”مجید نظامی گولڈ میڈل“

کالم نگار  |  اثر چوہان
”مجید نظامی گولڈ میڈل“

وفاقی وزیر مذہبی امور و بَین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف پاکستان میں ”نظام اِسلام کے نفاذ میں“ بہت پُھرتِیاں دِکھا رہے ہیں۔ اُن کا اصل کام تو پاکستان کے مختلف مذاہب کے لوگوں میں ”ہم آہنگی“ پیدا کرنا ہے لیکن وہ تو ”اتحاد بَین اُلمُسلمِین“ میں بھی دراڑیں ڈال رہے ہیں۔ مَیں اُن سے پوچھنے پر مجبور ہوں کہ....
 یوسف جی! آپ کا عقِیدہ کیا ہے؟
6 مئی کے ایک اخبار میں ایک خبر چھپی تھی جس سُرخی تھی ”حج فارم میں عقیدے کا خانہ“۔ چیئرمین سینٹ نے وفاقی وزیر مذہبی امور کو وضاحت کے لئے بُلا لیا“۔ خبر میں کہا گیا تھا کہ ”حج فارم میں عقِیدے کے خانے کے معاملے میں چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے وضاحت کے لئے وفاقی وزیرِ مذہبی امور و بَین اُلمذاہب ہم آہنگی کو ایوانِ بالا میں بُلا لیا۔ اس سے قبل 5 مئی منگل کو سینیٹر محسن عزیز نے ایوان کو بتایا تھا کہ ”حج فارم میں عقیدے کا نیا خانہ شامل کر لِیا گیا ہے۔ اِس کا نوٹس لِیا جائے کیونکہ اِس سے معاشرے میں بے چینی بڑھے گی“۔ اس پر چیئرمین جناب رضا ربانی نے قائدِ ایوان راجا ظفر الحق سے کہا کہ وضاحت کے لئے 6 مئی (بدھ) کو وفاقی وزیرِ مذہبی امور و بَین اُلمذاہب ہم آہنگی کو بُلایا جائے“۔
مجھے 7 مئی (جمعرات) کے اخبارات میں اِس طرح کی خبر نظر نہیں آئی کہ کیا سردار محمد یوسف، چیئرمین سینٹ کے بُلاوے پر گئے تھے یا نہیں؟ اور اگر گئے تھے تو انہوں نے کیا مو¿قف اختیار کِیا؟ کِتنا خوفناک ہے حج فارم میں عقیدے کا خانہ تو ”بین اُلمذاہب ہم آہنگی“ کا خانہ خراب کردے گا۔ سردار محمد یوسف جی! قائداعظم کی قیادت میں مختلف اُلعقاید مسلمانوں نے مُتحد ہو کر پاکستان بنایا تھا۔ یہ الگ بات کہ فرقہ پرست مولویوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔
”زرداری جی! ہتّھ ہولا رکھّو!“
مجھے جناب ذوالفقار علی بھٹو کا عروج و زوال دیکھنے کا موقع مِلا ہے۔ مَیں اُن کا فین بھی رہا ہوں اور مَیں نے حنیف رامے کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ ”نُصرت“ لاہور کے کالم نویس اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکاری ترجمان روزنامہ ”مساوات“ لاہور کے سینئر سب ایڈیٹر اور اپنے روزنامہ ”سیاست“ لاہور میں جناب بھٹو کے سیاسی مخالفین کے خلاف ”قلم دھنی“ کی حیثیت سے جوہر بھی دکھائے ہیں لیکن بھٹو صاحب کا اقتدار انقلاب کے منتظر غریبوں کے لئے ”داغ داغ اُجالا“ ہی رہا۔ بھٹو دَور میں روزنامہ ”سیاست“ بند کِیا گیا تو اُس دور کی پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل خورشید حسن مِیر اور پنجاب پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے پارٹی ڈسپلن کی پروا نہ کرتے ہوئے مجھ سے فیس لئے بغیر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سیّد نسیم حسن شاہ کی عدالت میں میری وکالت کی اور ”سیاست“ کو بحال کرالیا تھا۔
اپریل 1976ءمیں پورے ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی (شعبہ خواتین) کے انتخابات کرائے۔ میری مرحومہ اہلیہ بیگم نجمہ اثر چوہان پارٹی کی رُکن پنجاب اسمبلی اور بیگم نُصرت بھٹو کی چہیتی راولپنڈی کی مِس ناصرہ کھوکھر کو ہرا کر پیپلز پارٹی کی پنجاب کی سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئی تھیں۔ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 12 مخصوص نشستیں تھیں۔ میری اہلیہ کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ناصرہ کھوکھر کو دے دِیا گیا۔ چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کی حیثیت سے بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی کے بانی رکن مختار رانا کو مارشل لاءکے تحت چار سال سزا دِلوائی اور قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کرا دیا۔ اپنے جانشین جناب معراج محمد خان کو اور پارٹی کی اصولی کمیٹی کے رکن حنیف رامے کو چار چار سال کے لئے جیل بھجوایا۔ جناب خورشید میر کے اہل خانہ کو غنڈوں سے ہراساں کرایا۔ جیالوں نے میرے دفتر پر حملہ کر کے آگ لگائی، پارٹی کے بہت سے باغی لیڈروں اور کارکنوں نے عِلم بغاوت بلند کیا تو جناب بھٹو نے انہیں عبرت ناک سزائیں دِلوائیں۔
جناب آصف علی زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت، محترمہ بے نظیر بھٹو کے جہیز میں مِلی۔ لیکن جناب بھٹو کی پارٹی اب ختم ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی بغاوت جنابِ زرداری کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اپنے شوہرکی حفاظت کے لئے میدان میں آگئی ہیں۔ جناب زرداری کے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنے ”روحانی والد“ کے انجام کو یاد رکھیں اور ذوالفقار مرزا کے معاملے میں ”ہتھ ہولا رکھیں وگرنہ ”مرسُو ں مرسُوں، سندھ نہ ڈیسوں“ کا نعرہ لگانا بھی مشکل ہو جائے گا ۔
”مجید نظامی گولڈ میڈل“
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر خلیق الرحمن مُبارک باد کے مستحق ہیں کہ اُن کی سربراہی میں یونیورسٹی نے علاّمہ اقبال تقریری مقابلوں کے گولڈ میڈل کا نام ”آبروئے صحافت“ اور مجاہدِ تحریکِ آزادی ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کے نام سے منسوب کردِیا ہے۔ ڈاکٹر خلیق الرحمن کہتے ہیںکہ ”گولڈ میڈل کا نام جناب مجید نظامی سے منسوب کرنا ہماری یونیورسٹی کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے“۔ ڈاکٹر صاحب نے دُرست فرمایا۔ یکم اکتوبر 2013ءکو پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے جناب مجید نظامی کو اُن کی قومی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا تھا تو مَیں نے اپنی پنجابی نظم میں یہی بات کہی تھی۔ جِس کا ایک مِصرع ہے....
” کر کے قبول نظامی ہوراں ڈگری دا مان ودھایا اے“
گورنر پنجاب کی حیثیت سے چودھری محمد سرور نے یکم فروری 2013ءکو ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں مکّہ اور مدینہ کے مقاماتِ مقدّسہ کے عکس کو تصویروںکی صورت میں دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے عام کرنے والے پاکستان کے نامور مصّور (جلال پُور جٹّاں ضلع گجرات کے) جناب عظمت شیخ کی تصاویر کا افتتاح کِیا تھا۔ تقریب کے اختتام پرجنابِ عظمت شیخ نے مجھے کہا تھا۔ اثر چوہان صاحب! ”اگر مَیں بادشاہ ہوتا تو جنابِ نظامی کو اُن کی قومی خدمات پر سونے میں تول دیتا“۔ یہ جنابِ عظمت شیخ کی عظمت کا عکس تھا وگرنہ بادشاہوں کا کیا ہے؟ وہ تو ایسے لوگوں کو بھی سونے میں تولتے رہتے ہیں، جِن کو تاریخ نے کانسی میں تولنے کے بھی قابل نہیں سمجھا لیکن پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اور ڈاکٹر خلیق الرحمن تو خود ”بادشاہ گروں“ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر خلیق الرحمن کہتے ہیں کہ ”میری ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے تین طویل "Meetings" ہُوئیں جِن میں مَیں نے بہت کچھ سِیکھا اور پھر مَیں نے یونیورسٹی کو جنابِ نظامی کے افکارو نظریات کے مطابق چلایا اور چلا رہا ہوں۔ محترم نظامی صاحب، خود بھی"Ravian" تھے ڈاکٹر خلیق الرحمن صاحب! کسی بڑے انسان سے تین طویل ملاقاتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ ہندی زبان کے نامور شاعر گوسوامی تُلسی داس جی نے کہا تھا....
”ایک گھڑی، آدھی گھڑی، آدھی سے بھی آدھ
تُلسی سنگت سادھ کی، کُوٹ کٹے اپرادھ“
یعنی ”کسی دروریش صفت انسان کی صحبت میں ایک گھڑی، آدھ گھڑی یا چوتھائی گھڑی بھی رہنے سے اپرادھ (گُناہ) ختم ہو جاتے ہیں“۔ ڈاکٹر خلیق الرحمن نے کہا کہ ”جناب مجید نظامی نے اپنے قلم کی سیاہی سے باطل قُوتّوں کو ہمیشہ شکست دی“۔ محترم ڈاکٹر خلیق الرحمن صاحب! یہاں مجھے آپ سے اختلاف ہے ڈاکٹرمجید نظامی روشن ضمیر، روشن دماغ اور روشن نگاہ تھے۔ وہ اپنے قلم میں ”روشنائی“ استعمال کرتے تھے ”سیاہی“ نہیں!