رفیق رجوانہ کو گورنر پنجاب بنانے پر ’’داد و تحسین کے ڈونگرے‘‘ برسائے

رفیق رجوانہ کو گورنر پنجاب بنانے پر ’’داد و تحسین کے ڈونگرے‘‘ برسائے

 اب سینٹ کے حوالے سے یہ بات خبر نہیں رہی کہ اجلاس کی کارروائی کا برووقت آٖغاز ہوا ہے بلکہ خبر یہ ہے کہ سینیٹ کے اجلاس کا دورانیہ کتنا رہا، چیئرمین سنیٹ نے جہاں طویل اجلاس منعقد کر کے ارکان کو تھکا دیتے ہیں وہاں اب اخبار نویسوں نے بھی چیئرمین سنیٹ سے شکوہ کیا ہے جہاں آپ نے اجلاس بروقت شروع کرنے کی روایت قائم کی ہے وہاں اجلاس بھی بروقت ختم کر دیا کریں، جمعرات کو  پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی تقریب ملاقات میں کھل کر جمہوریت کا تحفظ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے جمعرات کو بھی ایوان پونے چار بجے تک سجائے رکھا، دوسری طرف قائد ایوان راجہ ظفرالحق بھی اپنے ’’سیاسی لشکر‘‘ کو ایوان میں موجود رہنے کے لئے ان کا تعاقب کرتے رہتے ہیں، جمعرات کو بھی چیئرمین سینٹ نے ہی پورے اجلاس کی صدارت کی، شاید صدارت کا موقع نہ ملنے پر مایوس ہو کر ایوان میں ڈپٹی چیئرمین نہیں آئے، قائد ایوان راجہ ظفرالحق اور قائد حزب اختلاف ایوان میں ہمہ تن موجود رہے، چیئرمین میاں رضا ربانی نے سنیٹر رفیق رجوآنہ کو گورنر پنجاب بننے پر مبارکباد دی اور کہا کہ میرے لئے ایک اچھی اور بری خبر بھی ہے کہ سنیٹر رفیق رجوانہ کو پنجاب کا گورنر بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرے گا لیکن یہ ایوان ان کی غیر موجودگی کو شدت سے محسوس کرے گا۔ جمعرات کو رفیق رجوان آئے تو پورے ایوان نے ان کو پرتپاک طریقے سے الوداع کیا ،ارکان نے کہا کہ رفیق رجوانہ ر قومی سوچ رکھنے والے باوقار سیاستدان ہیں ۔ ایوان بالا کے اراکین کو چئیرمین سینٹ کے بعد گورنر پنجاب کے انتخاب سے ایک اور خوشی ملی ہے۔ ان کا انتخاب وزیراعظم نواز شریف کا احسن فیصلہ ہے جس پر وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں حتیٰ کہ اعتزاز احسن جو حکومتی فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے رہتے ہیں انہوں نے بھی اس فیصلے اور انتخاب پر نواز شریف کی تائید کی، مشاہد حسین سید، جاوید عباسی، الیاس بلور، محسن لغاری، سعیدالحسن مندوخیل، غوث محمد، نسیمہ احسان، طلحہ محمود، محسن عزیز، تنویرالحق تھانوی، میرکبیر، فرحت اللہ بابر، سردار اعظم موسیٰ خیل، سحر کامران، عثمان کاکڑ، بیرسٹر محمدعلی سیف، صالح شاہ، ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، جنرل (ر)سید صلاح الدین ترمذی، روبینہ عرفان اور اقبال ظفر جھگڑا اور سلیم مانڈوی والا سمیت سب نے ہی رفیق رجوانہ کو گورنر پنجاب بننے پر مبارکباد دی۔ میاں رضا ربانی نے ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل کے نکتہ اعتراض پر گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں سیاسی جماعتوں کے جرگے کی طرف جی بی کے آئندہ عام انتخابات میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کانوٹس لیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ آج ایوان میں واقعہ کے بارے رپورٹ  پیش کرے، راجہ ظفرالحق نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ گورنر گلگت بلتستان سے بات کر کے تمام حقائق ایوان میں پیش کریں گے۔ مولانا عطاالرحمان نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں زیر بحث نہ لانے کا معاملہ اٹھایا جس پر چیئرمین نے یقین دلایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس پر بھی بحث کرائی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جام کمال نے نے انکشاف کیا ہے کہ قطر سے ایل این جی کی درآمد کا معاہدہ آخری مرحلے میں ہے، معاہدے کو چند روز میں حتمی شکل دیدی جائے گی، مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینٹرز نے جمعرات کو ایوان بالا میں قومی پالیسی کے رہنماء اصول  مشاہدات اور عملدرآمد پر 12 اگست 2014ء کو ایوان میں پیش کردہ سالانہ رپورٹ برائے سال 2011-12ء کو زیر بحث لانے کی تحریک پر بحث میں حصہ  لیا ۔ فرحت اللہ بابر نے ایک دھواں دار تقریر کی انہوں نے کہا کہ اب قومی سلامتی کے نام پر آئین کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پرنسپل آف پالیسی پر پہلی بار ایوان بالا میں باضابطہ بحث ہو رہی ہے جس پر چیئرمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔