عشاقانِ رسولؐ کا روح پرور اجتماع

کالم نگار  |  نعیم احمد
عشاقانِ رسولؐ کا روح پرور اجتماع

یہ ان دنوں کی بات ہے جب 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی سامراج برصغیر پر اپنا اقتدار مستحکم کرنے کی تدبیریں سوچ رہا تھا۔ اس نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی۔ لہٰذا انہیں اپنا دشمن تصور کرتا تھا۔ وہ دین اسلام کے فلسفہ جہاد سے بے حد خائف تھاجو خوابیدہ اور پژمردہ مسلمانوں میں بھی نئی روح پھونک دیتا ہے۔ اس تناظر میں انگریز سرکار نے برصغیر کی ملت اسلامیہ میں سے جذبۂ جہاد ختم کرنے اور فرقہ بندی سے ان کے باہمی اتحاد کو ریزہ ریزہ کرنے پر غور شروع کردیا۔ اس مقصد کیلئے اس نے برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین‘ چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں اور ممتاز اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان پر مشتمل ایک کمیشن ہندوستان روانہ کیا جس کے سربراہ سرولیم ہنٹر تھے۔ یہ وہی ولیم ہنٹر تھے جس نے اپنی کتاب "Our Indian Mussalmans"میں برملا تحریر کیا تھا کہ ’’مسلمانوں میں جہاد کا تصور ان کی (انگریزوں) کی سلطنت کیلئے ایک مستقل خطرہ ہے۔‘‘ اس کمیشن نے ایک سال تک حالات و واقعات کا بنظر عمیق مطالعہ و مشاہدہ کیا اور ایک جامع رپورٹ بعنوان ’’The Arrival of British Empire in India‘‘ مرتب کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ ’’ہندوستان کی اصل محرک قوت مسلمان ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی پیشوائوں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ نفسیاتی نکتۂ نگاہ سے اس وقت ایک ایسا آدمی تیار ہونا چاہیے جو اپاسٹالک پرافٹ (Apostolic Prophet) ہونے کا دعویٰ کرے۔ اس مدعی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر اس سے برطانوی مفادات کیلئے کام لیا جائے۔‘‘ چنانچہ ہندوستان میں برطانوی زعماء ایسے من چاہے شخص کی تلاش میں جت گئے۔ سیالکوٹ کے ایک پادری مسٹر بٹلر کی نگاہِ انتخاب ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں تعینات ایک محرر پر پڑی جو وہاں ایک قلیل مشاہرے پر ملازم تھا۔ ابتدائی بات چیت کے بعد اس محرر کو ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر بغرضِ ملاقات مدعو کیا گیا جو اس کے لئے یقینا ایک بہت بڑی ’’سعادت‘‘ تھی۔ ان تینوں اشخاص کے درمیان راز و نیاز ہوئے اور معاملات طے پانے پر اس شخص نے دین و ملت میں نقب لگانے کی حامی بھرلی۔ اس شخص کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے پہلے خود کو مجدد قرار دیا اور پھر مسیح موعود‘ مہدی اور بالآخر نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ اس پر مسلمانوں کا احتجاج فطری امر تھا مگر انگریز حکومت کی آشیرباد سے اس نے اپنی مذموم سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس نے برطانوی پالیسی سازوںکی منشاء کے عین مطابق ’’جہاد بالسیف‘‘ کو حرام قرار دے دیا۔ یہ نظریہ انگریزوں کے مفادات سے سو فی صد مطابقت رکھتا تھا۔ اس فتنے کے سد باب کی خاطر جن شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا‘ ان میں حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوریؒ اور حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ کے نام سرفہرست ہیں۔ ان دونوں اکابرین ملت نے نبوت کے اُس جھوٹے دعویدار کا اس وقت تک سرگرم تعاقب کیا جب تک وہ 1908ء میں اپنے عبرت ناک انجام تک نہ پہنچ گیا تاہم اس کے جانشینوں نے اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ چنانچہ 1953ء میں اس گروہ کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلی جس میں اسے غیر مسلم اقلیت قراردینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں قادیانیوں کو بڑا اثر و رسوخ حاصل تھا‘ لہٰذا یہ تحریک مارشل لاء کے زور پر دبا دی گئی اور بڑے بڑے نامور علمائے کرام کو زنداں میں دھکیل دیا گیا۔ مئی 1974ء میں ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر مسلمان طلبہ پر قادیانیوں کے حملے نے مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا اور ان کے خلاف ایک فیصلہ کن تحریک کا آغاز ہوگیا جس کے نتیجہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے 7ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیؐ کے عشاق کی جدوجہد اور قربانیاں بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ اس تاریخ ساز دن یعنی یوم ختم نبوتؐ پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کی صدارت تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب محمد رفیق تارڑ نے کی جبکہ مہمان خاص سجادہ نشین آستانۂ عالیہ علی پور سیداں پیر سید منور حسین شاہ جماعتی تھے۔ اس موقع پر جناب محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت پر پورے دینِ اسلام کا انحصار ہے جس کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ 1953ء کی تحریک میں دس ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ایک لاکھ کے قریب نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پیرسید منور حسین شاہ جماعتی نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کی روح ہے جس کی خاطر ہم تن من دھن قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ نشست میں جسٹس(ر)خلیل الرحمن خان‘ ڈاکٹر سید طاہر رضا بخاری‘ پیر سید ہارون علی گیلانی‘ مفتی محمد اقبال چشتی‘ مفتی نعمان قادر مصطفائی اور حافظ محمد حسین گولڑوی نے بھی اظہارِ خیال کیا جبکہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید نے نظامت کے فرائض نبھاتے ہوئے اس امرپر زور دیا کہ قادیانیت کے فتنہ کے خلاف ہر میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نشست کے اختتام پر بارگاہِ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ درود و سلام پیش کیا گیا۔قبل ازیں انہوں نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پاکستان میں قادیانیت کی خلافِ اسلام سرگرمیاں آشکار ہونے کے بعد اس گروہ نے یورپ کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا۔ یہ لوگ وہاں خود کو اسلام کا پیروکار بنا کر پیش کرتے ہیں اور غیر مسلموں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اس گروہ کو اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص اسرائیل کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ ہم وہاں کے عوام کو ان کا اصل چہرہ دکھانے کے لئے وقتاً فوقتاً ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ وہاں سے شائع ہونے والے اخبارات میں کالم لکھے جاتے ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلز پر بھی پروگرام نشر کرائے جاتے ہیں۔ قادیانیوں کے ٹیلی ویژن چینل کے مقابلے میں ہم نے وہاں اسلامک یونٹی ٹی وی چینل کا آغاز کیا تھا جو دو سال تک کامیابی سے چلتا رہا لیکن قادیانیوں نے اس کے خلاف سازش کرکے اسے بند کرا دیا۔امیر ملت سنٹربرمنگھم میں ہر سال عالمی تاجدار ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس میں پورے یورپ سے عشاقانِ رسولؐ شریک ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ 1977ء سے جاری ہے۔ پیرسید منور حسین شاہ جماعتی نے کہا کہ مجھے پہلی بار 1976ء میں برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا۔ تب وہاں کے مسلمانوں میں دینِ اسلام کے متعلق زیادہ آگہی نہ تھی۔ اکثر گھروں میں نماز ادا کرنے کے لئے مصلیٰ تک دستیاب نہ تھا۔ دراصل وہ برطانیہ کی آزاد خیال معاشرت کا اثر قبول کرکے دین سے دُور ہوچکے تھے۔ الحمدللہ! ہماری تبلیغی سرگرمیوں کی بدولت نہ صرف برطانوی مسلمان دین کی طرف راغب ہوئے ہیں بلکہ ہزارہا غیر مسلموں نے بھی دینِ اسلام قبول کیا ہے۔ آج برطانیہ میں تقریباً چار ہزار مساجد ہیں جہاں زیادہ تر نوجوان مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔میں نے حال ہی میں برطانیہ‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ‘ سویڈن‘ ناروے‘ اٹلی‘ جرمنی‘ سوئٹزر لینڈ‘ کینیڈا اور آئرلینڈ کا دس ہفتے کاتبلیغی دورہ کیا ہے جس کے دوران میلادِ مصطفیؐاور ختم نبوت کانفرنسوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔ہم نے مسلمان بچیوں کو دینی و دنیاوی تعلیم ایک ساتھ فراہم کرنے کی غرض سے برمنگھم میں اسلامک سیکنڈری سکول اور کالج قائم کیا ہے جو حکومت برطانیہ سے منظور شدہ ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ لندن‘ بریڈ فورڈ‘ ڈیوز بری‘ مانچسٹر اور متعدد دیگر مقامات پر بھی ہمارے دینی ادارے کام کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ اور یورپی ممالک میں مقیم پاکستانی تارکین وطن میں جذبۂ حبّ الوطنی کو مہمیز دینے کے لئے یومِ آزادی اور یومِ پاکستان کے مواقع پر خصوصی پروگراموں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔