حضرت داتا گنج بخشؒ کا عرس مبارک ....

کالم نگار  |  نعیم احمد

حضرت سید علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ عالمِ اسلام کے اکابر صوفیاءمیں سے ہیں۔ برصغیر کی فضاﺅں کو نورِ ایمان سے منور کرنے میں آپؒ کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ کی شہرہ عالم تصنیف ”کشف المحجوب“ سالکین کےلئے مرشدِ پاک کا درجہ رکھتی ہے۔ آپؒ کا مزارِ پُرانوار مرجع خلائق ہے جہاں ہر وقت زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ عرس مبارک کے موقع پر تو روزانہ لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند سلام پیش کرنے حاضر ہوتے ہیں۔ ملک و بیرونِ ملک سے عوام و خواص اور رُوحانی سلاسل سے وابستہ جلیل القدر ہستیاں آپ کے دربار میں حاضری کو باعثِ سعادت و برکت تصور کرتی ہیں۔ مخدوم اممؒ کے رُوحانی فیوض و تصّرفات کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ خواجہ¿ خواجگان حضرت سید معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری شہنشاہ ہند الولیؒ نے اسی تناظر میں فرمایا تھا گنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نُورِ خداناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را رہنماسید ہجویرؒ کا 969واں سالانہ عرس مبارک گزشتہ دنوں بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ محکمہ¿ اوقاف پنجاب نے اس بار مثالی انتظامات کیے تھے جس میں ضلعی حکومت کے مختلف محکموں اور محکمہ¿ پولیس نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ عرس کی تقریبات کا آغاز وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے رسم چادر پوشی اور فاتحہ خوانی سے کیا۔زینت القراءقاری غلام رسول نے تلاوت قرآن مجید کا شرف حاصل کیا جبکہ حافظ مرغوب احمد ہمدانی اور مولانا عبدالرزاق جامی نے بارگاہِ رسالت مآب میں ہدیہ¿ نعت پیش کیا۔ مخدوم اممؒ کے درجات کی مزید بلندی اور پاکستان کے استحکام و ترقی کے لئے دعا کی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور حاجی احسان الدین قریشی‘ چیئرمین امور مذہبیہ کمیٹی داتا دربار سینیٹر محمد اسحاق ڈار‘سیکرٹری اوقاف طارق محمود پاشا‘ امور مذہبیہ کمیٹی کے ارکان اور حضرت داتا گنج بخشؒ کے ہزاروں عقیدت مند بھی موجود تھے۔ عرس کے تینوں دن اہل لاہور‘ دربار کی انتظامیہ بالخصوص سیکرٹری اوقاف طارق محمود پاشا‘ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن طارق محمود اور ایڈمنسٹریٹر راشد احمد خان ”چشمِ ما روشن دلِ ماشاد“ کی عملی تصویر بنے دکھائی دئیے۔عرس مبارک کے دوران متعدد تبلیغی‘ روحانی و علمی اجتماعات اور محافل منعقد ہوئیں جو اپنے اندر ایک نرالی شان رکھتی ہیں۔ ملک کے گوشے گوشے سے آئے فاضل مقررین نے جن کی کثیر تعداد مشائخِ عظام اور علمائے کرام پر مشتمل تھی‘ ان اجتماعات میں تحفظِ ناموس رسالت، عقیدہ¿ ختمِ نبوت‘ عظمتِ امّہات المومنین‘ حضرت داتا گنج بخشؒ کے علمی و روحانی مراتب‘ کتبِ تصوف میں کشف المحجوب کا مقام‘ امتِ مسلمہ کے اتحاد‘ عصر حاضر میں علمائے کرام کی ذمہ داریاں اور دیگر اہم روحانی و علمی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ عرس کے آخری روز منعقدہ علمی محفل کی صدارت آستانہ¿ عالیہ چورہ شریف کے سجادہ نشین حضرت پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے کی اور اس حقےقت کو اجاگر کےا کہ حصولِ پاکستان کی جدوجہد مےں برصغےر کے مشائخ عظام اور علمائے حق قائداعظم محمد علی جناحؒکے شانہ بشانہ تھے۔ لہٰذا اس مملکتِ خداداد کو مسائل کے موجودہ گرداب سے باہر نکالنے کی خاطر بھی انہیں تحریک قیامِ پاکستان کی طرز پر اپنا کردار بغیر کسی خوف اور مصلحت کے پوری تندہی سے ادا کرنے کےلئے اب ایک مرتبہ پھر میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔عرس مبارک کے موقع پر مختلف دینی و روحانی تقریبات بھی منعقد ہوئیں جن میں قومی محفل حسنِ قرا¿ت‘ قومی محفل حسنِ نعت‘ محافل ختم شریف‘ بین المدارس و جامعات مقابلہ حسنِ قرا¿ت و حسن تقریر اور خصوصی محافل ختم شریف قابل ذکر ہیں۔اس دوران گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں ”سید ہجویر تصوف سےمینار“ کا انعقاد کیا گیا جس میں اہل علم و دانش نے مخدوم اممؒ کی حیات و ملفوظات پر گفتگو کی۔ اسی طرح مرکز معارفِ اولیائ‘ داتا دربار کمپلےکس لاہور میں خواتین اور الحمراءہال لاہور میں مردوں کےلئے ”سید ہجویر تصوف کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ عرس مبارک کی استقبالیہ تقریبات میں مشاعرہ¿ منقبت کا بھی اہتمام کیا گیا تھاجس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے شعرائے کرام نے حضرت داتا گنج بخشؒ کی خدمت میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔ علاوہ ازیں عرس کے تینوں دن مختلف اوقات میں محافل سماع منعقد ہوئیں جن کے دوران وطن عزیز کے نامور قوال حضرات نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ بزرگانِ دےن کا نعتیہ‘ صوفیانہ اور عارفانہ کلام پیش کیا۔ عرس کے موقع پر دودھ کی سبیل برصغیر بھر میں منفرد اور ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب بھر کی گجر برادری آپؒ سے خصوصی عقیدت رکھتی ہے کیونکہ لاہور تشریف لانے کے بعد آپؒ نے سب سے پہلی نذر دودھ ہی کی قبول فرمائی تھی۔ چنانچہ اس کی طرف سے سارا سال بالعموم اور عرس مبارک کے موقع پر بالخصوص لاکھوں من دودھ مزار اقدس پر لاکر بطور نذر پیش کیا جاتا ہے۔ اس بار بھی سبیلِ دودھ کا انتہائی اعلیٰ انتظام دیکھنے میں آیا۔ دربار پر روزانہ کم و بیش پانچ ہزار من دودھ سٹاک کرنے کا انتظام ہے۔ حسب معمول سید ہجویرؒ کے مہمانوں کی تواضع لنگر سے کی گئی۔ کنونیئر لنگر کمیٹی میاں محمد سعید کی نگرانی میں لنگر کی پکوائی اور زائرین میں تقسیم کا بڑا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔عرس مبارک کا اختتام خصوصی محفل ختم شریف سے ہوا جس کے دوران ختم الانبیائ‘ ختم غوثیہ اور ختم خواجگان دلایا گیا۔ حضور پُرنور حضرت محمد مصطفیﷺ پر درود و سلام پیش کرنے کے بعد جامع مسجد داتا دربار کے خطیب مولانا مفتی محمد رمضان سےالوی نے اختتامی دعا کرائی۔ عرس کی تقریبات کے انتظام و انصرام میں ممبران امور مذہبیہ کمیٹی سہیل ضیابٹ‘ میاں محمد طارق شفیع‘ محمد پرویز ملک ایم این اے‘ لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد افضل جنجوعہ‘ بلال یسین ایم این اے‘ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن صوبائی وزیر تعلیم‘ حاجی عزیز الرحمن چن‘ سید ناظم حسین شاہ‘ میاں عمران علی یوسف‘ سید یاور علی‘ میاں محمد رشید‘ جاوید میانداد‘ محمد ابراہیم‘ ہمایوں بٹ ‘شاہد رشید‘ کرنل (ر) محمد یوسف قادری ایڈوائزر کمیٹی‘ حاجی محمد شفیع کنونیئر محافل کمیٹی‘ چوہدری ذوالفقار علی کنونیئر سماع کمیٹی‘ میاں اعجاز احمد ممبر سماع کمیٹی‘ مےاں امجد مجید کنونیئر نگہداشت کمیٹی‘ حاجی محمد اعظم کنونیئر صفائی کمیٹی‘ چوہدری محمد علی گجر کنونیئر سبیلِ دودھ کمیٹی‘ میاں محمد اکرم کنونیئر تخت مزار صفائی کمیٹی اور رضا کار تنظیم کے کنوینئرز الحاج تبریز محمود چشتی‘ ثاقب شہزاد اور مشتاق احمد بسرا نے نمایاں خدمات انجام دیں۔