جاوید ہاشمی کا عمران خان کو’’ مناظرے ‘‘کا چیلنج

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
جاوید ہاشمی کا عمران خان کو’’ مناظرے ‘‘کا چیلنج

ؔ حفیظ جالندھری مرحوم کا شعر ہے ؎دو چار برس کی بات نہیں یہ نصف صدی کا قصہ ہے ۔ زمانہ طالبعلمی سے مخدوم جاویدہاشمی سے یارانہ تھا ۔ میری ان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب پنجاب یونیورسٹی میں ان کا ’’طوطی‘‘ بولتا تھا حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرنا کوئی ان سے سیکھے اسی لئے ان کو زمانہ طالبعلمی میں ’’اک بہادر ہاشمی‘‘ خطاب مل گیا تھا جیل کی کوٹھڑی مخدوم جاوید ہاشمی کے لئے ’’عجلہ عروسی‘‘ کی حیثیت رکھتی تھی کم و بیش نصف صدی میں بار بار جیل یاترا نے انہیں میدان سیاست میں کندن بنا دیا عزت و وقار اور جرات کے ساتھ جیل کاٹنا کوئی ان سے سیکھے پنجاب کی شاید ہی کوئی جیل ہو جس کو مخدوم جاوید ہاشمی کی ’’مہمان نوازی‘‘ کا شرف حاصل نہ ہوا ہو مخدوم جاوید ہاشمی ایسی شخصیات کے بارے میں ہی شاعر نے کہا ہے کہ ؎ ہم جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے ۔ دھوپ ہویا چھائوں ، موسم گرم ہو یا سرد میں نے مخدوم جاوید ہاشمی سے دوستی کو نبھایا ہے جب جنرل پرویزمشرف نے شریف خاندان کو سعودی عرب جلاوطن کیا تو یہ جاوید ہاشمی ہی تھے جنہوں نے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق کی رہنمائی میں قائم مقام صدر کی حیثیت سے مسلم لیگ(ن) کو زندہ رکھا جرات و استقامت سے جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا مقابلہ کیا ان کا شمار نواز شریف کے قابل اعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا لیکن وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جلاوطنی کے خاتمے کے بعد ان کے اور میاں نواز شریف کے درمیان فاصلے بڑھنے شروع ہوگئے ایک وقت ایسا آیا مخدوم جاوید ہاشمی کو نواز شریف کی ’’کچن کیبنٹ‘‘ سے نکال دیا گیاپارٹی کے اہم فیصلوں میں ان کی مشاورت ختم کر دی گئی ان کی 6،6ماہ تک میاں نواز شریف سے ملاقاتیں نہیں ہوتی تھیں عام تاثر یہ ہے میان نواز شریف کو پارٹی کے بعض لیڈروں نے یہ باور کرا دیا تھا کہ وہ ان کی جگہ لینے کے لئے کوشاں رہے ہیں لیکن مخدوم جاوید ہاشمی کا موقف ہے شریف برادران کی وطن واپسی کے بعد تو ان کا رول ہی ختم ہو گیا تھا پھر ان کی جگہ کیسے لے سکتا تھا۔ ایک مرحلہ ایسا آیا پارٹی قیادت کی طرف سے نظر انداز کئے جانے پر انہوں نے پارٹی میں کوئی عہدہ لینے سے انکار کر دیا جب پارٹی کے انتخابات عمل میں لائے جارہے تھے تو پنجاب ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کے دوران میاں نواز شریف نے مخدوم جاوید ہاشمی نے انہیں پارٹی کا دوبارہ سینئر نایئب صدر بنانے کی پیشکش کی تو انہوں نے یہ کہہ کر ’’کئی ماہ بعد آج آپ سے ملاقات ہوگئی میرے لئے یہی کافی ہے‘‘ سینئر نائب صدر بننے سے انکار کر دیا لیکن جب جناح کنونشن سنٹر میں پارٹی کے انتخابات کے لئے پنڈال سجا تو ہال ’’ہاشمی ہاشمی‘‘ کے نعروں سے گونجنے لگا یہ صورت حال پارٹی قیادت کے لئے بھی حیران کن تھی پارٹی کا یہ پہلا منصب تھا جو پارٹی کارکنوں کے مطالبے پر مخدوم جاوید ہاشمی کو دیا گیا لیکن ایسا دکھائی دیتا تھا مخدوم جاوید ہاشمی کا مسلم لیگ (ن) سے دل اکھڑ گیا ہے جس رات انہوں نے مسلم لیگ(ن) کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا اگر اس وقت محترمہ کلثوم نواز انہیں منانے چلی جاتیں تو ممکن ہے مخدوم جاوید ہاشمی اپنا سیاسی کیمپ تبدیل نہ کرتے لیکن محترمہ کلثوم نواز کو اپنے بھائی کو منانے سے روک دیا گیا ۔جس صبح وہ عمران خان پارٹی کی ’’جائن‘‘ کرنے کراچی کے لئے روانہ ہوئے میرے لئے بڑا تکلیف دہ دن تھا مخدوم جاوید ہاشمی کی ’’سیاسی خود کشی‘‘ پر میں اپنے آنسوئوں پر ضبط نہ پا سکا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی ان سے نصف صدی سے دوستی تھی میں ان کو ’’سیاسی خود کشی‘‘ سے نہ روک سکا میں جانتا تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی جیسے مزاج کا مالک زیادہ دن تک تحریک انصاف میں نہیں رہ سکے گا وہ اس جماعت کے لئے’’ان فٹ‘‘ ہے وہی ہوا جب تحریک انصاف نے ’’نادیدہ قوتوں‘‘ سے مل کر بساط لپیٹنے کی کوشش کی تو مخدوم جاوید ہاشمی عمران خان سامنے کھڑا ہو گیا عمران خان کے پورے منصوبے کو ’’ایکسپوز‘‘ کر کے جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے کی سازش کو ناکام بنا دیا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ایک ملاقات میں اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے جن 4عوامل کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت بچ گئی ان میں مخدوم جاوید ہاشمی کا کلیدی رول ہے انہوں نے ان تمام عناصر کو بے نقاب کر دیا جو وزیر اعظم محمد نواز شریف سے جان چھڑانے کے لئے جمہوری حکومت ختم کر کے ’’جوڈیشل مارشل لائ‘‘ لگانے کی سازش کر رہے تھے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ اتنی بڑی سازش تھی جو کامیاب نہیں ہوئی جب کہ ماضی میں چھوٹی چھوٹی سازشیں کامیاب ہوتی رہی ہیں 2014ء میں کی جانے والی سازش کی ایک بار پھرباز گشت سنی جارہی ہے ۔ مخدوم جاوید ہاشمی کاکہنا ہے کہ انہوں نے شریف برادران سے20سال پہلے سیاست شروع کی تھی انہیں عمران خان سے مختلف پایا ۔ مخدوم جاوید ہاشمی تحریک انصاف کے صدر رہے ہیں سوال یہ ہے کہ ان کی عمران خان سے رفاقت زیادہ دیر کیوں نہ چل سکی؟ آخر اس کا پس منظر کیا ہے قوم کو حقائق کا علم ہو نا چاہیے اگرچہ پاکستان میں مناظرے کے چیلنج سیاسی مقاصد کے لئے دئیے جاتے ہیں ن ان کو قبول کرنے کی نوبت نہیں آتی لیکن آج کے دور میں الیکٹرانک میڈیا جہاں ہر روز ’’ نائٹ شو‘‘ لگتے ہیں حقائق سے آگاہی کے لئے کوئی مناظرہ ہو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں عمران خان کو بھی جہاں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع مل جائے گا وہاں عوام کی عدالت بھی اس
بارے میں کوئی فیصلہ دینے کی پوزیشن میں ہو گی اس طرح ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کی سیاست کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ دھرنا 1کے بارے میں جہاں حقائق سامنے آنے چاہیں وہاں دھرنا2کی سازش کو بھی بے نقاب ہونا چاہیے اسی طرح اب دھرنا3کی تیاریاں کی جارہی ہیں پاکستان میں جمہوری حکومت کے ساتھ ’’دھرنوں ‘‘ کا کھیل بند ہونا چاہیے اور ان عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے جو جمہوری حکومت کو چلنے نہیں دے رہے ۔جمہوریت دشمن عناصر کی سرکوبی کر کے ہی جمہوریت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے مخدوم جاوید ہاشمی اور عمران خان ایک ساتھ بیٹھ کر ’’حساب کتاب ‘‘ برابر نہیں کرنا چاہتے تو پھر حکومت ہی کمیشن قائم کر دے تمام حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے۔