کیا سعودی عرب عوامی انقلاب سے بچ گیا ہے ؟

کالم نگار  |  جاوید صدیق
کیا سعودی عرب عوامی انقلاب سے بچ گیا ہے ؟

سعودی عرب کے جواں سال ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں بدعنوانی کیخلاف پرزور مہم کا آغاز کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنے ویژن 2030ءکے مطابق تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ بعض حلقوں کی رائے یہ ہے کہ انٹی کرپشن مہم میں جن با اثر اور باثروت شہزادوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے وہ محمد بن سلمان کی اصلاحات کے پروگرام کی مزاحمت کر رہے تھے۔ سعودی عرب کے معاملات اور پالیسیوں کے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ انٹی کرپشن مہم کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ شاہی خاندان کے جن بااثر افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا ہے‘ ان کا مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بڑا اثر و رسوخ ہے وہ اپنے مقامی اور بین الاقوامی اثر کو استعمال کر کے موجودہ مہم کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے۔ ان ناقدین کی رائے یہ ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ انٹی کرپشن مہم میں جن اہم شخصیتوں کو اپنے عہدوں سے فارغ کیا گیا ہے وہ حکمران شاہی خاندان میں اثر و رسوخ کی مالک ہیں ان کی گرفتاریوں اور اثاثوں کو منجمد کرنے کے فیصلہ کا ایک ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔
محمد بن سلمان سعودی عرب کے نوجوان نائب وزیراعظم‘ وزیر دفاع اور سعودی عرب کی کونسل برائے معاشی ترقی کے چیئرمین ہیں وہ سعودی عرب کو ایسا جدید ملک بنانا چاہتے ہیں جو ایک اسلامی فلاحی مملکت ہو۔ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ءکا اساسی مقصد یہ ہے کہ سعودی عرب کا معاشی طور پر تیل سے انحصار ختم کیا جائے۔ سعودی عرب کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو جائے۔ آمدن ذرائع میں ڈائیورسٹی Diaversity پیدا کی جائے۔ پچھلے کچھ عرصے سے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب کی آمدن میں خاصی کمی آئی ہے بہت سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں اور سعودی عرب میں اخراجات کی کمی کیلئے بھی حکومت کو کئی اقدامات اٹھانا پڑے۔ سعودی عرب میں عام شہریوں کو تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث جن معاشی مشکلات کا سامنا تھا ان کو ختم کرنے کے لئے ملک میں معاشی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ نئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وہ جرات مندانہ اقدامات کئے ہیں جن کے بارے میں سعودی عرب میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ گذشتہ روز ریاض میں محمد بن سلمان کی صدارت میں ہونے والی اکنامک کونسل کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بیرونی کمپنیاں جو سعودی عرب میں آپریٹ کر رہی ہیں ان کے اکا¶نٹس منجمد نہیں کئے جائیں گے۔ مقامی کمپنیوں کے کھاتے بھی نہیں چھیڑے جائیں گے صرف ان ا فراد اور ان کی کمپنیوں کے کھاتے منجمد کئے گئے ہیں جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور جن کیخلاف انٹی کرپشن کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔
سعودی عرب میں بدعنوانی کیخلاف شروع کی جانے والی اس مہم کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سراہا ہے اور اس کی حمایت کی ہے ‘ اگرچہ حال ہی میں صحافیوں کے جس بین الاقوامی پینل نے پیراڈائز پیپرز میں جن مزید شخصیات کے آف شور کمپنیوں میں چھپائے ہوئے اثاثوں کا انکشاف کیا ان میں صدر ٹرمپ کے سترہ سے زیادہ ساتھی بھی شامل ہیں لیکن ٹرمپ نے سعودی عرب میں کرپشن کیخلاف حکومتی اقدامات کی تعریف اور حمایت کی ہے۔ دوسرے عرب ملکوں میں کرپٹ اور بوسیدہ نظام کیخلاف ”عرب سپرنگ“کی شکل میں چند سال پہلے جو ردعمل سامنے آیا تھا اس پر کئی ملک غیر مستحکم ہوئے اور انہیں سیاسی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا سعودی عرب اور خلیج کے عرب ممالک ”عرب سپرنگ“ سے متاثر نہیں ہوئے۔ محمد بن سلمان اور ان کے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جو اقدامات کئے ہیں ان کے نتیجے میں سعودی عرب کسی غضب ناک عوامی ردعمل سے بچ گیا ہے۔ لیکن موجودہ انٹی کرپشن مہم کو بڑی احتیاط سے آگے لے کر چلنا ہو گا جن شخصیات کو احتساب کی سان پر گھسا گیا ہے وہ کوئی معمولی شخصیات نہیں ہیں وہ اس انٹی کرپشن مہم کو آسانی سے ہضم نہیں کریں گے۔