرال والے وعدہ خلافی کر تے ہیں اور لڑکی ادھوری تعلیم کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے ۔خاص طور پر ڈکٹر کی تعلیم ادھوری رکھنا یا ڈگری کے باوجود اسے جاب کی اجازت نہ دینا، ڈاکٹری پیشہ کے ساتھ بے انصافی ہے۔ لڑکیوں کی عمر رشتوں میں رکاوٹ میں اہم کردار ادا کر تی ہے۔ امریکہ میں بھی پاکستانی مائوں کی ڈیمانڈ کے مطابق بہو خوبصورت ہونے کے ساتھ ڈاکٹر بھی ہونی چاہئے اورعمر بھی بائیس تئیس سال سے زیادہ نہ ہو ۔ یہ ڈیمانڈ از خود جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امریکہ میں ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر بننے کے لیئے مسلسل تعلیم جاری رکھے تو اسکی عمر کم از کم 28 سے 32 سال ہو جاتی ہے بصورت دیگراس سے بھی زیادہ عمر ہو سکتی ہے جبکہ مرد چالیس کا ہو جائے اسے چھبیس سال سے زیادہ کم عمر لڑکی چاہیئے ۔امریکہ میں بچہ بلا توقف تعلیم جاری رکھے تو اٹھارہ سال میں ہائی سکول مکمل ہوتا ہے،چار سال میں بی اے کرے گا اور اس کے بعد پروفیشنل لائن جا ئن کرے گا، اس اعتبار سے امریکہ اور پاکستان میں چوبیس سال سے کم عمر لڑکی کا رشتہ با آسانی نہیں ملتا۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میںغیر شادی شدہ پاکستانی لڑکیوں کی عمریں 26سے 35سال ہیں جبکہ مسلمان لڑکے تیس سال سے کم عمر میں شادی کرلیتے ہیں۔شادی کی شرح بھی مسلم کمیونٹی میں زیادہ ہے جس کی وجہ مذہب ہے وگرنہ مغربی معاشروں میں شادی کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے جس کا سبب بیروزگاری اور مہنگائی ہے اور طلاق کی شرح مسلم ممالک میں بھی بڑھ رہی ہے ۔ رشتہ نہ ہونے اور بار بار مسترد کئے جانے کی صورت میں لڑکیاں دل برداشتہ ہو جاتی ہیں جبکہ اللہ سبحان تعالیٰ پر مکمل توکل ہونا چاہئے کہ اس نے ہر جاندار کا جوڑا بنا رکھا ہے اور جس کا جوڑا اس دنیا میں بنانا مقصود نہیں اس میں بھی اس ذات پاک کی کوئی نہ کوئی حکمت پنہاں ہے لہذا رشتوں کے لیئے کوشش اور اسباب اختیار کرنا چاہئے مگر اس ایشوکو روگ نہیں بنالینا چاہئیں۔ نصیب لکھا گیا ہے تو وقت بھی مقرر فرما دیا گیا ہے۔ والدین کو یقین ہونا چاہئے کہ ان کی بیٹی ہر شخص کو پسند نہیں آئے گی ،صرف اس شخص کو پسند آئے گی جس کے نصیب میں لکھی جا چکی ہے ۔ اچھے نصیب کی دعا کیا کریں ۔نصیب تقدیر کے اس باب کو کہتے ہیں جس کے بارے میں ایک ماں نے پروردگار سے عرض کی تھی کہ ’’یا اللہ مجھے کچھ دے یانہ دے بس وہ قلم عطا کر دے جس سے میں اپنے بچے کا نصیب خودلکھ سکوں‘‘۔
رشتوں کی راہ میں عورت ہی عورت کی رکاوٹ ہے۔ ایک عورت لڑکے کی بھی ماں ہے اور لڑکی کی بھی۔اپنی لڑکی بیاہتے ہوئے چاہتی ہے کہ اس کے گھر اور اس کی لڑکی میں کوئی نقص نہ نکالا جائے لیکن یہی عورت جب اپنے لڑکے کا رشتہ تلاش کرنے نکلتی ہے تو بیسیوں لڑکیوں کو مسترد کر آتی ہے کہ فلاں کی عمر زیادہ ہے ،فلاں کا رنگ گورا نہیں،فلاں کا قد چھوٹا ہے ،فلاں موٹی ہے ،فلاں کے باپ کا سٹیٹس معمولی ہے،فلاں کا گھر معمولی علاقے میں ہے ،فلاں یہ فلاں وہ۔۔۔لڑکی دینے اور لڑکی لانے والی یہ ایک عورت کے دو روپ دیکھ کر’’ عورت ہی عورت کی دشمن‘‘ محاورہ یاد آجاتا ہے۔اپنی بیٹی کے رشتے میں تاخیر یا رکاوٹ کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اسے ’’رکاوٹ یا بندش‘‘ کا نام دے دیتی ہے۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کی لڑکی کو اس ان لڑکیوں کی’’ آہ‘‘ لگ گئی ہو جن کو وہ اپنے بیٹے کے لیئے ’’ریجیکٹ‘‘ کر آئی ہے؟’’ رشتے میں رکاوٹ‘‘ کے توڑ کے لیئے یہ عورت کسی بھی بابے ،پیر فقیر عامل کامل کے پاس جاسکتی ہے لیکن’’ رکاوٹ یا بندش‘‘ اس کی بچی کے رشتے میں نہیں بلکہ اس عورت کی نیت میں ہے۔ اپنی ڈیمانڈ اور حیثیت کا موازنہ کریں تو رکاوٹ اوربندش خود بخود ٹوٹ جائے گی۔ مکمل ’’پیکج‘‘ کسی کو نصیب نہیں کہ مکمل ذات صرف پروردگار کی ہے اور پروردگار کے ساتھ رشتہ جوڑنے کے لیئے اپنے نفس کو کلمہ پڑھانا ہو گا۔نصیب بھی نیت کے مطابق لکھے جاتے ہیں۔