دونوں کے دل میں کیا ہے نواز اور نثار

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
دونوں کے دل میں کیا ہے نواز اور نثار

چودھری نثار کی ناراضگی میں بھی ایک وقار تھا اور اس کی صلح میں بھی ایک وقار ہے۔ مگر وہ ابھی تک پنجاب ہائوس میں بیٹھ کر سرکاری امور سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سرکش اور نواز شریف کے لاڈلے بیورو کریٹ فواد حسن فواد سے بیزاری کا اظہار کیا ہے ایک بیورو کریٹ کسی وزیر کے کاموں میں مداخلت کرے۔ یہ ہر دور میں ہوا ہے مگر نواز شریف کے زمانے میں کچھ زیادہ ہی افسرانہ خودسری دکھائی دیتی ہے۔کچھ وزیر توغلامانہ فطرت سے مجبور ہوتے ہیں مگر چودھری نثار جیسے خوددار وزیر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو پھر نواز شریف کے ساتھ ملاقات کیا تھی کہ ایک ’’برا کریٹ‘‘ ہی سنبھالا نہیں جا رہا۔ میں بیورو کریسی کو برا کریسی کہتا ہوں اور اب یہ لفظ زبان زدعام ہے۔ کئی بیورو کریٹ بھی کہتے ہیں کہ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ دانشور بیورو کریٹ اوریا مقبول جان برا کریسی کے بہت بڑے راز دار ہیں اورناقد ہیں۔ میں خود کے لئے پنجاب  سے باخبر ہوں مگر  کچھ حکومتی کالم نگار فواد کی اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ ان کا اور ان کے بچوں کا کام نہیں ہوا۔ ورنہ اب تک ایک زوردار کالم ان کے حق میں آ چکا ہوتا۔ لوگ جی ایم سکندر کے لئے جانتے ہیں کہ ایک کالم ان کے خلاف تھا دوسرا ان کے حق میں تھا۔ دونوں میرے پاس موجود ہیں۔ اس میں ایک سیاستدان چودھری پرویز الہی ان کے کام آئے تھے۔  بہرحال فوادکو کچھ رعایتی نمبر نہیں دیئے جا سکتے۔ اتنی مخالفت کے بعد بھی وہ وزیراعظم ہائوس کا مالک ہے بلکہ عبدالمالک ہے کچھ کچھ محمد مالک بھی ہے۔ وہ کبھی بھی کوئی غلطی تسلیم نہیں کرے گا۔ اور صاف صاف کہہ دے گا کہ یہ نواز شریف کی خاص مہربانی سے ہوا ہے۔ سیاستدان اور افسر میں یہی فرق ہوتا ہے پھر بھی نواز شریف کو افسران بہت عزیز ہیں۔ چودھری نثار نے فوادکا نام لیا ہے دوسرے وزیر شذیر تو اس کا نام بھی زبان پر نہیں لا سکتے۔  نجانے نوازشریف نے فواد سے کیا کام لینا ہے؟ ابھی تک تو فواد ہی نواز شریف کے ساتھی سیاستدانوں کو استعمال کئے جا رہے ہیں۔ استعمال اور استحصال  میں فرق نہیں رہتا مگر اس کا واسطہ اب ایک جنیوئن  غیور آدمی سے پڑا ہے۔ نوائے وقت نے فواد حسن کو سپر بیورو کریٹ کہا ہے۔ یہ کوئی سپرپاور قسم کی چیز ہے۔ وزارت داخلہ میں اس کی مداخلت؟ نواز شریف نے اسی کی شرارت پر چودھری نثار سے پوچھے بغیر شاہد حسن کو سیکرٹری داخلہ لگایا تھا۔ سیکرٹری اطلاعات لگاتے تو کوئی اعتراض نہ کرتا؟ چودھری نثار نواز شریف کے سامنے مغرور ہونے سے بھی نہیں کتراتا۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ نواز شریف کو تیسری بار وزیراعظم چودھری صاحب نے بنوایا ہے۔ ان کے احسانات کچھ تو ہیں جن کا احساس نواز شریف کو ہے۔ پیپلز پارٹی سے حکومتی اتحاد ہوا تھا تو وہ سینئر وزیر تھے۔ جب ن لیگ اپوزیشن میں آئی تو وہ اپوزیشن لیڈر تھے۔ کچھ لوگ کہتے  ہیں کہ ن لیگ سے مراد مسلم لیگ نواز نہیں،مسلم لیگ نثار ہے۔ 
چودھری صاحب بہت اچھے مقرر ہیں قومی اسمبلی میں بھی ان کے سامنے کوئی ٹھہرتا نہیں ہے۔ شیخ رشید بھی چودھری صاحب سے کتراتا ہے۔ انہوں نے پہلے عمران خان کو بھی ٹف ٹائم دیا تھا۔ بڑی مخالف کی تھی۔ بہت بولے تھے۔ جب کہ دونوں ایچی سن کالج سے ہیں۔ پرویز خٹک بھی ایچی سن کالج سے ہیں۔ پرویزخٹک بھی وزیراعلی ہو گئے مگر چودھری نثار وزیراعظم بنیں گے؟ عمران یا نواز شریف کسی اور کو یہ منصب نہیں دے سکتے۔ نواز شریف نے چودھری صاحب سے پوچھا بھی تھا کہ آج کل عمران سے بہت رابطے ہیں؟ اس سے ایک خبر بھی چلی تھی جو میرے کالم کا عنوان بھی بن گئی۔ نواز شریف نے اس کا بھی برا منایا کہ چودھری صاحب اور شہباز شریف جنرل کیانی سے کیوں ملے تھے جبکہ بھارت کے دورے سے پہلے بھی شہباز شریف جنرل راحیل سے ملے تھے۔ 
میرے پچھلے کالم کے لئے راولپنڈی سے راجہ لیاقت نے خوشی کا اظہار کیا۔ واہ کینٹ  سے ایک نوجوان  چودھری نثار کے لئے مخالفانہ کالموں کے باوجود میرے لئے اچھے تاثر کا احساس رکھتے ہیں۔ غالباً  ان کا نام اعجاز بٹ ہے۔ چودھری نثار کے لئے بہت وابستگی رکھتے ہیں۔ واہ سے اورنگ زیب عباسی، جاوید ہاشمی کے لئے دل و جان سے محبت رکھتے ہیں اور اکثر ان کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ ارسلان کے ساتھ عمران کے جھگڑے میں جاوید قریشی نہیں آئے۔ شاہ محمود قریشی اور فوزیہ قصوری بہت آگے آگے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو پتہ ہے کہ ارسلان کس کے کہنے پر میدان میں آیا ہے۔ وہ خود کس کے کہنے پرعمران کے ساتھ لگا ہے؟ اورنگ زیب کہتے ہیں کہ جو کچھ چودھری نثار کے لئے شریف برادران نے کیا ہے۔ جاوید ہاشمی کے لئے کیوں نہ کیا تھا؟ یہ سوال ہے کہ شریف برادران چودھری صاحب سے خوف زدہ ہیں اور ان کے محتاج ہیں۔ فوج کے ساتھ چودھری صاحب کے روابط ہیں کہ ان کے بھائی جرنیل تھے انٹرنیشنل روابط میں بھی وہ نمایاں ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کے واحد آدمی ہیں جو باہر کی دنیا کے ساتھ روابط میں رہتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور عمران کے بعد صدر زرداری اور پھر چودھری نثار۔ 
چودھری صاحب نے کہا ہے کہ ایک وزیر بغض کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لئے چھپ کر کارروائیاں کر رہا ہے۔ انہوںنے اسحاق ڈار کا مثبت طریقے سے نام لیا جن وزیر کا نام وہ نہیں لینا چاہتے سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہے۔ چودھری صاحب کو ایسے کسی شخص کی پرواہ نہیں ہے ان کا خیال ہے کہ جب کسی جینوئن باکردار اور سچے آدمی کی طرف سے مخالفت ہو گی تو یہ تشویش کی بات ہو گی۔ خواجہ صاحب وزیر دفاع ہیں اور جرنیلوں کے دل میں ان کا جو مقام ہے وہ خود جانتے ہیں ان کا یہ بیان ملاحظہ کریں۔ وزیرستان آپریشن جلد ختم کرنا چاہتے ہیں جب کہ آپریشن کرنے میں ان سے کسی نے رائے نہیں لی تھی۔ بالعموم فوج سیکرٹری داخلہ سے رابطہ رکھتی ہے اور وہ فوج کا ریٹائر افسر ہوتا ہے مگر ایسے کاموں سے نواز شریف خوف کھاتے ہیں۔ 
چودھری نثار دبنگ آدمی ہیں۔ وہ مسلسل ممبر اسمبلی بنتے چلے آ رہے ہیں۔ میں ان کے لئے اختلافی کالم بھی لکھتا ہوں۔ اب بھی لکھوں گا مگر میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اختلافات کا حق اسے ہے جو اعتراف کرنا جانتا ہو۔ نواز شریف کے لئے چودھری صاحب کے دل میں جو گرہ پڑ گئی ہے اب کھل نہیں سکتی اور یہ چودھری صاحب بھی جانتے ہیں کہ نواز شریف بھی دل میں کوئی گرہ ڈال لیں تو وہ نکلتی نہیں ہے۔ اللہ خیر کرے۔ دونوں کے دل میں کیا ہے۔ دونوں جانتے ہیں تو ہم کیوں نہیں جانتے؟