مخولیہ سیاست کے شاہکار

کالم نگار  |  سعید آسی
مخولیہ سیاست کے شاہکار

آج کل سیاسی جماعتیں اچھے خاصے مخولیہ فیصلے کرنے میں سنجیدہ نظر آتی ہیں۔ جو کام کرنے کے ہیں، ان سے گریز پا اور جن کے کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونا، بدنامی اور ناکامی ضرور ہونی ہے ان میں پیش پیش۔ حکمران مسلم لیگ (ن) کو انتخابی ٹربیونل کے فیصلہ کے تحت لاہور کے حلقہ این اے 125میں دوبارہ انتخاب میں جانے اور عوامی مینڈیٹ حاصل کرکے عمران خاں کے منظم دھاندلی کے الزامات کو ناکارہ بنانے اور سیاسی میدان میں سرخرو ہونے کا نادر موقع ملا مگر اس کے لئے فائٹر خواجہ سعد رفیق کا کوئی جتن بھی کام نہ آیا اور وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ حکمران پارٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ٹربیونل کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا مخولیہ فیصلہ کر لیا گیا۔ بھئی دو ہفتے قبل ہی اس حلقے میں ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں ساری کی ساری نشستوں پر آپ کو اس حلقے کے عوام بھارتی مینڈیٹ دے چکے ہیں۔ آپ اس حلقے کے ضمنی انتخاب میں چلے جاتے تو یہی بھاری مینڈیٹ آپ کے گلے کا ہار بن جاتا اور مئی 2013ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کے سارے الزامات بھی دُھل جاتے۔ پھر اس سے بڑا سیاسی فائدہ بھلا آپ کو ہو سکتا تھا؟ مگر آپ تو اپنے ووٹروں پر اعتماد کرنے کو بھی تیار نہیں۔ اگر کل کو سپریم کورٹ نے بھی آپ کو انتخابی عمل میں جانے کی راہ دکھا دی تو آپ بادل نخواستہ اس حلقے کے ووٹروں کے پاس جائیں گے اور اپنی سیاسی ساکھ کی خود ہی بھد اڑائیں گے۔ بھئی اس مخولیہ طبیعت نے آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑا بس ؎
تکمیل ضروری ہے، اِدھر ہو کہ اُدھر ہو
ناکردہ گناہی بھی گناہوں میں چلی آئے
آپ خود ہی ناکردہ گناہی کو اپنے گناہوں کے کھاتے میں ڈلوانے کے درپے ہیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ جائیے اور بھگتئے مگر یاد رکھئے کہ قدرت سرخروئی کا موقع ایک بار ہی دیا کرتی ہے بار بار نہیں۔ اور سابق حکمران پیپلز پارٹی تو قدم قدم پر مخولیہ فیصلے کرتی خود کو راندۂ درگاہ بنانے پر دانستاً تلی بیٹھی نظر آتی ہے۔ پہلے بلاول برخوردار کے لئے زرداری اور بھٹو کا ملغوبہ تیار کرکے زرداری سیاست کو بھٹو سیاست کی بیساکھیاں فراہم کی جاتی ہیں اور اس ملغوبے کی تاثیر سے جب ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات بلاول کے سر پر بھٹو ازم کی سیاست جادو کی طرح سر چڑھ کر بولنے کی تیاری کرتی ہے تو برخوردار کے پائوں کے نیچے سے سیڑھی سرکا لی جاتی ہے اور سیاسی بالغ قرار دئیے گئے اس برخوردار پر سیاسی نابلوغیت کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے۔ یہ اس پارٹی کی سیاست کے ساتھ ڈرائونا مذاق ہے یا گھنائونا؟ اس کا نتیجہ لنکا ڈھانے والے گھر کے بھیدی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ہی نہیں، ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا کی زبانی بھی بہت جلد سامنے آنے والا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اپنی سیاسی بقا کے حوالے سے جان کنی کی کیفیت میں مبتلا اس پارٹی کی قیادت اپنی ماضی کی غلطیوں پر کتھارسس کے عمل سے گزر کر اپنی صفیں درست کرنے اور پارٹی کے تن مردہ میں بھٹو ازم کی روح پھونکنے کا کوئی جتن کرتی مگر اس پارٹی کی سی ای سی نے، ظاہر ہے زرداری صاحب کی سربراہی میں ہی اپنے دو روز قبل کے اجلاس میں پارٹی کو درپیش موجودہ تمام چیلنجز لپیٹ کر دور کی کوڑی لاتے ہوئے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس کو سپریم کورٹ میں ری اوپن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ مخولیہ ہی نہیں، سفاکانہ بھی ہے اور مجھے تو اس فیصلہ کی خبر پڑھ کر یہ فیصلہ کرنے والے سی ای سی کے ارکان کے 36سال پہلے والے کردار کا جائزہ لے کر ہی ہنسی آنے لگی۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ سی ای سی کے سارے ارکان سے پوچھ لیا جائے کہ 36سال پہلے بھٹو مرحوم کی پھانسی کے وقت وہ خود کہاں تھے، کیا کرتے پھرتے تھے اور انہوں نے بھٹو مرحوم کی پھانسی رکوانے کے لئے کیا جتن کئے تھے۔ خود آصف علی زرداری صاحب تو اس وقت اپنے والد کی پارٹی اے این پی کی ان صفوں میں موجود تھے جہاں بھٹو مرحوم کی پھانسی کی سزا کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی تھیں۔ میں نے چونکہ بھٹو مرحوم کے خلاف چلنے والے نواب محمد احمد خاں کے مقدمہ قتل کی لاہور ہائیکورٹ میں کوریج کی ہوئی ہے اس لئے بہت سے چہروں کی جھلکیاں ان کے کرداروں کے ساتھ میں نے بھی دیکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت کے اب تک بچ رہنے والے بھٹو کے وفاداروں کی غالب اکثریت تو اس پارٹی میں آج ویسے ہی راندۂ درگاہ ہو چکی ہے۔ زیادہ کان سے پکڑ کر نکال باہر کئے گئے ۔ جو پیچھے رہ گئے وہ تنہائی کا شکار ہوتے گھٹ گھٹ کر مر گئے یا کنارہ کش ہو گئے۔ پیپلز پارٹی کے پبلک جلسوں میں ’’بھٹو دے نعرے وجن گے‘‘ کا جوش دلانے والے اس پارٹی کے عوامی شاعر معظم علی معظم کسمپرسی کی حالت میں اگلے جہان جا سدھارے اور بھٹو قتل کیس کو ری اوپن کرانے کا نعرہ لگانے والوں میں سے کسی کو اس کے گھر جا کر لواحقین کو پرسہ دینے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ بھٹو کی پھانسی رکوانے کے لئے بھاٹی گیٹ لاہور کے باہر جل مرنے والے جیالوں کے ناموں کا بھی اس پارٹی کی سی ای سی کے ارکان کو علم نہیں ہو گا۔ ان میں بھی اوکاڑہ کے دو جیالے شامل تھے اور پھر 1986ء میں پیپلز پارٹی کے احتجاجی جلوس کے دوران پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے پیپلز پارٹی کے 9جیالوں میں سے بھی زیادہ تر کا تعلق اوکاڑہ سے تھا۔ بھئی اپنی پارٹی کی سی ای سی سے پوچھ لیجئے، اوکاڑہ کے ان جیالوں کے لواحقین کو کس نے کیا سہارا دیا اور ان کے آج کے حالات کی کس کو خبر ہے۔ میاں منظور وٹو صاحب میرے بھائی ہیں مگر وہی بتا دیں کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے بھٹو مرحوم کی زندگی کی خاطر خودسوزی کرنے والے اور پھر پولیس فائرنگ کا لقمہ بننے والے ان جیالوں جن کا تعلق ان کے اپنے ضلع سے ہے، کے گھروں میں کبھی جا کر ان کے لواحقین کا حال احوال دریافت کیا؟ اب یہ سارے حضرات چلے ہیں بھٹو قتل کیس کو ری اوپن کرانے جس کے مواقع اپنے اقتدار کے تینوں ادوار میں تو ضائع کر دئیے گئے حالانکہ ری اوپن کرانے کے لئے یہ مضبوط ترین کیس تھا۔ اب شہید محترمہ سے کوئی جنت میں جا کر یہ پوچھنے سے تو رہا کہ انہوں نے اپنے اقتدار کی دو ٹرمیں نبھائیں۔ ان کے والد کے قتل کا کیس ان سے انصاف کا متقاضی تھا۔ وہ تو پھانسی کے پھندے پر جھول چکے تھے۔ اس لئے ان کی زندگی تو وایس نہیں لوٹ سکتی تھی چنانچہ اس وقت بھی کیس ری اوپن کرانے کا مقصد اس کیس میں ہونے والی ناانصافی کو اجاگر کرانے اور بھٹو مرحوم کی ذات سے قاتل کا لیبل اتروانے کا ہی ہو سکتا تھا۔ سری لنکا کے سابق چیف جسٹس راجہ رتنم اپنی خود نوشت میں بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے کر پیپلز پارٹی کی اس وقت کی قیادت کو راستہ بھی دکھا چکے تھے مگر اب کون پوچھے کہ اس وقت کیا مصلحت تھی جو اس کیس کو ری اوپن کرانے میں آڑے آئی۔ پھر زرداری صاحب نے تو کمال ہی کر دیا۔ ان کے لئے بھٹو قتل کیس ہی نہیں، اپنی اہلیہ محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل کیس بھی ایک چیلنج اور انصاف کا متقاضی تھا۔ مگر انہوں نے تو اپنی اہلیہ کے قتل کی خود ایف آئی آر کٹوانے میں بھی دلچسپی نہ لی اور محترمہ کے قاتلوں کو جن کے بارے میں وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس کا سارا علم ہے، یہ فرمان جاری کرکے صدق دل سے معاف کر دیا کہ جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے۔ اگر انہوں نے اپنے بھرپور اقتدار کے پانچ سالوں کے دوران بھٹو قتل کیس کو ری اوپن کرانے کی پیش رفت کا بھی کبھی نہ سوچا اور اپنی اہلیہ کے قاتلوں کے ساتھ بھی مفاہمت کر لی جن کے خلاف ان کی اہلیہ نے خود اپنی زندگی میں ایف آئی آر کٹوا دی تھی تو اب انہیں 36 سال بعد بھٹو مرحوم کا مردہ خراب کرانے کی حاجت کیوں پیش آ گئی ہے۔ بھئی کوئی تو اس گتھی کو سلجھا دے آ کر۔ کوئی قمرالزمان کائرہ، کوئی مخدوم امین فہیم، کوئی جہانگیر بدر، کوئی قائم علی شاہ، ارے کوئی تو بولے۔ پھر ’’ہم بولے گا تو بولو گے کہ بولتا ہے‘‘ آج آپ کو ضرورت ہے بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک لے جانے کی یا بھٹو مرحوم کی روح کو پھر کٹہرے میں لا کر انہیں اذیت پہنچانے کی؟ اور آج آپ سربازار دھوئے جانے والے اپنے گندے کپڑوں کو تو لپیٹ لیں۔ ذوالفقار مرزا کو تو کچھ دے دلا کر رام کر لیں۔ گزشتہ انتخابات میں اٹھائی گئی اپنی ہزیمتوں کا تو کچھ ازالہ کر لیں مگر آپ تو اپنی پارٹی کو درپیش اصل ایشوز سے کان لپیٹتے اور نان ایشو کو بے وقت کی راگنی بنا کر اپنے لاتعلق ہوئے بیٹھے پارٹی جیالوں کو پارٹی کی سیاست سے مزید بدگمان کرنے کا بھونڈا مخول کرنے کی ٹھانے بیٹھے ہیںتو پھر ؎
آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکائت ہو گی