آرمی چیف کا عہد وفا

آرمی چیف کا عہد وفا

جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کے اگلے مورچوں کا معائنہ کیا ہے، آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ کئی مرتبہ ایسے دورے کر چکے ہیں، وہ اپنے جوانوں اور افسروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔آپریشن کے کمانڈر جنرل ربانی کا اپنا بیٹا داد شجاعت دے رہا ہے۔یہ پاک فوج ہے۔
اس آپریشن میں پاک فضائیہ بھی کاروائی کر رہی ہے اور معین نشانوں پر میزائل اور بم برسا کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جارہا ہے، بری فوج پیش قدمی کرتے ہوئے علاقے کی صفائی میںمصروف ہے، اب تک دہشت گردوں کی کئی اسلحہ سازفیکٹریوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے اور ڈھیروں گولہ بارود بھی ہاتھ آیا ہے۔ ہماری پولیس کی عادت ہے کہ وہ کسی مقابلے کے بعد ایک میز پر ہتھیار سجا کر فوٹو سیشن کرتی ہے کہ یہ ہے مال مقدمہ جو ان کے ہاتھ لگا ہے مگر اس طرح کے فوٹو سیشن کے لئے پولیس کے مال خانے میں پہلے ہی اسلحے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔پاک فوج کو دہشت گردوں کے اسلحے تک پہنچنے میںجان کی بازی لگانی پڑتی ہے۔ایک لانس نائک نے جام شہادت نوش کیا، خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔ یہ سرفروش ہمارے کل کے امن ،سکون اور خوشحالی کے لئے اپنا آج قربان کر رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کمال صبرو ہمت سے کام لیتے ہیں۔نہ کوئی شکوہ ، نہ شکایت۔بس ایک انگشت شہادت آسمان کی طرف بلند کرتے ہیں کہ یہ اس اللہ کی رضا ہے۔
فوج نے جچے تلے انداز میں آپریشن کا آغاز کیا۔ جنرل عاصم باجوہ کے بقول وہ فاٹا کا بیشتر علاقہ پچھلے کئی برسوں کی جنگ میں کلیئر کروا چکی ہے، اب صرف شمالی وزیرستان کا مسئلہ ہے اور وہ بھی اس کے تین مقامات کا۔یہ آپریشن سال کے آغاز میں ہو جاناچاہئے تھا۔مگر حکومت کی مصلحتیں آڑے آتی چلی گئیں، ادھر وزیر داخلہ روٹھ کرگھر بیٹھ گئے۔ ملک میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی اور یہ حضرت اپنی انا کے اسیر ہو کر رہ گئے۔ کہتے ہیں ان کے خاندان کی فوجی بیک گرائونڈ ہے اور اگر یہ بیک گرائونڈ نہ ہوتی تو نہ جانے حضرت کیا گل کھلاتے۔ وہ کیوں روٹھے اورکن شرائط پر مانے، اس کاکسی کو کچھ پتہ نہیں ، کہنے کو ایک وزیردفاع بھی ہیں مگر انہوںنے تو آپریشن پر زبانی کلامی بھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا، بس ایک خاموشی اور یہ خاموشی بھی بہتر ہے ورنہ وہ بولتے تو چھپرپھاڑ کر بولتے۔وزیر اعظم نے عبدالقادر بلوچ کی نگرانی میں ایک کمیٹی بھی بنائی تھی تاکہ آپریشن کے معاملات چلائے جا سکیں۔فوجی آپریشن نہ تو سستی روٹی کے تندور لگانے سے متعلق ہے، نہ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے۔نہ نوجوانوں میں ایک سو ارب کی بندر بانٹ جس کے لئے کمیٹی بنائی جائے۔جنگ کے دوران چین آف کمان کام دیتی ہے، اس میں کسی خواجہ حسان یا حنیف عباسی کا مشورہ کیاکام دے گا، یہ لوگ لاہور اور پنڈی کی میٹرو چلانے کا شوق پورا کرتے رہیں جن کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دی جا چکی۔ وہ آرمی کو یک سو ہو کر دہشت گردوں سے دو دو ہاتھ کرنے دیں۔جنرل راحیل کو کسی جرگے یا کمیٹی کے مشوروں کی ضرورت نہیں، وہ وسیع تجربے کی دولت سے مالا مال ہیں ، دنیا کی ایک پیشہ ور فوج کے سربراہ ہیں اور نشان حیدرخاندان کی روایات کے علم بردار، ان کے ساتھی جرنیل بھی سکہ بند اور پیشہ ور انہ تربیت سے مالا مال ۔ان کا کام انہی کو ساجھے۔
میرا اندازہ ہے کہ ابھی فل اسکیل فوجی آپریشن شروع نہیں ہوا،جلد یا بدیر یہ آپریشن ہو گا اور اسی کے نتیجے میں دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ مگر جیسا کہ آرمی چیف نے کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں حکومتی رٹ بحال کرنے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ دہشت گرد جہاں جہاں جا چھپیں گے، ان کاپیچھا کیا جائے گا اور پورے ملک میں ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔
آپریشن کے بعد سول ڈھانچے کو سخت امتحان درپیش ہو گا، یہ وہی امتحان ہے جس میںسوات آپریشن کے بعد ہمیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔فوج نے سوات ا ور مالاکنڈ کا علاقہ ایک قلیل مدت میں کلیئر کروا لیا، مہاجرین کی ان کے گھروںمیں واپس بھی ہو گئی مگر سول ڈھانچہ آج تک سوات کو ٹیک اوور نہیںکر سکا اور فوج وہیںکی وہیں پھنسی ہوئی ہے، عمران خان دعوے بہت کرتے ہیں، ایک کے بعدایک لانگ مارچ کرتے ہیںمگر ان کاصل لانگ مارچ یہ ہے کہ وہ اپنی صوبائی حکومت سے کہیںکہ سوات کا کنٹرول سنبھالے، اس کی پولیس لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرے، تھانہ، کچہری عدالت کا نظام فعال ہو۔ گلی محلوں اور سڑکوں کی مرمت کے محکمے اپنے ڈھب پرا ٓئیں ، یہ سارے کام فوج کے کرنے کے نہیں ہیں، ان میں ہم نے فوج کو خواہ مخواہ الجھا رکھا ہے اور اس کی توانائی ضائع کی جا رہی ہے۔
حالیہ آپریشن بھی انشاللہ اپنے مقاصد میں بہت جلد کامیاب ٹھہرے گا ، قوم کی دعائیں اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔ اس آپریشن کے بعد بے گھر افراد بھی واپس چلے جائیں گے مگر سول شعبے کو کنٹرول کر نے کے لئے فاٹا کی مشینری کو تیار ہونا چاہئے، اس سلسلے میں گورنر سرحد کا اصل کردار بنتا ہے کیونکہ وہ وفاق کے نمائندے کے طور پر اس علاقے کے انچارج ہیں، موجودہ گورنر صوبے کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں ، اس لئے ان کے پاس سول معاملات چلانے کا تجربہ بھی ہے، ان کی راہنمائی جناب صدر کو کرنی ہے اور وفاقی حکومت کو بھی اپنی مہارت کا مظاہرہ کرنا ہے۔تاکہ سوات کی طرح یہاں بھی فوج کو ہی مستقل ڈیرے نہ ڈالنے پڑیں۔
خدشہ یہ ہے کہ آپریشن سے جان بچا کر دہشت گرد پورے ملک میں پھیل جائیں گے ، ان کا پیچھا اکیلے فوج نہیں کر سکتی، درجنوں اقسام کی پولیس اور سول انتظامیہ کو بھی چوکسی کا ثبوت دینا ہوگا، ان کاکام طاہرالقادری کے گھر پر فائر کرنا یا عمران کے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کی اسکیمیں سوچنا نہیں۔صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان کو بھی اپنے حلقوںمیں امن کمیٹیاں تشکیل دینی چاہیئں۔ایک زمانے میںٹھیکری پہرے سے محلے میں امن قائم ہو گیا تھا، اب بھی یہ نظام مشکوک افراد کا مکو ٹھپنے کے کام آ سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ حکمرانوںکی نیت نیک ہونی چاہئے کہ گورننس بہتر بنانی ہے۔صرف مال بنانے پر توجہ نہ ہو۔
مجھے یک گونہ راحت ہوتی ہے جب میں یہ دیکھتا ہوںکہ پوری قوم اس فوجی ا ٓپریشن کے لے یک سو ہے۔ البتہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کاکوئی علاج نہیں ، ان کے پیٹ میں تو مروڑ اٹھتا رہے گا۔ منور حسن کی جگہ سراج الحق در فنطنی چھوڑتے رہتے ہیں اور عمران خان کی زبان بھی قابو میںنہیں رہتی۔ انہیں ہر طرف سبزہ نہیں، خزاں نظر آتی ہے، کاش! وہ بنوں کے ارد گرد گھوم پھر کر دیکھیں، انہیں کوئی ٹینٹ سٹی نظر نہیں آئے گا ، فوج نے ایک نظم کے تحت مہاجرین کا بوجھ اٹھا رکھا ہے، اسی لئے حکومت کو یہ کہنے کا حوصلہ ہوا ہے کہ ہمیں بیرونی امداد کی اپیل کرنے کی ضرورت نہیں۔
میں جب بھی سوشل میڈیا پر جاتا ہوں تو قوم کے نوجوان اپنے بہادر سپاہیوں کو سلیوٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور جنرل راحیل شریف کے ساتھ ساتھ اگلے مورچوںمیںمتعین جوانوں کی ولولہ انگیز تصویریں قلب و ذہن کو گرماتی ہیں۔