کہاں ڈھونڈوں تمہیں

کہاں ڈھونڈوں تمہیں

کسی نے کہا کہ پاکستان میں لوگ اتنے ویہلے ہیں کہ کوئی گاڑی ریورس کر رہا ہو تو دس بارہ لوگ آجاتے ہیں آن دے آن دے،بس رْک جا ئو پیچھے کھمبا اے۔۔۔اگے جان دے۔۔۔

جبکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسے لوگ ویہلے نہیں، احساس کا جذبہ رکھتے ہیں تاکہ کسی کی مدد کر دی جائے، اس نفسانفسی کے دور میں بھی ایسے اچھے لوگ موجود ہیں،جبکہ آن دے، پیچھے کھمبا اے، کہنے والے عموماً خود نہ صرف پیدل ہوتے ہیں بلکہ غریب بھی مگر پھر بھی بڑی گاڑی والے ’’صاحب‘‘ کی مدد کرتے ہیں، تاکہ وہ سہولت سے وہاں سے نکل سکے۔ ایسوں کو تو سلام کرنا چاہیے۔ یہ لوگ میرے پُرانے پاکستان کے لوگ ہیں۔ انہیں عزت دینی چاہئے جو بلامعاوضہ ہمارے مددگار بنتے ہیں، کہاں ڈھونڈوں اس پاکستان کو جس کی محبت بھری آغوش میں میرا اور آپ کا بچپن گزرا۔ وہ گلیاں ،محلے، بازار ،جہاں محبت ، پیار،اتفاق ،بھائی چارہ، ایک دوسرے کا خیال، احساس، شرم و حیا، رواداری پاسداری، لحاظ وضع داری، ادب ،احترام ، عزت ، سکون ،آزادی ،سادگی ، آسودگی بسا کرتی تھیں۔ آہ !کہاں گیا وہ پاکستان جس کی گود میں ماں کی آغوش کا احساس ہوتا تھا۔ امن تھا،سکون تھا، تحفظ تھا، نہ کوئی ڈر نہ خوف، موت سے مراد بڑھاپا تھا۔ ناگہانی موت کی خبریں شاذو نادر سننے میں آتی تھیں۔ ہر گھر میں دادا اور دادی ہوا کرتے تھے جو نوے یا سو سال کی زندگی گزارکر فوت ہوتے تھے۔ خاندانوں سے گھر بھرے ہوتے تھے۔ ایک کمانے والا اور کئی کھانے والے ہوتے تھے اور سب کو چیزیں ملتی تھیں۔اس پرانے پاکستان میں ایک ہی محلے میں رہتے برسوں بیت جاتے مگر کبھی شیعہ سنی وہابی کی تفریق کا پتہ نہ چل سکا۔ ملازموں کے ساتھ گھر کے افراد جیسا سلوک ہوتا۔ کوئی چاچا کہلاتا،کوئی خالہ اور کوئی ماسی، پرانے پاکستان میں کسی کا پرانا ملازم فوت ہو جاتا تو گھر والے اس کی جْدائی میں رو رو کر ہلکان ہو جاتے، جیسے کوئی حقیقی رشتہ دار بچھڑ گیا ہو۔ ایک گائوں یا محلے میں رہنے والے رنگ و نسل مذہب ذات پات سے بالا تر اپنے دل اور گھر کے دروازے ایک دوسرے کے لئے کھلے رکھتے۔ محرم کا مہینہ آتا توہر گھر میں احترام دیکھا جاتا۔ یوم عاشور کے موقع پر ٹھنڈے مشروبات اور پانی کی سبیلیں لگائی جاتیں۔ نان حلیم اور چنوں کے چاول پکائے جاتے اور بلاتفریقِ مسلک ایک دوسرے کے گھروں میں نیاز بھیجی جاتی اور قبول کی جاتی۔ جن گھروں میں مجالس کا اہتمام کیا جاتا، بڑے ادب سے واقعہ کربلا سننے پہنچ جاتے۔ نہ کوئی جھگڑادیکھانہ فرقہ بندی نہ فروعی مسائل کے تنازعات دیکھے۔ شب عاشورکو ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھ جاتے اور بڑوں کے ساتھ شام غریباں سنا کرتے۔ سلام آخر سن کر سر گھٹنوں میں دبا کر ہچکیوں سے رویا کرتے، سکول لائف سے کالج پہنچ گئے مگر علم ہی نہ ہو سکا کہ ہم شیعہ ہیں یا سنی، وہابی، بریلوی، نقشبندی یادیو بندی؟ ان القابات سے بالکل لا علم تھے، بس اتنا جانتے تھی کہ ہم مسلمان ہیں اور نماز روزہ شرم و حیائ، دین اسلام کی تعلیمات کو سمجھنا اور عمل کرنا ہم پر فرض ہے۔ یوم ولادت رسولؐ کا موقع آتا یا معتبر بزرگان دین کے محافل عرس ہوتیں، محلے میں دیگیں پکا کرتیں۔ لنگر کا عام اہتمام کیا جاتا، پرانے پاکستان میں شاید ہی کوئی غریب کبھی بھوکا سویا تھا۔ شب برات ہوتی تو چھت پر چڑھ کر چراغاں کیا کرتے۔ شب بھر محفل سماع اور نعت خوانی، قرآن خوانی، محفل درود پاک کی رونقیں اہل محلہ سے ملاقاتیں پیار محبت کا ذریعہ ہوتیں۔یوم آزادی کا موقع آتا تو بڑے پرچم اور چھوٹی جھنڈیوں سے گھروں کو سجانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش ہوتی۔
قائد اعظم اور علامہ اقبال کا احترام والد کی طرح کیا جاتا، قومی ترانے زبانی یاد ہوتے،جذبہ حب الوطنی کا جوش و ولولہ لہو میں ٹھاٹھیں مارتا محسوس ہوتا،جرائم بہت کم تھے۔ چوری کے واقعات شاذ و نادر سننے میں آتے اور چورپکڑا جاتا تو اہل محلہ کے غضب کا نشانہ بنتا۔الغرض قتل و غارت گری،چوری ڈاکے،اسلحہ و بارود غیر معمولی واقعات تھے۔ جس پاکستان میں ہم نے بے فکر،بے خوف، بے پروا زندگی گزاری ہے،اس پاکستان کو نہ جانے کس حاسد کی نظر کھا گئی۔ موجودہ پاکستان شعبدہ باز وں سے بھرا پڑا ہے۔ نت نئے تماشے ہوتے ہیں۔ چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں رہی، عورتوں کا احترام جاتا رہا۔ دینی اقدار کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ نظریہ پاکستان کو دقیانوسی قرار دیا جا تاہے۔ پرانے پاکستان کے خیالات و نظریات کی توہین کی جاتی ہے۔پرانے لوگوں کے تجربات کو فار گرانٹڈ لیا جاتا ہے۔ پاکستانیوں میں احساس کمتری کا سرطان اس قدر پھیل چکاہے کہ اگلی نسلیں پاکستان سے فرار چاہتی ہیں۔ پرانا پاکستان کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ نئے نظریات میں ایک ایسا پاکستان پیش کیا جارہا ہے جس میں اپنے چہروں کی شناخت بھی مشکل ہو گئی ہے۔