رحمن ملک۔” شَیخ اُلاِسلام “۔ کے حضُور!

کالم نگار  |  اثر چوہان
رحمن ملک۔” شَیخ اُلاِسلام “۔ کے حضُور!


میںگُنہہ گار انسان ہوں مجھے۔ ”شَیخ اُلاِسلام “۔ علّامہ طاہر اُلقادری کی طرح ۔ ”رویائے صدقہ“۔ نہیں آتے اور نہ ہی، ہندوﺅں کے تباہی و بربادی کے دیوتا۔ ”مہا دیو شِوا“۔ کی طرح، مَیں تیسری آنکھ رکھتا ہوں البتہ، میری تصّور کی آنکھ بہت تیز ہے۔ صدر زرداری کے خصوصی ایلچی، رحمٰن ملک اور علّامہ طاہر اُلقادری کی مُلاقات میں جو باتیں ہوئیں، وہ ساری اہلِ میڈیا کے عِلم میں نہیں ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں تصّوراتی منظر پیش کررہا ہوں۔۔۔۔۔
رحمٰن ملک۔ علّامہ صاحب! مَیں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔ پہلی وجہ تو یہ کہ، آپ کی طرح میں بھی اعوان ہوں اور دوسری۔!“۔ علاّمہ القادری۔ (قطع کلامی کرتے ہوئے)۔ آپ بھی اعوان ہیں؟ ثابت کریں!“۔
رحمٰن ملک۔ ”آپ بے شک ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے دریافت کر لیں!“
علّامہ القادری۔ ”چلیں چھوڑیں۔۔۔ اور دوسری بات؟“۔
رحمٰن ملک۔ دوسری بات یہ کہ، مَیں بھی آپ کی طرح ڈاکٹر ہوں۔ میرے پاس۔" Doctor of Laws "۔ کی اعزازی ڈگری ہے۔
علّامہ القادری۔ ”مَیں آپ کی یہ ڈگری، ابھی منسوخ کرتا ہوں۔ آپ کی حکومت مفرور مجرموں (Outlaws) اور دوسرے سماج دشمن عناصر کی سرپرستی کرتی ہے۔ میں آپ کو ۔"Doctor of outlaws"۔ کی ڈگری جاری کر رہا ہوں۔ اب آپ مجھ سے محبت کی تیسری وجہ بتائیں؟“۔
رحمٰن ملک۔ ”تیسری وجہ یہ ہے کہ، الطاف بھائی،آپ کے اور میرے مشترکہ دوست ہیں۔ ہی ہی۔ ہی ہی!“۔
علّامہ القادری۔ ”الطاف بھائی، میرے دوست نہیں، بلکہ چھوٹے بھائی ہیں“۔
رحمٰن ملک۔ ”تو میں بھی الطاف بھائی کو اپنا بڑا بھائی بنا لیتا ہوں“۔
علّامہ القادری۔ ”اور صدر زرداری؟۔ وہ Mind نہیں کریں گے؟“۔
رحمٰن ملک۔ ”صدر زرداری نے مجھے کھُلی چھُوٹ دے رکھی ہے۔ اُن کی طرف سے تو مجھے سات خون معاف ہیں، لیکن میں نے آج تک کوئی خون نہیں کیا۔ میں عدم تشدد کا قائل ہوں !“۔
علّامہ القادری۔ ”آپ کیا ہیں؟ مجھے اِس سے غرض نہیں۔ مَیں تو لانگ مارچ ضرور کروں گا!“۔
رحمٰن ملک۔ ”مَیں آپ کو لانگ مارچ سے روکنے نہیں آیا۔ میں تو آپ کو ایک مُفت مشورہ دینے آہا ہوں!“۔
علّامہ القادری۔ ”لیکن میں نے تو آپ کے بارے میں کُچھ سُنا ہے۔ چلئے دیجئے مشورہ!“۔
رحمٰن ملک۔ ”مجھے حسین حقانی صاحب نے بتایا تھا کہ، شمال سے، جِس بھی حملہ آور نے ہندوستان پر حملہ کیا، اُس نے پہلے لاہور یعنی پنجاب پر قبضہ کیا، پھر دِلّی پر!“۔
علّامہ القادری۔ ”میں سمجھا نہیں؟“۔
رحمٰن ملک۔ ”چھوٹا مُنہ بڑی بات ہے۔ آپ کے پاس 40 لاکھ کا لشکر ہے، کیوں نہ اُس کی کمان کرتے ہوئے، پہلے آپ۔ ”تختِ لہور“۔ پر قبضہ کر لیں، شریف برادران کو، قید کر کے، A.Class دے دیں اور جب پورے پنجاب پر آپ کا قبضہ ہو جائے تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں۔ مَیں آپ کے لئے اسلام آباد کے دروازے کھول دوں گا۔ ہی ہی۔ ہی ہی!“۔
علّامہ القادری۔ ”میں بگلا پکڑنے کی ترکیب پر عمل نہیں کر سکتا ۔ آپ صدر زرداری کو، میرا نام لے کر ڈرائیں اور انہیں مُفت مشورہ دیں کہ وہ اقتدارمیرے حوالے کر دیں۔ میں انہیں۔" Safe Passage"۔ یعنی محفوظ راستہ دے دوں گا!۔ وہ سوئٹزرلینڈ یا فرانس جا کر،کسی سے اپنی۔ ”خُود نوِشت“۔ لِکھوائیں!“ ۔
رحمٰن ملک۔ ”صدر زرداری نے اگر میرا مشورہ مان بھی لیا تو، وہ اقتدار آپ کے حوالے کیوں کریں گے؟۔ یہ تو آئین کے خلاف ہے!“۔
علّامہ القادری۔ ”آئِین شائِین کی باتوں کو چھوڑیں۔ مَیں پارلیمنٹ سے باہر تمام ۔"Stakeholders"۔ کو اپنے اقتدار کے لئے راضی کر لوں گا، آخر ریاست کو بھی تو بچانا ہے!“۔
رحمٰن ملک۔ ”الطاف بھائی نے سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی۔ آپ کا کیا تبصرہ ہے؟“۔
علاّمہ القادری۔ ”الطاف بھائی نے بھی میری طرح، سپریم کورٹ کو ریاست کا ۔"Stakeholders"۔ تسلیم کر لیا ہے۔ مَیں خوش ہوں!“۔
رحمٰن ملک۔ ”الطاف بھائی کے سیاسی ڈرون حملے کے بارے میں آپ کو کُچھ عِلم ہے؟“۔
علامہ القادری۔ ”آپ بتائیں؟“۔
رحمٰن ملک۔ ”ہی ہی۔ ہی ہی۔ جب لندن میں الطاف بھائی سے، میری مُلاقات ہوئی تو، انہوں نے مجھ سے حلف لے کر، سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔ اُس بارے مَیں نے تو صدر زرداری کو بھی کچھ نہیں بتایا، پھر آپ کو کیوں بتاﺅں؟“۔
علاّمہ القادری۔ ”اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صدر زرداری سے مُخلص نہیں ہیں!“۔
رحمٰن ملک ۔ ”مخلص ہوں۔ لیکن میں الطاف بھائی سے بھی تو مُخلص ہوں۔ کل کلاں الطاف بھائی، صدرِ پاکستان بن جائیں تو میرا کیا بنے گا؟“۔
علاّمہ القادری۔ ”الطاف بھائی سے میری بات ہو گئی ہے۔ انہیں صدر یا وزیرِ اعظم بننے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ انقلاب لانے میں میری معاونت کریں گے۔ صدرِ پاکستان تو میں بنوں گا، بلکہ امیر اُلمومنِین۔ خلافتِ راشدہ کا نیا دور پاکستان سے شروع ہو گا!“۔
رحمٰن ملک۔ ”آپ لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کی اور آپ کے لشکر کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ سخت سردی پڑ رہی ہے۔ 40لاکھ لوگوں کے لئے، منجی بِسترے، رہائش اور کھانے کا بندوبست کون کرے گا؟“۔
علّامہ القادری۔ ”زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ میرے اور میرے لشکر کی ضرورتوں کا خیال بھی وہی کرے گا!“۔
رحمٰن ملک۔ ”علاّمہ صاحب! میں آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوں۔ براہِ مہربانی،آپ مجھے اپنی انگریزی کی کتابوں کا سیٹ ضرور دیں!“۔
علّامہ القادری۔ ”مَیں نے مختلف چینلوں پر آپ کو دیکھا اور سُنا ہے۔ آپ ہمیشہ انگریزی غلط بولتے ہیں!“۔
رحمٰن ملک ۔”اِسی لئے تو مَیں، آپ سے انگریزی کی کتابیں مانگ رہا ہوں!“۔
علاّمہ القادری۔ ” انگریزی کی کتابوں کا سیٹ میں کل آپ کو بھجوا دوں گا۔ اور ہاں! میرے علم و فضل اور عالمی سطح، پر میرے مرتبے کا لحاظ کرتے ہوئے، مُجھ سے ملاقات کرنے کے لئے، صدر زرداری کو ،خود تشریف لانا چاہیے تھا۔ آئندہ آپ زحمت نہ کریں۔ ایک بات اُنہیں بتا دیں کہ میں طارق بن زیاد کی طرح سادہ نہیں ہوں جِس کی دُعا کو قلم بند کرتے ہوئے علّامہ اقبالؒ نے کہا تھا۔۔۔
”شہادت ہے مطلُوب و مقصُودِ مومن
نہ مالِ غنیمت ، نہ کِشور کُشائی !“
”مجھے انقلاب لانے اور کِشور کُشائی کے لئے، مالِ غنیمت کی اشد ضرورت ہے۔ ہو سکے تو آپ بھی اپنی بیگم صاحبہ کا زیور میرے بیت اُلمال میں جمع کرا دیں!“۔
رحمٰن ملک۔ ”حضورِ والا! مَیں تو آپ سے یہ گذارش کرنے والا تھا کہ آپ اپنے بیرونی دوستوں سے۔ ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام“۔ کے لئے 12/10ارب روپے بطور اِمداد دِلوادیں!“۔
علاّمہ القادری۔ ”اب آپ تشریف لے جائیں اور میرے۔۔۔ دما دم مست قلندر کا انتظار کریں!“۔