نائن زیرو سے نائن ہیرو تک

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایک دن میں دو تین غیر سیاسی ڈرون حملے ہوتے ہیں۔ الطاف حسین نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ انہیں معافی مل گئی۔ الطاف حسین اس طرح کے حیرت انگیز یو ٹرن کے ماہر ہیں۔ مجھے تو بھائی فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، رﺅف صدیقی پر حیرت ہے۔ جتنے پارٹی لیڈر ہیں وہ رات کو دن کہہ دیں تو بے چارے چھوٹے لیڈرز کو اجالے میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ وہ اسی وقت دن کو رات کہہ دیں تو بیچارے چھوٹوں کو دن میں تارے نظر آ جاتے ہیں۔ انہیں نامور شاعر انور مسعود کی نظم ”اج کیہ پکائیے“ پڑھنی چاہئے۔ مگر انہیں پنجابی نہیں آتی۔ الطاف بھائی حکم دیں تو وہ پانچ منٹ میں فرفر پنجابی بولنے لگیں گے۔ لیڈر حکم دیتے ہیں تو ساری پارٹیوں کے لوگ فرفر جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ 
ایک بات چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی خدمت میں بڑے ادب سے عرض ہے کہ میں بھی ان بے شمارو ںمیں تھا جو چیف کے جانثار تھے۔ اب تو میں کسی شمار قطار میں نہیں ہوں۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی غیر مشروط معافی مانگی ہے اور اس نے الطاف حسین اور وغیرہ وغیرہ لوگوں جیسی توہین آمیز باتیں بھی نہ کی تھیں۔ اس کی غیر مشروط معافی قبول نہیں ہوئی اور ایک سال سے ان کا وکالت لائسنس بھی معطل ہے۔ فیصل رضا عابدی نے جو باتیں کیں تو میں بھی شرم کے مارے نیم پاگل ہو گیا مگر سپریم کورٹ نے اسے توہین عدالت کا نوٹس ہی نہ بھیجا۔ توہین عدالت کا نوٹس صدر زرداری کو بھیجنا چاہئے۔ الطاف بھائی خود سپریم کورٹ میں نہ آئے۔ ان کے لئے معافی انہوں نے مانگی جو الطاف بھائی کے کہنے پر جھوٹ بولنا تو درکنار وہ الطاف بھائی کے حکم پر سچ بھی بول دیں گے۔ میں نے جو بات کی ہے اس کے لئے میں پہلے ہی غیر مشروط معافی کا سپریم کورٹ سے طلبگار ہوں۔
بہرحال میں ڈاکٹر قادری کے اس مطالبے کی تائید کرتا ہوں جو انہوں نے رحمن ملک سے ملاقات پر دہرایا کہ پاک فوج اور عدلیہ کو بھی انتخابی معاملات کے لئے مشورے میں شامل کیا جائے۔ میں لکھ چکا ہوں کہ ڈاکٹر قادری کی ساری باتیں درست ہیں تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟ میں نے لکھا ہے کہ آج کل سیاستدان فوج سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا عدالت سے ڈرتے ہیں۔ آرمی چیف کو کوئی لفٹ نہیں کراتا۔ چیف جسٹس سے سب گھبراتے ہیں۔ فوجی مارشل لاءسے زیادہ جوڈیشل مارشل لاءکا خطرہ ہے۔ جمہوری مارشل لاءپر کوئی غور کرنے کے لئے تیار نہیں؟
سیاسی ڈرون حملوں کے ماہر تو صدر زرداری ہیں۔ اب الطاف بھائی نے بھی دھمکی دے دی ہے۔ رحمن ملک صدر زرداری کی ہدایت پر لندن میں الطاف حسین سے مل کر آئے تو فوراً ڈاکٹر قادری کے پاس بھیج دئیے گئے۔ یہ بھی ڈرون حملے سے کم نہیں ہے۔ الطاف حسین کا ڈرون حملہ بھی ڈاکٹر قادری پر ہو گا۔ خوشگوار اتنا کہ ڈاکٹر قادری بھی ناراض نہ ہوں گے۔ عمران کے مدمقابل بھی نواز شریف ہو گئے تھے اب قادری صاحب کے مدمقابل بھی وہی ہیں۔ صدر زرداری کی سیاست واقعی انوکھی ہے۔ ڈاکٹر قادری نائن زیرو پر مفاہمت کے لئے گئے تھے۔ اب وہ ”نائن ہیرو“ بھی جائیں گے۔ انہوں نے زیرو سے ہیرو تک کئی سفر کئے ہیں۔ وہ نائنٹی کے بعد سنچری بھی جلدی جلدی کر لیں گے۔ میچ تو فکس ہو گیا ہے۔ میرا خیال ہے الطاف بھائی سیاسی ڈرون کے ذریعے پہلے ہی سنچری کر لیں گے۔ عمران نے بھی ڈاکٹر قادری کی حمایت کی تھی مگر میدان الطاف بھائی نے مار لیا یعنی صدر زرداری نے مار لیا۔ نواز شریف اس بار بھی رہ گئے۔ اس بار عمران ایک بال سے ایک وکٹ بھی نہ لے سکے۔ الطاف بھائی کو برطانوی ہدایات بھی ہوں گی مگر صدر زرداری پاکستانی سیاست کا کرکٹ میچ زیادہ سمجھتے ہیں۔ الطاف بھائی نے صدر زرداری کو کپتان مان لیا ہے۔ اس میں رحمن ملک کی ایمپائرنگ بھی بہت مفید ہے۔ رحمن ملک کو یہ امپائرنگ بھی صدر زرداری نے سکھائی ہے۔
رحمن ملک نے ڈاکٹر قادری کے ایجنڈے کو نیشنل ایجنڈا کہا ہے جبکہ اصل میں یہ انٹرنیشنل ایجنڈا ہے۔ صدر زرداری الطاف بھائی کی معرفت اسے لوکل ایجنڈا بنا رہے ہیں۔ رحمن ملک نے یہ بھی کہا ہے کہ قادری صاحب جو کہہ رہے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ تو پھر وہ یہ باتیں مان لیں اور ڈرامہ ختم کریں۔ عین ممکن ہے کہ کچھ مفاہمت ہو گئی ہو۔ صدر زرداری مفاہمت کے ماہر بلکہ ”ماہرین“ ہیں۔ مان لینے کا وعدہ پورا کریں ایک بار لانگ مارچ ملتوی ہوا تو لانگ مارچ بن گیا مگر وعدہ پورا کر دیا۔ ہمارے سیاستدان شارٹ کٹ میں یقین رکھتے ہیں جو لوگوں کے لئے بے یقینی بن جاتی ہے۔
مجھے ممتاز شاعر ظہیر کاشمیری یاد آ گئے۔ نیلی پتلون پیلی قمیص سرخ ٹائی لگا کر وہ کبھی کبھی اپنے تین مرلے کے گھر سے نکل کر مال روڈ پر سگریٹ پیتے۔ کچھ لوگ بڑے ادب سے چلتے ہوئے آ رہے تھے۔ ان سے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو۔ انہوں نے فخریہ عقیدت سے کہا کہ پیدل حج کرنے جا رہے ہیں۔ ظہیر کاشمیری مسکرائے اور کہا تو پھر آپ بیڈن روڈ سے ہو کر جائیں۔ یہ شارٹ کٹ ہے۔ ویسی ہی کوئی شارٹ کٹ الطاف حسین ڈاکٹر قادری کو سیاسی ڈرون حملے کے ذریعے بتانا چاہتے ہیں۔ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے سید منور حسن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ قادری صاحب کے لانگ مارچ سے صرف نزلہ زکام ہو گا۔ الطاف بھائی بھی اس موقعے سے فائدہ اٹھائیں اور آ جائیں۔ نزلے زکام کی ولائتی گولیاں بھی ساتھ لیتے آئیں۔
آخر میں رحمن ملک سے پوچھنا ہے ان کے ساتھ شیخ ریاض اور قیوم سومرو نے ملاقات کرائی اور پھر تینوں کے ساتھ میری ملاقات نہیں ہوئی۔ ایک دفعہ قومی اسمبلی میںقرآن پاک کی تلاوت کرنے کی سعادت ملی تو انہی رحمن ملک نے سورہ اخلاص پڑھی۔ کچھ زیادہ ہی خلوص دکھایا اور بھول گئے مگر خود اعتمادی اتنی کہ سورہ اخلاص غلط پڑھی اور بار بار پڑھی۔ ڈاکٹر قادری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قرآن کریم کا ترجمہ انگریزی میں کیا ہے جو میں نے بھی پڑھا ہے۔ ہم نے اتنا پوچھنا ہے کہ اس میں سورہ اخلاص کا ترجمہ بھی انہوں نے پڑھا ہو گا اور یقیناً غلط پڑھا ہو گا۔ یہ بھی کہا کہ بی بی شہید بے نظیر بھٹو لاہور آتیں تو قادری صاحب کے گھر آتیں اور بھابھی سے کہہ کر سویاں بنواتی اور کھاتیں۔ آج ہمیں قادری صاحب نے سویاں نہیں کھلوائیں۔ اصل میں قادری صاحب رحمن ملک کو شہید ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ بی بی قادری صاحب کی سویاں کھا کر شہید ہوئیں۔ ان کا لانگ مارچ شہادت مارچ بن گیا ہے۔