ایوان بالا : طلال چوہدری نے صدر نشین سے ’’شاباش‘‘ کی فرمائش کر دی

ایوان بالا : طلال چوہدری نے صدر نشین سے ’’شاباش‘‘ کی فرمائش کر دی

بدھ کو سینیٹ کا اجلاس مجموعی طور پر ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہا سوا تین گھنٹے تک چیئرمین میاں رضا ربانی نے اجلاس کی صدارت کی کافی عرصہ بعد اجلاس مقررہ وقت سے 6منٹ کی تاخیر سے روع ہوا ایوان میں ارکان کی حاضری مایوس کن رہی جب اجلاس شروع ہوا تو 8ارکان ایوان میں موجود تھے جب اجلاس اختتام پذیر ہوا تو یہ تعداد 12تھی ایوان میں رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2012کے رول 100میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی ۔ بدھ کو بھی سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اسلام آباد میں موجود رہے احتساب عدالت میں پیشی تھی پنجاب ہائوس میں مسلم لیگی رہنمائوں کے اجلاس کی صدارت کی بعد ازاں وہ لاہور چلے گئے ۔ میاں نواز شریف نے مسلم لیگی رہنمائوں ’’انتخابی میدان ‘‘ میں اترنے کے لئے تیاری کی ہدایات جاری کر دیں ۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے بارے میں آئینی ترمیم کی منظوری کی راہ میں حائل رکاوٹیں موضوع گفتگو رہیں چیئرمین قائمہ کمیٹی دفاع سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی سینیٹ میں واضح کیا ہے کہ حلقہ بندیوں اور انتخابات کے فیصلے پارلیمنٹ کی بجائے کہیں اور ہوں گے تویہ ملک قوم کی بدقسمتی ہوگی، خاکی مفتی سمیت تمام شراکت داروں میں مکالمہ ہونا چاہیے ، چیف جسٹس آف پاکستان کی پارلیمنٹ میں آمد اور سینیٹ میں اظہار خیال سے یہ روایت قائم ہوچکی ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات کے حوالے سے کسی اور کردار کے دروازے نہ کھولے جائیں، سینٹ میں جماعت الدعوۃ پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی بازگشت سنی گئی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں کوئی نرم گوشہ نہیں ہے جماعت الدعوۃ نے فلاح انسانیت فائونڈیشن کے بعد سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی مگر ہم نے کام کرنے نہیں دیا باوجود اس کے کہ بندے بھی تبدیل کیے گئے انہوں نے کہا کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دہشتگرد قرار دینے کی مخالفت کا جواب دفتر خارجہ دے سکتی ہے 65تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ چھ جماعتوں کا نام نگران لسٹ میں نام رکھا گیا ہے صدر نشین سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے سینیٹ میں وزارت داخلہ کی طرف سے 9سوالات کے جواب نہ آنے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ ا گر وزیر کام نہیں کرسکتے تو استعفاٰ دے دیں ۔ سینیٹر سحرکامران کے سوال کے دوسری مرتبہ بھی جواب نہ آنے پر پیپلزپارٹی کے ارکان سینیٹ سے واک آئوٹ کر دیا ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے طاہرمشہدی سے شکوہ کیا کہ مشکل سوالات کے جواب دینے پر بھی شاباش ملنی چاہیے، طلال چودھری نے ایوان میں وقفہ سوالات ایک گھنٹے 20منٹ تک جاری رکھنے پر توجہ مبذول کرائی تو وقفہ سوالات ختم کردیا گیا۔ بدھ کو سینیٹ کے وقفہ سوالات پر پریذائیڈنگ افسر سینیٹر کرنل (ر)طاہر مشہدی کی صدارت میں ہوا۔ طلال چودھری نے ایوان کو جواب دیا کہ وزارت سے 24سوالات کئے گئے جن میں سے 13کے جواب دیئے جبکہ 5 دیگر وزارتوں کے حوالے سے تھے جبکہ 7کے جواب دیئے گئے آج ایوان نے مشکل سوالات کئے مگر وزارت نے مشکل سوالات کے جواب بھی دے دیئے ایوان بالا میں ارکان نے مردم شماری کے حوالے سے سیاسی تقسیم اور تحفظات کو دور کرنے کے لیے نمونے کے طور پر کچھ بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کرانے کی تجویز دے دی ہے۔