::یو پی کے انتخابات کی ہمارے لئے اہمیت

کالم نگار  |  نصرت جاوید
::یو پی کے انتخابات کی ہمارے لئے اہمیت

انگریز سرکار نے جس علاقے پر قبضہ کرکے اسے ”صوبہ جاتِ متحدہ واودھ“ کہا تھا ان دنوں اترپردیش کہلاتا ہے۔ اس کی UPوالی عرفیت مگر اب بھی برقرار اور مقبول عام ہے۔ آبادی کے اعتبار سے یہ بھارت کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ تقریباً پاکستان جتنی یعنی 20کروڑ کو چھوتی آبادی والے اس صوبے کی ریاستی اسمبلی کی 403نشستیں ہیں۔ ان نشستوں کے لئے 11فروری سے 8مارچ تک سات مراحل میں انتخابات کروائے جائیں گے۔ صرف بھارتی میڈیا ہی نہیں چند عالمی اخبارات کے لئے لکھنے والے بھی ان انتخابات کے لئے چلائی جانے والی مہم پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہم جو بھارت کے ہمسائیے مگر اس کے ازلی دشمن ہونے کے دعوے دار بھی ہیں۔یوپی کے انتخابات کے بارے میں لیکن قطعاََ لاعلم اور بیگانہ نظر آرہے ہیں۔ان انتخابات کا سرسری حوالہ کبھی کبھار اس امید کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ شاید ان کے مکمل ہوجانے کے بعد مودی سرکار پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی بدلنے پر غور کرے گی۔
یوپی کی سیاست کے بارے میں یہ بے اعتنائی تاریخ کے مجھ ایسے طالب علم کے لئے حیران کن ہے۔ اس صوبے کی سیاست کا سرسری جائزہ بھی جبکہ ہم کو سمجھاسکتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کی خواہش کو اس سیاست سے جڑے مسائل ہی نے توانائی عطاءکی تھی۔ ہندی اُردو جھگڑا اسی صوبے سے شروع ہوا۔ مسلمانوں کے لئے مخصوص نشستوں اور جداگانہ انتخابات کی سوچ بھی اسی صوبے میں پروان چڑھی تھی۔ یہ سب ہونے کے باوجود بھی مسلمان برطانیہ کے متعارف کردہ جمہوری نظام سے مطمئن نہ ہوپائے اور بالآخر اپنے لئے ایک الگ وطن کے قیام کے مطالبے پر ڈٹ گئے۔
یوپی کے زرخیز اور وسیع وعریض خطوں کو دلی میں بیٹھے مسلمان سلطانوں نے کئی صدیوں تک وسطی ایشیاءاور افغانستان سے آئے دلاوروں کی مدد سے اپنے کنٹرول میں رکھا تھا۔ یہ دلاور جب نواب اور جاگیر دار بنے تو زبان وثقافت کو اشرافیہ کا رنگ دینے کے لئے ایرانی علمائ، ہنرمندوں اور شاعروں وغیرہ کو بھی اپنے ہاں بسانے لگے۔ برہمن اشرافیہ بھی اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ان کی مصاحب بن گئی۔ انتظامی اور معاشی امور چلانے والے یہ برہمن درحقیقت اس دور کی افسر شاہی تھی۔ انہیں کائسٹھ کہا جاتا تھا۔ ان کی اُردو اور فارسی بھی بہت شدھ ہوا کرتی تھی۔مسلم اور برہمن اشرافیہ کے باہمی اشتراک ہی نے ”گنگاجمنٰی ثقافت“ کو پروان چڑھایا جو آج بھی ہماری اجتماعی یادداشت کا اہم ترین جزو ہے۔ ثقافت کا ایک ایسا باب جس کو حسرت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
انگریزی حکمرانی کے 200سالوں نے بتدریج اس ثقافت کو مٹانا شروع کردیا۔ ماضی کے مسلمان دلاور انگریزوں و مالیہ دینے والے تعلقہ دار بنے۔نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھلنے کی بجائے مگر اپنے ماضی سے جڑے رہنے پر بضد بھی۔ بے زمین کاشتکاروں اور ہنرمندوں کو خواہ وہ مسلمان تھے یا غیر مسلم ان تعلقہ داروں نے انہیں اپنی ”رعیت “ہی سمجھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد ان کی اکثریت نے یوپی کو چھوڑ کر نئے ملک کی طرف ہجرت کرلی۔ اعلیٰ تعلیم، حسب نسب اور خاندانی مراسم کی وجہ سے قیامِ پاکستان کے بعد کئی برسوں تک وہ نئے ملک کی پالیسی سازی میں اہم ترین کردار ادا کرتے رہے۔ وقت مگر بدل چکا تھا۔ جو اس کے مطابق ڈھل نہ پائے وہ ”چھوڑ آئے گلستان جلتا ہوا“والی سوچ کے اسیر بن کررہ گئے۔ ناصر کاظمی اور انتظار حسین نے بہت خوب صورتی سے اس سوچ کا اظہار کیا تھا۔ یہ کالم مجھے لیکن آج کے یوپی کے بار ے میں لکھنا ہے اور اس کے بار ے میں لکھتے ہوئے یاد آپ کو یہ دلانا ہے کہ مودی سرکار یوپی کی ریاستی اسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل کرنے کے بعد اس صوبے میں حکومت بنانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔
مودی کی BJPنے 22سالوں کے طویل وقفے کے بعد 2014ءکے عام نتخابات میں اس صوبے کے لئے مختص لوک سبھا یعنی وہاں کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے 80فیصد پر کامیابی حاصل کی تھی۔اسے یقین ہے کہ تقریباََ تین سال گزرجانے کے بعد بھی رائے دہندگان کی اکثریت مودی کے ساتھ اپنی وابستگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مودی اور اس کی جماعت کو لیکن یوپی میں برہمن اشرافیہ اور اس کے مفادات کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس اشرافیہ کی بالادستی کو سب سے پہلے نچلی ذات کی ایک جاندار نمائندہ مایاوتی نے بھوجن سماج پارٹی کے ذریعے تباہ وبرباد کیا تھا۔ حکمرانی کے چند برس گزارنے کے بعد مگر وہ بھی ”اشرافیہ“ ہو گئی تو ملائم سنگھ یادیو نے اپنی سماج وادی یعنی سوشلسٹ پارٹی کے ذریعے صوبائی حکومت اور سیاست پر اجارہ قائم کر لیا۔ محض نچلی ذاتوں جنہیں وہاں دلت کہتے ہیں پر مکمل انحصار کے بجائے ملائم کی جماعت ”یادو“ لوگوں کو اپنی اصل قوت سمجھتی ہے۔ یادو اس صوبے کے ”گجر“ ہیں۔ اپنا رشتہ کرشن مہاراج سے جوڑتے ہیں۔ متوسط طبقے کی اکثریت ان ہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہ اکثریت مسلمان ووٹروں کو جو تعداد میں 20فی صد ہیں کی اکثریت کو اپنی جانب مائل کئے ہوئے ہے۔ یادو اور مسلمان ووٹروں کے اشتراک نے BJPکو UPمیں پاﺅں جمانے نہیں دئیے تھے۔
2012ءکے انتخابات میں ملائم سنگھ یادو کی SPنے اکثریت حاصل کی تو اس کا بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ بنا اکلاش یوپی کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ ہماری ریاست کے تناظرمیں اسے یوپی کا بلاول بھٹو زرداری بھی کہا جاسکتا ہے۔ اسے سیاست سے جڑی روایتی کرپشن، دھڑے بندی اور مکاری سے جدا ایک نیک طینت نوجوان سمجھا جاتا ہے۔ اس کا باپ مگر اس کی سیاست سے خوش نہیں۔ اس کا خیال ہے کہ ”لڑکا“ سیاست نہیں سمجھتا۔ اپنے چچا کے ساتھ مل کر بلکہ ملائم سنگھ کو فارغ کرنے کے چکر میں ہے۔ 2017ءشروع ہوتے ہی ملائم نے اکلاش اور اس کے چچا کو SPسے نکال دیا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ انتخابات کے لئے اپنی جماعت کے امیدواروں کا انتخاب بھی صرف وہی کرے گا جو اس جماعت سے وابستہ نشان-سائیکل-کے ساتھ آئندہ انتخابات لڑیں گے۔
اکلاش نے اپنے باپ کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ وہ بضد ہے کہ ”اصل“SPاس کے ساتھ ہے۔اسے الیکشن کمیشن نے ”سائیکل“کا نشان نہ بھی دیا تو وہ اپنے امیدواروں کو ”موٹرسائیکل“ کے انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اُتارے گا۔ اس انتخابی نشان کے ذریعے وہ یہ پیغام بھی دے گا کہ اس کے پانچ سالہ دورِ حکومت نے عام آدمی کو ”سائیکل“ سے اٹھاکر”موٹرسائیکل“ پر بٹھا دیا ہے۔
اپنی فتح کو یقینی بنانے کے لئے اکلاش نے ایک مشہور امریکی یونیورسٹی ہارورڈ کے ایک استاد کی خدمت بھی حاصل کررکھی ہیں جو ”لیڈرسازی“کے ہنر کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ اس استاد کے مشورے سے اکلاش اب ”موروثی سیاست“ کے ایک اور نمائندے راہول گاندھی کے ساتھ ملاقات کرکے اس کی کانگریس کے ساتھ اتحاد بنانے کی سنجیدہ کوششیں کررہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اچھی شہرت رکھنے والے یہ دونوں نوجوان باہم مل کر ”پرانی سیاست گری“کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
ملائم سنگھ یادو اور اس کے بیٹے کی باہمی چپقلش کا میں غور سے جائزہ لے رہا ہوں۔ ہمارے ہاں ایسی ہی چپقلش کی توقع آصف علی زرداری اور بلاول کے درمیان بھی پائی جارہی ہے۔ ملائم اور اس کے درمیان جاری کش مکش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکلاش کی ماں کا انتقال ہوچکا ہے۔ ملائم نے اس کے بعد ایک اور خاتون سے خفیہ شادی کرلی تھی جس کا اعتراف اسے سپریم کورٹ کے روبرو کرنا پڑا تھا۔ اس عورت سے اب ملائم کا ایک اور بیٹا بھی ہے جو اسکی زرعی زمینوں کا مالک ہے۔
ملائم اور اس کے بیٹے کے درمیان چپقلش کا یہ پہلو مجھے ہمارے ایک اور بہت تگڑے اور گڈگورننس کی علامت سمجھے سیاستدان کی یاددلادیتا ہے جس کے ممکنہ جان نشین بھی اب عملی سیاست میں بہت متحرک ہیں۔
بطور پاکستانی،یوپی کے انتخابات کو ہمیں مگر ایک بڑے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ تقریباً 25سال بعد یوپی میں BJPکی حکومت کا ممکنہ قیام ہمارے لئے بُری خبر یوں ثابت ہوسکتی ہے کہ مودی اسے اپنی انتہاءپسندانہ پالیسیوں کی حمایت واثبات کے طورپر لے گا۔بھارت کے آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے اور ”ہندی بیلٹ“ کے اہم ترین مرکز-یوپی- میں اس کی شکست البتہ اسے اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کردے گی۔ یوپی کے انتخابات میں دلچسپی لینا ہمارے لئے لہٰذا ضروری ہوچکا ہے۔