فرانسیسی خاتون سفیر کا ایجنڈا

کالم نگار  |  جاوید صدیق
فرانسیسی خاتون سفیر کا ایجنڈا

مغربی ممالک پاکستان میں خواتین سفیر بھیجنے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔ مرد سفیروں کی جگہ کسی خاتون کو اپنا سفیر بنانے کی روایت امریکہ نے قائم کی۔ جب امریکہ میں نائن الیون ہوا تو پاکستان میں اس وقت امریکہ کی خاتون سفیر وینڈی چیمبرلین تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ نائن الیون کے چند روز بعد وینڈی چیمبر لین نے اسلام آباد میں اپنی اقامت گاہ پر چند صحافیوں کو بلا کر نیویارک میں ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے حملے کے بارے میں بریفنگ دی۔ سفیر صاحبہ کا کہنا تھا کہ تمام تر شہادتوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کا کیا دھرا ہے۔
وینڈی چیمبرلین بہت متحرک سفیر تھیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک کے سفارت کاروں کے اہل خانہ ممکنہ سیکورٹی خطرات کے پیش نظر واپس اپنے ملکوں کو چلے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وینڈی چیمبرلین نے امریکی محکمہ خارجہ کو رپورٹ دی کہ پاکستان میں صورت حال نارمل ہے۔ جس پر بعض امریکی سفارت کاروں کے اہل خانہ واپس آ گئے۔ بدقسمتی سے انہی دنوں امریکی سفارت خانہ کے قریب چرچ میں دھماکہ ہو گیا جس سے کچھ سفارت کار اور ان کے خاندان کے ارکان ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ کے بعد وینڈی چیمبر لین واپس امریکہ چلی گئیں‘ وینڈی چیمبر لین کے بعد امریکہ نے پاکستان میں خاتون نینسی پاول کو سفیر مقرر کیا جو 2002 سے 2007 تک پاکستان میں امریکہ کی سفیر رہیں 2007 میں امریکہ نے ایک مرتبہ پھر ایک خاتون سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو سفیر مقرر کر دیا جو 2007 سے 2012 تک پاکستان میں سفیر رہیں۔ ان کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اونچ نیچ تو ہوتی رہی لیکن پاک اور امریکہ کے تعلقات میں کوئی بڑا بگاڑ نہیں پیدا ہوا۔
این ڈبلیو پیٹرسن کے بعد کیمران سنٹر سفیر بن کر آئے تو اتحادی فوجوں نے پاکستان سرحد میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ دوعملی کے طور پر پاکستان نے اتحادی فوجوں کیلئے پاکستان کے زمینی راستے سے اتحادی فوجوں کے لئے سامان کی فراہمی روک دی۔ یہ بحران کئی ہفتوں تک جاری رہا‘ یہی بحران کیمرون سنٹر کی سفارت کے خاتمے کا سبب بنا۔
بات خاتون سفارت کاروں کی ہو رہی تھی۔ اس سال مغربی ممالک کی دو خواتین سفیر بن کر آئی ہیں‘ فرانس نے پہلی مرتبہ پاکستان میں ایک خاتون کو سفیر بنا کر بھیجا ہے۔ مسٹر مارٹن ڈورنس کو پاکستان میں آئے ہوئے چھ ماہ گزر گئے ہیں ان کی آمد کے فوراً بعد پیرس میں چارلی ایبڈو نامی میگزین میں گستاخانہ خاکے شائع ہونے پر اس کے دفاتر پرحملہ کیا گیا جس میں گیارہ افراد مارے گئے۔ اس واقعہ کے بعد فرانسیسی سفیر مسز مارٹن ڈورنس قدرے کم متحرک رہیں۔ جمعرات کے سہ پہر فرانسیسی سفیر نے اپنی اقامت گاہ پر اسلام آباد کے چیدہ چیدہ صحافیوں کو ایک استقبالیہ دیا۔
پاکستان کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ ایک بہت اہم اور دلچسپ ملک ہے۔فرانس کے ساتھ پاکستان کی تجارت ایک ارب ڈالر ہے۔جسے مسز مارٹن ڈورنس بڑھانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دو سو سے زیادہ پاکستانی طلبہ سکالر شپس پر فرانس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کا کہناتھا کہ پاکستانی طلبہ بہت ذہین ہیں اور سائنس ریاضی اوردوسرے سائنسی علوم جلدی سیکھ لیتے ہیں۔اس سال کے آخر میں فرانس ماحولیات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر رہا ہے فرانسیسی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی قدرتی آفات کی زد میں آ جاتا ہے۔ فرانس کی کئی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ فرانس کی خاتون سفیر اپنے دور سفارت میں پاک فرانس تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ایک بھرپور ایجنڈا پر کام کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان میں اس وقت دو اور خواتین بھی بطور سفیرکام کر رہی ہیں۔ آسٹریا کی نئی سفیر خاتون ہیں اور اسلامی ملک لبنان نے بھی ایک خاتون کو پاکستان میں سفیر بنا کر بھیجا ہے۔ اس وقت پاکستان میں تین خواتین سفیر ہیں۔گزشتہ برس پاکستان میں ناروے کی سفیر خاتون تھیں۔ اور اس سے پہلے سویڈن کی سفیر بھی ایک خاتون ہی تھیں۔ مغربی ملکوں نے اب پاکستان میں خواتین کو سفیرمقررکرنا شروع کیا ہے۔ بعض خواتین سفرا اپنے مرد رفقاء کار کے مقابلے میں زیادہ محنت اور توجہ سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسز مارٹن ڈورنس بھی اپنے مرد پیش رواں کو مات دینے کی خواہش رکھتی ہیں۔