جہاد اور فقیری ۔۔۔ اقتدار اور امیری!

ہمارے ایک ملنے والے نے جوکہ علامہ طاہرالقادری کے مرید بھی ہیں پاکستان شفٹ ہونے کا ارادہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیخ طاہر القادری پاکستان پہنچ گئے ہیں اور پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے مگر سادہ دل مرید شاید جانتے نہیں کہ علامہ کینیڈا سے کشتیاں جلا کر نہیں گئے۔انقلاب کی خوش فہمی میںپاکستان کے جن لوگوں نے موٹر سائیکلیں ،گھر،زیورات بیچ دئے ہیں،انہیں پاکستان میں ہی رہنا ہے مگر علامہ کے پاس نہ صرف کینیڈا کی واپسی کا ٹکٹ ہے بلکہ کینیڈا میں عالی شان گھر ،گاڑیاں اور تمام سہولیات بھی میسر ہیں۔ پاکستان میں کام نہیں بنتاتو موصوف واپس آجائیں گے اوران کا کچھ نہیں جائے گا مگر ہمارے عزیز سب کچھ کر بیچ کر جا رہے ہیں اور اگر ان کاپاکستان میں کچھ نہ بنا تو منہاج القران میں خیمہ لگائیں گے۔ بشمول علامہ قادری پاکستان کے سیاستدانوں کے گھر‘ اثاثے اور اولادیں بیرون ملک ہیں‘ کسی کا نقصان نہیں ہوتا‘ خسارے میں تو وہ عوام ہیں جن کا جینا اور مرنا پاکستان میں ہے۔ علامہ کی بہو برٹش ہے‘ اگلی نسلیں گوروں کے ملکوں کی پیداوار ہیں‘ حضرت نے نسلوں کے بھی پکے بندوبست کر رکھے ہیں‘ مگر انہیں فکر ہے تو پاکستان کے ان غریبوں کی جن سے موٹر سائیکل اور گھر بھی چھین لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہوتا ہے۔ علامہ جن لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں، ان کے کردار سے عوام اچھی طرح آگاہ ہیں۔ رحمان ملک سیاسی دنیا کے منجھے ہوئے ہدایت کار اور ماسٹر مائنڈ ہیں۔ ان کے ملکی و غیر ملکی دورے‘ ملاقاتیں‘ بیانات‘ باڈی لینگویج سے سیاسی فلموں کے پس منظر‘ ڈراپ سین اور مرکزی اداکاروں کے معاملات کی تہہ تک پہنچنا مشکل نہیں رہا البتہ خلق زباں کو خاموش کرانا مشکل ہے۔ رحمان ملک کی ”سیویوں“ کی طرح ان کی سیاست میں بھی ول فریب ہے۔ بقول رحمان ملک علامہ طاہر القادری کو ان کی بیوی کے ہاتھ کی سیویاں یعنی ”سویاں“ بہت پسند ہیں۔ رحمان ملک کی لندن میں الطاف حسین سے ملاقات اور پھر علامہ قادری سے ملاقات نے زبان خلق کو نقارہ خدا ثابت کر دیا۔ علامہ کے لانگ مارچ کے پیچھے وفاق ملوث ہے اور وفاق کے پیچھے جن طاقتوں کا ہاتھ ہے ان سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔ علامہ طاہر القادری اس الزام سے کہ انہوں نے موت کے خوف سے ملک چھوڑا قطعی انکاری ہیں اور ملک چھوڑنے کے مختلف جواز پیش کر رہے ہیں ،کبھی کہتے ہیں کہ انہوں نے علاج کی غرض سے بیرون ملک سکونت اختیار کی اور کبھی کہتے ہیں انہیں کئی ممالک کے ویزے لینے میں مشکل پیش آرہی تھی لہذا انہوں نے کینیڈین شہریت لے لی لیکن ان کے بیان کے گواہان امریکہ میں بھی موجود ہیں جن کے سامنے علامہ نے کہا تھاکہ انہوں نے سپاہ صحابہ کی دھمکیوں کی وجہ سے ملک چھوڑا ۔گزشتہ برس علامہ جب نیویارک تشریف لائے تو انہوں نے پاکستانی میڈیا سے بھی ملاقات کی۔ علامہ نے ملک میں دہشت گردی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سپاہ صحابہ ان کے دشمن بن گئے تھے اور ان پر قاتلانہ حملے بھی ہو چکے ہیں مگر جب ان کے کارکنوں کو دین اور محبت کا پیغام دیتے تو وہ قائل ہو جاتے۔ اس حوالے سے انہوں نے سپاہ صحابہ کے ایک کارکن کا واقعہ بھی سنایا جس نے علامہ کو قتل کرنا چاہا مگر وہ علامہ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر تائب ہو گیا مگر بعد میں اس کارکن کو قتل کر دیا گیا۔ میں علامہ کے لیکچرز کی مداح ہوں مگر آج جس طرح وہ”ایکسپوز “ ہو رہے ہیں ،دلی صدمہ ہوا ہے۔نیو یارک میں ملاقات کے دوران انہیں تصوف پر لکھی اپنی تصنیف ”دل کی باتیں“ پیش کی اور ان سے روایتی پیری مریدی کے بارے میں سوال بھی کیا جبکہ علامہ کی گفتگو کا محور سیاست تھا۔علامہ موت سے نہیں ڈرتے مگر حفاظتی دستہ بیرون ملک بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں شیشے کے گھر کے پیچھے خطاب‘ سردی سے حفاظت کے لئے ہے۔ موت کا ایک دن معین ہے پھر بھی سیاسی و مذہبی قائدین کو رات بھر نیند نہیں آتی۔ رحمان ملک پر کبھی قاتلانہ حملہ نہیں ہوا بلکہ حکومت کے ایماءپر ہونے والے جلسوں اور جلوسوں کو رحمان ملک کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ زرداری صاحب نے پہلے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف زہر اگلنے پر لگا دیا‘ پھر ذوالفقار مرزا الطاف حسین کے خلاف مقدمہ کو جواز بنا کر لندن گئے‘ الطاف حسین کی وطن واپسی کا منصوبہ تیار کیا گیا‘ ایک موقع پر ذوالفقار مرزا کو وزیر داخلہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا مگر الطاف حسین کی رحمان ملک کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کی وجہ سے زرداری صاحب کو ارادہ ترک کرنا پڑا البتہ رحمان ملک اور زرداری کے بیچ دراڑ آگئی۔ چونکہ بادشاہ کی جان طوطے میں ہے لہذا زرداری صاحب رحمان ملک کی ناراضی افورڈ نہیںکر سکتے۔ علامہ قادری کا گزشتہ ریکارڈ اٹھا کر دیکھا جائے تو مسلک اور سیاسی اعتبار سے موصوف پیپلز پارٹی کے قریب ہیں۔ محترمہ کے ساتھ ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں جن میں محترمہ نے لندن میں منہاج القران کا وزٹ بھی کیا۔ رحمان ملک علامہ کے دولت کدے پر انہیں دہشت گرد حملے کے امکان سے خبردار کرنے نہیں بلکہ فلم کے آخری مراحل کے بارے میں ہدایات دینے گئے تھے۔ دہشت گردی کے حملے سے خبردار کرنے کا مقصد ”برین واش عوام“ کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کا عندیہ ہے۔ قادری صاحب ایک طرف کہتے ہیں کہ مسلمان کسی ایک ملک سے وابستہ نہیں ہوتا‘ ساری زمین رب العزت کی ملکیت ہے‘ میں جہاں بھی جاتا ہوں‘ اللہ کے دین کی آواز بلند کرتا ہوں مگر دوسری طرف حضرت فرماتے ہیں کہ پاکستانیوں کا کشمیر کے جہاد میں حصہ لینا اسلام کے منافی ہے۔ اسلام غیر ملکی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ علامہ کو خدا کی ساری دنیا میں گھومنے کی اجازت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر‘ فلسطین اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جانا منع ہے۔ کشمیری بھایﺅںکو ظلم سے آزادی دلانا خلاف اسلام ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ہنود و یہود و نصاریٰ کے علاوہ علامہ نے بھی آزادی کشمیر کے لئے جہاد کرنے والے پاکستانیوں کو ”دہشت گرد دستہ“ قرار دیا ہے۔ نبی اکرم صحابہ کرامؓ اہلبیتؓ اور صوفیاءکرامؒ کی سیاست ”جہاد اور فقیری“ تھی جبکہ دور حاضر کی سیاست ”اقتدار اور امیری“ ہے۔