آٹے کی قیمت میں اضافہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے

کالم نگار  |  محمد مصدق

 دوسری جنگ عظیم کے موقع پر روس میں گندم کی قلت ہو گئی تو فوج کو حکم ملا کہ وہ گندم کے ضیاع کو روکیں اور فوج کیلئے گندم کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ایک روسی فوج ایک دیہہ میں پہنچا اور ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ اپنی بطخوں کو گندم ڈال رہا تھا۔ فوجی نے گرفتاری کا حکم دیا تو دوسری طرف دیکھا کہ ایک روسی اپنی مرغیوں کو گندم کھلا رہا تھا، اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ تھوڑے فاصلے پر ایک بوڑھا روسی اپنی مرغیوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ فوجی نے کڑک کر اس روسی سے پوچھا کہ تم اپنی مرغیوں کو کیا کھلاتے ہو؟ روسی عقلمند تھا کہنے لگا میں تو اپنی مرغیوں کو کیش دے دیتا ہوں، وہ خود ہی بازار سے جا کر اپنی خوراک خرید لیتی ہیں۔ اب یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں مرغیاں اور بطخیں گندم کھا کر آٹا مہنگا اور نایاب کرنے کی ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ وفاقی حکومت کی گندم اور آٹے کے بارے میں غلط حکمت عملی سے سندھ میں آٹا مہنگا ہوا جس کے اثرات خیبر پی کے اور بلوچستان سے ہوتے ہوئے پنجاب تک پہنچ گئے۔ پاکستان فلور ملنگ کے دو بڑے لیڈروں ڈاکٹر بلال صوفی اور خلیق ارشد سے گفتگو ہوئی تو حقیقت حال کھل کر سامنے آئی۔ اس وقت پنجاب میں گندم اور آٹے کی صورت حال تسلی بخش ہے، پنجاب حکومت تین سو روپے کی سبسڈی فی سو کلو گندم پر فراہم کر رہی ہے، اب چند روز پہلے پنجاب حکومت نے گندم کی قیمت میں پچاس روپے اضافہ کیا یا دوسرے لفظوں میں پچاس روپے من سبسڈی کم کی کہ پنجاب نے گندم کی دوسرے صوبوں کو نقل و حرکت پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی ہے جس کی وجہ سے دوسرے صوبے پنجاب کی سستی گندم مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے سندھ میں گندم کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کا اثر آٹے کی قیمت پر پڑا اور آٹا مہنگا ہو گیا۔ اگر پنجاب کی طرح سندھ حکومت بھی میرٹ اور شفاف انداز میں گندم تقسیم کرتی تو فلور ملوں نے آٹا مہنگا نہیں کرنا تھا۔ مسئلہ سندھ میں منافع خور مڈل مین کی وجہ سے پیدا ہوا جس نے کرپشن کا سہارا لے کر فلور ملوں کو آٹے کی سپلائی میں کمی کرا دی ہے اور خود گندم خرید کر فلور ملوں کو نسبتاً مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سندھ میں عوام کو آٹے کی مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اس کا آسان ترین حل یہ ہے کہ اس وقت وفاقی حکومت کے پاس بیس لاکھ ٹن سے زیادہ گندم موجود ہے، اگر وفاقی حکومت صوبوں کو پانچ پانچ لاکھ من گندم سپلائی کر دے تو آٹے کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو جائے گا۔ دوسری طرف ایکسپورٹ کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب میں اس وقت ساڑھے ستائیس لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں، ماہانہ چھ لاکھ ٹن گندم فلور ملوں کو سپلائی کی جا رہی ہے اور تین مہینے بعد نئی بمپر فصل کٹنے کے لئے تیاری کے مراحل میں ہے۔ وفاقی حکومت فوری طور پر سندھ، بلوچستان اور خیبر پی کے کو گندم سپلائی کرے، ایکسپورٹ پر پابندی لگائے اور 1200 روپے کی امدادی قیمت واپس لے کر کاشتکار کو سستے داموں بیج، کھاد، زرعی ادویات اور ٹیوب ویلوں کے لئے سستے داموں بجلی فراہم کرے تو آٹا موجودہ قیمت پر دستیاب رہے گا ورنہ پھر تین ماہ کے اندر وقفوں وقفوں سے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور نئی فصل آنے پر آٹا اضافی امدادی قیمت کی وجہ سے غریبوں کیلئے مہنگا ہو جائے گا۔ غریبوں کو سستا آٹا فراہم کرنے کیلئے انڈیا کے PDS (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) کے کامیاب تجربہ سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایک نمائندہ وفد سٹڈی کیلئے وہاں بھیجا جائے کیونکہ اس سسٹم کی وجہ سے وہاں آٹا غریبوں کو تین سے چھ روپے کلو دستیاب ہے۔